ڈاکٹر احسن اختر ناز کی پروفیسر شپ بھی 90 روز کیلئے معطل

ڈاکٹر احسن اختر ناز کی پروفیسر شپ بھی 90 روز کیلئے معطل

لاہور (ذکاءاللہ ملک) پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انسٹیٹیوٹ آف کمیونی کیشن سٹڈیز کے سابق ڈائریکٹر کی پروفیسرشپ بھی 90 روز کے لئے معطل کردی اور انہیں آئی سی ایس سے تبدیل کرکے ہیڈکوارٹر کلوز کردیا اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر رجسٹرار آفس رپورٹ کریں۔ یونیورسٹی ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق آئی سی ایس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اختر ناز کے خلاف لبنیٰ شاہین نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کئے تھے جس کی ابتدائی انکوائری کے بعد ڈاکٹر احسن اختر ناز کو ڈائریکٹرشپ سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پروفیسر نوشینہ کو قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا۔ ڈاکٹر احسن اختر ناز نے انتظامیہ کے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کیا۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر احسن اختر ناز کے خلاف فزیکل اپیرئینس کی بنیاد پر 30 داخلے میرٹ کے خلاف کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور اس الزام کے تحت ایک نئی انکوائری شروع کردی گئی۔ ذرائع نے ”پاکستان“ کو یہ بھی بتایا ہے کہ ڈاکٹر احسن اختر ناز پر شوکت بھٹی کی جانب سے دوسری درخواست میں عائد کردہ الزامات کی انکوائری میں آئی سی ایس کے 5 پروفیسرز ڈاکٹر بشریٰ حمید الرحمن، ڈاکٹرعابدہ اعجاز، پروفیسر سویرا شامی، پروفیسر شفیق کمبوہ اور پروفیسر لبنیٰ شاہین نے الزامات کی تردید کی تھی جس کے بعد ایک نئی انکوائری شروع کردی گئی۔ اس حوالے سے جب پروفیسر ڈاکٹر احسن اختر ناز سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان کی عدالت میں کیس کیا تھا جس پر فاضل عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی تھی اور انکوائری کے لئے کمیٹی بنانے کے لئے کہا لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی نہ انکوائری کمیٹی قائم کی گئی اور نہ انتظامیہ نے کوئی جواب فائل کیا۔ ڈاکٹر احسن اختر ناز کا کہنا ہے کہ میں نے گزشتہ روز ہی فاضل عدالت میں یونیورسٹی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی جس پریونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس ہوا جس کے بعد مجھ پر نئے الزامات کے تحت ایک اور کارروائی کردی گئی۔ اس حوالے سے یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر احسن اختر ناز کے خلاف درخواست گزار لبنیٰ شاہین انکوائری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر زکریا ذاکر پر بھی عدم اعتماد کے حوالے سے بعض الزامات عائد کئے ہیں۔

ڈاکٹر احسن اختر ناز

مزید : صفحہ آخر