فنڈز کی قلت ، ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بحال نہ ہوسکی

فنڈز کی قلت ، ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بحال نہ ہوسکی

لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں فنڈز کی شدید قلت کے باعث مفت علاج معالجہ کی سہولت بحال نہیں ہوسکی۔ گائنی، آرتھوپیڈک، یورالوجی، سرجری اور کارڈیک وارڈوں میں مریضوں کی جیبیں کاٹی جارہی ہیں بتایا گیا ہے کہ محکمہ خزانہ اور صحت نے رواں مالی سال کے دوران ہسپتالوں کے لئے منظور کردہ بجٹ کے مطابق فنڈز جاری نہیں کئے جس کے باعث ہسپتال انتہائی معاشی بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں واقع بڑے ہسپتالوں جنرل ہسپتال، جناح ہسپتال، چلڈرن ہسپتال، لیڈی ایچی سن، لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مفت علاج معالجہ کی سہولت مکمل طور پر بند ہوچکی ہے جبکہ شہر کے تمام ہسپتالوں میں کلینیکل اور ریڈیالوجی ٹیسٹوں پر بھاری فیس عائد کردی گئی ہے اور آﺅٹ ڈور میں مفت علاج معالجہ کی سہولت مکمل طور پر بند کردی گئی ہے سب سے زیادہ برے حالات جنرل ہسپتال میں ہیں جہاں مریضوں سے دماغ یا نیوروسرجری میں مہنگی ترین اور مخصوص کمپنی کی ادویات اور انجکشن منگواکر لوٹا جارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی طرف سے شہر کے ہسپتالوں کے لئے منظور کئے گئے سالانہ بجٹ کے مطابق ہسپتالوں کے فنڈز جاری نہیں کئے۔ رولز کے مطابق اگر محکمہ خزانہ بجٹ میں رکھے گئے فنڈز میں کمی وبیشی کرنا چاہتا ہو یا اس کی مجبوری ہو تو اس کے لئے ترمیم کرانے کے لئے پنجاب اسمبلی سے بھی منظور ی لینا پڑتی ہے مگریہاں باوا آدم ہی نرالا ہے پنجاب اسمبلی سے فنڈز میں کمی وبیشی کے لئے ترمیم منظور نہیں کرائی گئی اور ہسپتالوں کے فنڈز میں شدید کمی کردی گئی جس سے ہسپتال شدید مالی بحران کا شکار ہوچکے ہیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور جیسے ہسپتال جہاں ایک ایک دل کے آپریشن پر لاکھوں روپے خرچہ آتا ہے اس کے فنڈز میں بھی کمی کی گئی ہے اس طرح دیگر ہسپتالوں کے فنڈز میں بھی شدید کمی کی گئی جس سے غریب مریضوں سے مفت علاج معالجہ خصوصاً مفت آپریشن کی سہولت میسر نہیں رہی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال میں نیوروسرجری، آرتھوپیڈک سرجری سمیت ہر قسم کے گائنی آپریشن کرانے والے مریضوں سے ادویات اور دیگر آلات بازار سے منگوائے جاتے ہیں یہی عالم جناح ہسپتال میں ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آﺅٹ ڈورز کے مریضوں پر مفت ادویات کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔ ایکسرے، الٹرا ساﺅنڈ، سی ٹی، ایم آر آئی سمیت اس اقسام کے ٹیسٹوں پر چارج کیا جارہا ہے۔ اور عام مارکیٹ سے ملتے جلتے ریٹ وصول کئے جاتے ہیں۔ فیس کی ادائیگی نہ کرنے والے مریضوں کو ٹیسٹ کے لئے لمبی تاریخ دے کر لال بتی کے پیچھے لگادیا جاتا ہے اس طرح آپریشن تھیٹروں میں دوبارہ پرچی سسٹم لاگو کردیا گیا ہے گائنی کے آپریشن مکمل طور پر مفت ہیں ان سے ہزاروں روپے ادویات فی آپریشن منگوائی جاتی ہیں جس سے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج معالجہ کی خواہش سے آنے والے غریب مریضوں پر علاج معالجہ کا حق چھیننے کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔اس حوالے سے وزیراعلی کے معاون حصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات کرائیں گے انہوں نے کہا کہ تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسی 100 فیصد فری ہے دیگر شعبہ جات میں بھی تحقیقات کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کٹوتی نہیں کی گئی مریض لوگوں نے افوا پھلا رکھی ہے اس میں حقیقت نہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1