اسرائیل نے فلسطینیوں کےلئے لگ بس سروس کا آغاز کر دیا

اسرائیل نے فلسطینیوں کےلئے لگ بس سروس کا آغاز کر دیا

بیت المقدس (اے پی پی) دنیا بھر میں مساوی بنیادی انسانی حقوق ، نسلی امتیازات کے خاتمے اور ہر رنگ ونسل کے لوگوں کو ترقی کے یکساں مواقع مہیا کرنے کا مطالبہ زوروں پر ہے لیکن یہ سب نعرے کمزور ریاستوں کو دبانے کے لیے ہیں لیکن صہیونی ریاست اسرائیل نے دنیا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی پروا نہ کرتے ہوے نہ صرف فلسطینیوں کی سرزمین پرقابض ہے بلکہ ان کے خلاف آئے دن جارحانہ کارروائیاں بھی کر تی رہتی ہے ۔اب اس نے اپنے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے مکین عربوں کے ساتھ نسل پرستانہ امتیازی سلوک بھی برتنا شروع کر دیا ہے۔جس کی تازہ مثال فلسطینیوں کے لیے ایک الگ بس سروس کا اغاز ہے، اب مقبوضہ مغربی کنارے سے اسرائیلی علاقے میں روزانہ ملازمت کے لیے جانے والے فلسطینی صرف ان نئی بسوں پر ہی سوار ہو سکیں گے اور اگر وہ یہودیوں کے لیے مخصوص بس میں سوار ہوئے تو انھیں چیک پوائنٹس پر اتار دیا جائے گا۔یوں اسرائیل نے مسافر بسوں کے ذریعے نسل پرستی کو فروغ دینا شروع کر دیا اور یہودیوں کےلئے الگ بسیں مختص کر دی ہیں۔ان بسوں کے اوپر عربی میں یہ عبارت بھی لکھ دی گئی ہے:''صرف فلسطینیوں کے لیے''۔ اسرائیل کی ٹرانسپورٹ کی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ بسیں عام لوگوں کے لیے ہیں لیکن حیرت انگیز کے طور پر اس بس سروس کی صرف فلسطینی دیہات میں تشہیر کی گئی ہے اور فلسطینیوں ہی کو ان کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

اسرائیلی وائی نیٹ نیوزنے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو ریگولر لائنز (بسوں) میں سوار ہونے سے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور ڈرائیور بھی کسی مسافر کو اترنے کا نہیں کہہ سکتے لیکن انھیں یہ کہہ دیا گیا ہے کہ چیک پوائنٹس پر مسافروں کی شناخت کی جائے گی اور فلسطینیوں کو یہودیوں کے لیے بسوں سے اتارنے کے بعد ان کے لے مخصوص بسوں پر سوار ہونے کے لئے کہا جائے گا۔اسرائیلی وزارت کا موقف ہے کہ نئی سروس صرف بہتری سفری سہولتیں مہیا کرنے کے لیے شروع کی جا رہی ہے لیکن دراصل اس کے پنہاں مقاصد کوئی اور ہیں۔

مزید : عالمی منظر