دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت کا ‘غیراسلامی‘قانون ختم

دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت کا ‘غیراسلامی‘قانون ختم
 دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت کا ‘غیراسلامی‘قانون ختم

  

 طرابلس ( مانیٹرنگ ڈیسک)لیبیا کی سپریم کورٹ نے دوسری شادی سے پہلے شوہر کے لے پہلی بیوی کی اجازت لینے کا قانون ختم کر دیا ہے اور زیادہ بیویوں کے بارے میں عدالت کے اس فیصلے سے ملک کے لبرل عناصر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہیں ڈر ہے کہ اس طرح انقلاب کے دوران عورتوں کے مسائل میں جو پیشرفت ہوئی تھی اور سابق لیڈر معمر قذافی کے زمانے میں جو تھوڑی بہت ترقی ہوئی تھی، وہ خطرے میں پڑ جائے گی۔رواں ماہ کے آغاز میں عدالت نے قذافی کے دور کے شادی کے اس قانون کو منسوخ کر دیا جس کے تحت دوسری شادی کرنے سے پہلے پہلی بیوی کی رضامندی حاصل کرنا ضروری تھا۔قذافی نے جو قانون نافذ کیا تھا اس کے تحت اگر کوئی شوہر اپنی پہلی بیوی کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے مزید شادیاں کرنے سے پہلے عدالت کی اجازت لینی پڑتی تھی۔غیر سرکاری تنظیم لیبیئن ویمن فورم کی بانی ڈائریکٹر شہرزاد مغربی کہتی ہیں کہ عدالت کے اس فیصلے سے لبرل عناصر کی اس تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کہ قذافی کے بعد کا لیبیا عورتوں کے مسائل کے بارے میں ان کی توقع سے کہیں زیادہ قدامت پسند ہو گا۔انہوں نے کہا کہ لبرل سرگرم کارکن اس فیصلے کی مزاحمت کریں گے اور اسے آسانی سے قبول نہیں کریں گے لیکن بعض عورتیں اس فیصلے کی حمایت کرتی ہیں کیوں کہ انکے خیال میں یہ شرعی قانون کے مطابق ہے۔53 سالہ نوجوان الہوئنی کہتی ہیں ”میں اس فیصلے کے خلاف نہیں ہوں کیوں کہ یہ مذہبِ اسلام کے مطابق ہے۔ اسلام کے مطابق مرد کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ اسے اپنی پہلی بیوی کو مطلع کرنا پڑتا ہے، اگر وہ مزید شادیاں کرنا چاہے لیکن اسے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ جب قذافی نے یہ قانون جاری کیا کہ مرد کو عورت کی اجازت لینی ہو گی تو وہ اس طرح تمام عورتوں کو اپنی طرف ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔“بیشتر خواتین کارکن اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ نیا آئین اسلامی شریعت پر مبنی ہو گا اور انہیں اس اصول اور اپنے ان مطالبات کے درمیان کوئی تضاد نظر نہیں آتا کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات قائم ہونی چاہیے اور عورتوں کو زیادہ اہم رول دیا جانا چاہیے۔”یہ بڑی مایوس کن اور افسوسناک بات ہے کہ اب وہ اکیسویں صدی میں اپنے ایجنڈے اور اپنے مفاد کی خاطر اپنے نظریے کے مطابق اسلام کی توجیہ کر رہے ہیں۔ لیبیا کے عورتیں اب اسے قبول نہیں کریں گی، یہ اسلام نہیں ہے۔ انھوں نے اسلام کو ہائی جیک کر لیا ہے۔“لبرل عناصر کو اب یہ پریشانی ہے کہ قذافی کے دور کے دوسرے قوانین بھی منسوخ کر دیے جائیں گے۔ ان میں وہ قانون بھی شامل ہے جس کے تحت والدین کو اپنی کم عمر بیٹیوں کی شادی کرنے کی ممانعت ہے۔

مزید : بین الاقوامی