کالعدم تنظیموں کے ’ہمدرد ‘ سیکیورٹی اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے کی ہدایت

کالعدم تنظیموں کے ’ہمدرد ‘ سیکیورٹی اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے کی ہدایت
کالعدم تنظیموں کے ’ہمدرد ‘ سیکیورٹی اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے کی ہدایت

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے کالعدم تنظیموں کے منشور سے متاثر اور ان کی طرف جھکاﺅ رکھنے والے پولیس ، فرنٹیر کانسٹیبلری اور رینجرز اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پہلے مرحلے میں ایوان صدر، وزیر اعظم ہاﺅس، پارلیمنٹ ہاﺅس، پارلیمنٹ لاجز، منسٹرز کالونی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرزہاﺅس اوراہم شخصیات کی حفاظت کے لیے لگائے گئے روٹ پر تعینات اہلکاروں کے بارے میں کوائف جمع کیے جائیں گے۔دوسرے مرحلے میں سفارت کاروں اور حکومت میں شامل اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور اہلکاروں سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کی جائیں گی۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ایسے افراد کے خلاف کوائف جمع کرنے کی ذمہ داری انٹیلی جنس بیورو کو دی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ پولیس کے خفیہ محکمے سی آئی ڈی میں تعینات افراد ضرورت پڑنے کی صورت میں انٹیلی جنس بیورو کی معاونت کریں۔اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو رپورٹس بھیجی گئی تھیں کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود اہلکاروں کے ساتھ نہ صرف اپنے تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں بلکہ انہیں اپنے منشور کے بارے میں قائل بھی کر رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے سے متعلق ذرائع نے بتایا کہ ان کے آبائی علاقوں سے رپورٹ اکھٹی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کمانڈنگ افسرز سے بھی معلومات اکھٹی کی جائیں گی۔اہلکار کے مطابق کالعدم تنظیموں کے افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایسے اہلکاروں تک رسائی اور ان سے رابطے بڑھانے اور اپنے منشور کے بارے میں قائل کرنے میں آسانی ہے جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد پولیس کے سربراہ طارق سلیم لون پولیس اہلکاروں کو راولپنڈی اور دیگر علاقوں میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے احکامات دیتے تھے جس کی وجہ سے بیوروکریسی اور خود پولیس کے محکمے میں تحفظات پائے جاتے تھے۔اسلام آباد پولیس نے وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد تین سو سے زائد ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا ہوا ہے جن کی مدت ملازمت میں 2014ءتک توسیع کردی گئی ہے۔ان ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو سفارت خانوں کے علاوہ ملک کی اہم ترین شخصیات کی حفاظت کے لیے لگائے جانے والے روٹ پر تعینات کیا جاتا ہے۔ان اہلکاروں کے کوائف کی تصدیق کے لیے کوائف ان کے آبائی علاقوں میں بھجوائے گئے تھے لیکن ابھی تک پولیس کے حکام نے ان افرد کے بارے میں دستاویزات کی تصدیق کر کے واپس نہیں بھجوائے۔

مزید : اسلام آباد /Headlines