تربیت ضروری ہے، اکثر صحافی ’بریکنگ نیوز ‘نے شہیدا کرائے :رحمان ملک

تربیت ضروری ہے، اکثر صحافی ’بریکنگ نیوز ‘نے شہیدا کرائے :رحمان ملک
تربیت ضروری ہے، اکثر صحافی ’بریکنگ نیوز ‘نے شہیدا کرائے :رحمان ملک

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی اور کوئٹہ کے واقعات کو سپر دہشت گردی قرار دیتے ہوئے دعوی ٰکیا ہے کہ عباس ٹاﺅن دھماکوں کے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،تین ملزمان کا تعلق لشکری جھنگوی اور ایک کا تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ پی ایف یو جے کی کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور کراچی کے واقعات انتہا پسندی نہیں بلکہ سپردہشت گردی ہے،دہشت گرد عباس ٹاﺅن پر حملے کیلئے ٹرک استعمال کرنا چاہتے تھے،ٹرک پکڑا گیا تو دہشت گردوں نے ہائی روف گاڑی استعمال کی ہے۔ حملے میں زیادہ کردار لشکر جھنگوی کا تھا، ملک اسحاق دہشت گرد ہے ، اس کے خلاف 34 مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں پر بات کے لیے وقت دے ، پنجاب حکومت کو میری شکل اچھی نہیں لگتی تو وفاقی سیکریٹری داخلہ، صوبائی چیف سیکریٹری سے مل لیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ لشکر جھنگوی اورکالعدم تنظیموں کے لوگوں کو سیکیورٹی کیوں دی جاتی ہے۔صحافیوں کو تحفظ سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 60 فیصد سے زائد صحافی بریکنگ نیوز دینے کی جدوجہد میں شہید ہوتے ہیں، جنگ زدہ علاقوں میں کام کے لیے صحافیوں کو تربیت دینا ضروری ہے ، حکومت کو اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے صحافیوں کے تمام مطالبات مان لینے چاہئیں۔انہوںنے کہاہے کہ سانحہ کراچی کوئٹہ کے واقعات کا تسلسل ہے۔ کالعدم تنظیموں کے افراد کارروائی کے بعد پنجاب چلے جاتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھاکہ وہ کل ایوان میں تمام حقائق پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ لشکر جھنگوی نے کوئٹہ اور کراچی کو کیوں چنا ہے۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ دشمن اسی وقت فائدہ اٹھاتے ہیں جب سیکیورٹی سخت نہیں ہوتی ۔دہشتگردی کے واقعات انتخابات ملتوی کرانے کی بھی سازش ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ دہشتگردی کے منصوبوں میں تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ دیگر عناصر بھی ملوث ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے لائحہ عمل کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی بلایا جائے۔

مزید : اسلام آباد