سپریم کورٹ کھربوں کے قرضے معاف کرانے کا نوٹس لے: آفتاب لودھی

سپریم کورٹ کھربوں کے قرضے معاف کرانے کا نوٹس لے: آفتاب لودھی

لاہور(جنرل رپورٹر) چیئر مین پاکستان عوامی تحریک انقلاب پروفیسر آفتاب لودھی نے ایک کھرب 38 ارب 62 کروڑ60 لاکھ کے قرضے گزشتہ پانچ سالوں میں معاف کروانے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس امر کا فوری نوٹس لے۔ گزشتہ روز انقلاب فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ وہ کونسے غرباءاور مساکین ہیں جن کے اربوں روپے کے قرضے سٹیٹ بنک سے معاف کروائے گئے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ قرضے معاف کروانے والوں کی تفصلات قوم کو بھی بتائیں جائیں اور قومی بیت المال کی اس لوٹ مار کرنے والوں سے قرضے واپس وصول کئے جائیں۔ معاف کروانے اور معاف کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے اور اگر ان میں ایسے مراعات یافتہ لوگ ہیںجو آئندہ انتخابت میں پھر سے امیداوار ہوں تو ان خائنوں او ان کے تمام عزیزوں اور تعلقین کو انتخابات میں حصہ لینے سے ناالہ قرار دیا جائے۔ پروفیسر آفتاب لودھی نے کہا کہ پچھلے 65 برسوں میں اشرافیہ نے قومی بیت المال کو لوٹ کر کنگال کردیا ہے اور جو قومی قرضے 16000 بلین روپے تک پہنچ گئے ہیں ان کا بوجھ غربت، بھوک اور مہنگائی کے مارے ہوئے غریب عوام پر ہی رہے گا کیونکہ کہ اشرافیہ تو انتخابات میں کروڑوں گا کر اربوں روپے وصول کرلیتے ہیں۔ پرفیسر آفتالب لودھی نے کہا کہ ہمارا انتخابی نظام کرپشن کے مواقع فراہم کرتا ہے جس میں صرف وڈیرے ہی کامیاب ہوسکتے ہیں اور قوم کو خبردار کیاکہ ان کے ایک غلط فیصلے کی طزا ان کو عمر بھر بھگتنا پڑے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1