شیعہ سنی فسادات کی منظم سازش ہورہی ہے ، جہاد اور دہشتگردی میں فرق سمجھنا ہوگا ، عسکری سیاسی قیادت

شیعہ سنی فسادات کی منظم سازش ہورہی ہے ، جہاد اور دہشتگردی میں فرق سمجھنا ہوگا ...

لاہور (جاوید اقبال) دہشت گرد بے لگام ہوتے جا رہے ہیں اور دہشت گردی کا پانی سر سے گزرتا جا رہا ہے کوئٹہ کے بعد کراچی کو بھی خون میں نہلایا جا رہا ہے دہشت گردی بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اس کے خاتمے کا واحد حل پوری قوم کو ایک نقطے پر جمع ہونا ہو گا اور مل کر ان کے خلاف جنگ لڑنا ہو گی ملک کے اندر سنی شیعہ فسادات کرانے کی سازش ہو رہی ہے اندرون اور بیرون عناصر کی دہشت گردوں کو حمایت حاصل ہے، غیروں کی جنگ سے مکمل کنارہ کشی کرلی جائے اگر انہیں نہ کچلا گیا تو انتخابات کے دوران یہ لوگ خون خرابہ کرا سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں انٹیلی جنس فیل ہو چکی ہے کراچی میں د ہشت گردی کے زخمی تڑپتے رہے اور حکومت اور سرکاری مشینری کا مشیر کی منگنی کو سیکورٹی فراہم کرنے میں مگن رہے .... کے واقع کی مذمت کرتے ہیں۔ اس پر سندھ حکومت استعفیٰ دے اس امر کا اظہار مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں ،خارجہ و عسکری ماہرین نے دہشت گردی کا حل کیا ہے کے عنوان سے پاکستان موبائل فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا دہشت گردی سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا دیا ہوا قوم کو تحفہ ہے انہوں نے جان بوجھ کر غیروں کی جنگ کو قوم کے گلے میں ڈال دیا جہاد اور دہشت گردی میں تمیز ہونی چاہئے اس کے لئے تمام جماعتوں کو ایک ہوناہوگا اور پوری قوم کو اس کے خلاف جنگ لڑنے کےلئے تیار کرنا ہو گا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ کے بعد کراچی میں دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایسے واقعات حکومت مکمل ناکامی ہے یہ ایسی حکومت ہے جس کا دور پرویز مشرف کی پالیسیوں کی کاپی ہے امریکی ڈرون حملے بھی دہشت گردی میں آتے ہیں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے حکومت سمیت تمام پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جماعتوں کے علاوہ عوام کو ایک کرنا ہو گا۔ مسلم لیگ ہم خیال کے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ نے کہا کہ دہشت گردی حکومتی نااہلی ،نالائقی اور ناکامی کی وجہ سے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ہم خیال کے سیکرٹری جنرل ہمایوں اختر خاں نے کہا کہ دہشت گردی کے ”جن“ کو بوتل میں بند کرنے کے لئے ایسے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے جو حکومت کو آتے میں کرنے چاہئیں تھے مگر حکومت ناکام رہی اس سے قبل کے سر سے پانی گزر جائے حکومت کو سخت اقدامات کرنا ہونگے۔ عوامی مسلم لیگ پنجاب کے صدر خالد پرویز سندھو نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے بچے مار رہے ہیں۔مساجد، امام بار گاہوں ،گھروں، تعلیمی اداروں، فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ہم خیال کے چیف آرگنائزر پنجاب چودھری شاہد اختر گھمن نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کا شکار زخمی مر رہے تھے ان زخمیوں کو اٹھانے والی حکومتی مشینری شرمیلہ فاروقی کی منگنی کو سیکورٹی فراہم کر رہی تھی جب حکومت کی ترجیح وی آئی پیز کو سیکورٹی فراہم کرنا ہو گی ۔سابق آرمی چیف جنرل (ر) ضیاءالدین بٹ نے کہا کہ ملک کے اندر دہشت گردی کے تانے بانے بیرون ممالک میں .... جا رہے ہیں اس کے لئے اپنی داخلہ اور خارجی پالیسیاں تبدیل کرنا ہونگی۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکی ان کے سر ایک کا نہیں دہشت گردی کی نذر ہونے والے ہزاروں بے گناہوں کا خون ہے دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ ق کے صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ناصر محمود گل نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے تمام جماعتیں ذاتی اختلافات کو بالا طاق رکھتے ہوئے ایک ہو جائیں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک مستقل پالیسی بنائی جائے ۔سابق وزیرخارجہ گوہر ایوب نے کہا کہ دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ کمزور حکومت اور اس کی لاغر پالیسیاں ہیں جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ عوام کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں حکومت ناکام ہو گئی اگر 5سال قبل میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پالیسیاں بنالی جاتی تو آج یہ حال نہ ہوتا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنسوں کے فیصلے اور پارلیمنٹ کی قرار داد میں موجود ہیں ان پر بھی عمل ہو جاتا تو آج دہشت گرد گلی کوچوں میں عوام کو گاجر مولی کی طرح نہ کاٹتے۔ تحریک انصاف لاہور کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے وفاق اور پنجاب ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں دونوں نے عوام کے 5 سال ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ ایڈمرل (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ افغانستان سے اٹھنے والی آگ آہستہ آہستے پورے ملک کو لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے کہا کہ پہلے اس بات کا تعین کرلیا جائے کہ یہ آگ کس کی لگائی ہوئی ہے جس نے یہ آگ لگائی ہے اس کا کٹہرے میں لایا جائے۔

عسکری سیا سی قیا دت

مزید : صفحہ آخر