کراچی میں ہولناک دھماکے

کراچی میں ہولناک دھماکے

کراچی کی ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاﺅن میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں45افراد جاں بحق اور135زخمی ہو گئے، جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکوں سے چھ بلڈنگوں میں سینکڑوں فلیٹس اور دکانوں کو نقصان پہنچا، دو عمارتیں مکمل تباہ ہو گئیں، قریبی رہائشی فلیٹس میں آگ لگ گئی، دھماکوں کی آوازیں کئی کلو میٹر دُور تک سنی گئیں، پہلا دھماکہ موٹر سائیکل پر نصب بم سے کیا گیا اور دھماکے میں نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسرے دھماکے میں بارود سے بھری کار بجلی کے کھمبے کے ساتھ کھڑی کر کے اُڑا دی گئی، ٹرانسفارمر پھٹنے سے قریبی رہائشی علاقوں میں آگ لگ گئی، دہشت گردی کی اِس واردات سے پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا، پیر کو پنجاب اور سندھ میں سوگ منایا گیا۔

یوں تو کراچی میں روزانہ لاشیں گرتی ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، نامعلوم افراد گولیوں کی بوچھاڑ کر کے لوگوں کو آناً فاناً موت کی وادی میں دھکیل دیتے ہیں، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے، دھماکوں والے دن بھی فائرنگ کے واقعات میں چار پولیس اہلکاروں سمیت11افراد جاں بحق ہو گئے، لیکن ان سارے واقعات میں ملوث کوئی ملزم بھی گرفتار نہیں ہوا،گرفتاری تو دُور کی بات ہے یہ تک معلوم نہیں ہو سکا کہ جن لوگوں نے سفاکی کے ساتھ دھماکے کئے وہ کون لوگ تھے۔ یہ کوئٹہ سٹائل کے دھماکے تھے جہاں ایک کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کی، لیکن کراچی دھماکوں میں ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول کی ہے نہ پولیس نے کوئی گرفتاری کی۔ البتہ وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت734دہشت گرد گرفتار کرے تو ملک میں امن ہو جائے گا۔ یہ نہیں معلوم کہ وزیر داخلہ کا یہ بیان کس حد تک سنجیدگی لئے ہوئے ہے اور اس کے سیاسی محرکات کتنے ہیں، اس وقت تک تو بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دھماکے کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب نظر آتے ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں دھماکے کر گزرتے ہیں اور انتظامیہ کے لمبے ہاتھ اُن تک نہیں پہنچ پاتے۔

دہشت گردی کے ان واقعات کے محرکات کیا ہیں؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ نائن الیون کے بعد ہمارے ہاں یہ سلسلہ تیز ہو گیا، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے تھے، مگر اِکا دُکا، لیکن بعدازاں یہ سلسلہ اتنا پھیل گیا ہے کہ بظاہر نظر آتا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث ملزموں تک رسائی آسان نہیں۔ دہشت گرد افراد یا تنظیمیں اِس لحاظ سے تربیت یافتہ ہیں کہ وہ کامیابی سے دھماکے کر کے روپوش ہو جاتے ہیں اور ہماری قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے وابستہ حکام مُنہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ کراچی میں پولیس اور رینجرز امن عامہ کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، لیکن بظاہر دونوں اِس ضمن میں ناکام نظر آتے ہیں، یہ بھی گمان گزرتا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس بھی اِس سلسلے میں کافی معلومات نہیں ہوتیں۔ البتہ پچھلے دنوں وزیر داخلہ نے خیال ظاہر کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں کراچی میں دہشت گردی کے واقعات ہوںگے، لیکن ان کی نوعیت کیا ہو گی، اِس بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

کراچی کی پولیس کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ اس میں ایسے لوگ بھرتی ہو چکے ہیں ، جن کی سیاسی وابستگیاں ہیں وہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی ممکنہ کارروائی سے پہلے متعلقہ لوگوں کو آگاہ بھی کر دیتے ہیں تاکہ وہ کسی کارروائی کی زد میں نہ آئیں، سیاسی وابستگیوں کی بنا پر پولیس فورس سے کچھ بڑی کامیابی کی امید عبث ہے۔ پھر پولیس میں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ جرائم میں بھی ملوث ہیں، بھتہ خوری کی وارداتیں بھی وہی کرتے یا کراتے ہیں، کیا کوئی ایسی پولیس فورس سے یہ توقع باندھ سکتا ہے کہ وہ بلا رو رعایت ملزموں کو قانون کی روشنی میں گرفتار کرے گی اور گرفتاری کے بعد اسے عدالتوں سے سزا دلوائے گی۔ اول تو ایسی فورس کسی ایسے شخص کو گرفتار ہی نہیں کرے گی اور اگر کوئی ملزم گرفتار ہو بھی جائے تو پہلے اسے مفرور کرانے کی کوشش کرے گی اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو پھر ایسا کمزور مقدمہ بنوائے گی کہ ملزم کو سزا نہ ہو سکے، چنانچہ ملزم عدالتوں سے اسی لئے بَری ہو جاتے ہیں کہ اُن کے خلاف ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ مقدمے نہیں بنتے اور نہ عدالتوں میں ایسے شواہد پیش کئے جاتے ہیں، جن کی بنا پر ملزموں کو سزا ہو سکے ۔اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ اگر صحیح معنوں میں ملزموں کا تعاقب کرنا ہے تو ایسی پولیس فورس تشکیل دی جائے جو سیاسی وابستگیوں سے پاک صاف ہو۔ گزشتہ چار پانچ سال میں ایسے ملزم پیرول پر رہا ہو چکے ہیں جو مختلف جرائم میں ملوث تھے۔ عین ممکن ہے یہ لوگ بھی جرائم کی مختلف وارداتوں میں ملوث ہوں ۔ سپریم کورٹ نے ان سب ملزموں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن گرفتاریاں نہیں ہو سکیں۔

کراچی میں دہشت گردی کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مختلف النوع جرائم بھی عام ہیں بھتہ خوروں کے حوصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ اب تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں سے بھی بھتہ طلب کرتے ہیں جو گھر بناتے ہیںیا گاڑی خریدتے ہیں۔ چند روز قبل کراچی کے ایک سینئر صحافی کو ایک تیزرفتار کار نے کچل کر ہلاک کر دیا۔ اس صحافی نے اپنی رہائش کے لئے ایک گھر بنایا تھا اور اُسے بھتے کی پرچیاں موصول ہو رہی تھیں، لیکن اُس نے بھتہ خوروں کو نظر انداز کر دیا، جنہوں نے اُس صحافی کی سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی، چنانچہ اُسے کار کی زد میں لے کر کچل دیا گیا۔ اب جس شہر میں بھتہ خوری باقاعدہ کاروبار بن گئی ہو اور بھتہ نہ دینے والوں کو مختلف طریقوں سے قتل کر دیا جاتا ہو اور کروڑوں کا بھتہ لینے والوں کو کوئی ہاتھ نہ ڈالتا ہو، وہاں منظم دہشت گردی کرنے والوں اور دہشت گردی کی جدید ترین ٹیکنیک استعمال کرنے والوں کا سراغ کون لگائے گا اور انہیں کون پکڑے گا؟

عباس ٹاﺅن کے دھماکوں کے سلسلے میں ایک افسوسناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ دھماکوں کے بعد کافی دیر تک سیکیورٹی فورسز کے اہلکار موقع پر نہیں پہنچ سکے تھے، ممکن ہے وہ کسی زیادہ اہم ذمے داری کی ادائیگی میں مصروف ہوں، لیکن شہریوں کو دہشت گردی کی وارداتوں سے بچانا اگر ممکن نہ تھا تو انہیں فوری طور پر طبی امداد تو بہرحال پہنچائی جا سکتی تھی، لیکن کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں اب ایسی بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی آسان نہیں رہی۔ایسا بھی ہوا کہ ماضی میں ایک دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال جا کر گولیاں مار دی گئیں۔ عباس ٹاﺅن کے واقعے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسی وارداتیں روکنے کے لئے لائحہ عمل تیار کریں، لیکن پولیس کو سیاسی اثرات سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی بہتر تربیت بھی ضروری ہے، جہاں دہشت گرد جدید اسلحے سے لیس ہوں گے اور دہشت گردی کے جدید طریقوں سے بہرہ ور ہوں گے وہاں فرسودہ ہتھیاروں سے مسلح غیرتربیت یافتہ فورس کا اُن سے نپٹنا مشکل ہو گا۔

مزید : اداریہ