ریاست کی آزادی پسند قیادت نے بھارتی آئین کے تحت الیکشن مسترد کر دیے تھے

ریاست کی آزادی پسند قیادت نے بھارتی آئین کے تحت الیکشن مسترد کر دیے تھے

 سری نگر (کے پی آئی) وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے حالیہ بیان پر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور پیپلز پولٹیکل فرنٹ نے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے مفتی محمدسعید کے بیان کو حقیقت سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات اجرا کرکے وہ تحریک آزادی سے متعلق ابہام اور شک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ترجمان نے اسے میکاولی طرز کی سیاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد سعید ایک سوچے سمجھے پلان کے تحت اس طرح کے بیانات دے کر ایک خلجان پیدا کرتے ہوئے اصل میں دہلی میں بیٹھے افراد کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ ترجمان نے فوجی چھتر چھایا اور جبر کے سائے میں کرائے جارہے ان انتخابات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی آزادی پسند قیادت نے روز اول سے ہی بھارتی آئین کے تحت ہورہے الیکشن کو مستردکیا ہے ۔ترجمان نے واضح کیا کہ بھارتی آئین کے تحت منعقد کئے جارہے ان انتخابات پر ہمیشہ سے انگلیاں اٹھی ہیں اور خود بھارت کے کئی رہنماں نے ان انتخابات سے متعلق اپنے شکوک و شبہات کا بھی برملا اظہار کیا ہے ۔ترجمان نے مفتی محمد سعید کو مشورہ دیا کہ وہ تاریخ کا دھارا موڑنے بجائے ان حقائق کا اعتراف کریں کہ حال ہی میں منعقد کئے گئے انتخابات کے موقع پر ریاست کی سبھی آزادی پسندوں اور قیادت کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا تھا اور انہیں ان انتخابات سے متعلق اپنا موقف رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ترجمان نے ریاست کی آزادی پسند عوام اور باالخصوص نوجوانوں کو سازشی ذہنوں کی اختراع کردہ اور جھوٹے بیانوں سے باخبر رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے پہلی اور آخری ترجیح حصول آزادی ہے اور اقتدار کا تاج کس کے سر پر سجایا جاتا ہے یا کس سے اقتدار چھینا جاتا ہے ،یہ ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہمیں اس سے کوئی سروکار ہے ۔ادھر پیپلز پولیٹکل فرنٹ چیئرمین محمد مصدق عادل نے وزیر اعلی مفتی محمد سید کے اس بیان کہ پاکستان، حریت اور عسکریت پسندوں کی مدد سے ہی کشمیر میں اسمبلی کے انتخابات کو پر4129من اور موافق ماحول میں مکمل کرنے کا موقع فراہم ہواہے، کے ردعمل میں کہا ہے کہ گوکہ ہمیں مفتی سعید سمیت دوسرے ہندنواز سیاستدانوں کی طرز سیاست اوربیاں بازیوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی سروکار نہیں ہے تاہم یہاں اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ مفتی محمدسعید نے تحریک کے اس نازک موقعہ پر اس طرح کا بیان دے کر اپنی طرف سے میکاولی اور چنکیاکو بھی مات دے کر ایک تیر سے دو نہیں بلکہ تین شکار کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ بری طرح سے ناکام ہوئے ہیں۔ایک طرف سے مفتی سعید نے یہ بیان دے کر سستے میں مظلوم کشمیریوں اور عسکریت پسندوں کو خوش کرنے اور ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف پاکستان کے لئے بھی الفاظوں کا دامِ فریب میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔چونکہ حصولِ اقتداری کے حاملِ انِ سیاستدانوں کا یہاں ابتداسے ہی یہی طریقہ کار رہا ہے جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے سادہ لو اہل کشمیر کو سبزباغ دیکھاکراپنی اقتدار کی حوس کو پورا کرنے کی خاطر تحریک آزادی کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اس طرح کشمیریوں کی دی ہوئی قربانیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے۔مفتی سید کے اس بیاں سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بری طرح سے تذبذب کے شکار ہیں۔ اس سے نکلنے کے لئے اس کو چاہئے کہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے اور اہل کشمیر کو دھوکا دینے کے بجائے انتخابی و اقتداری سیاست سے توبہ کرکے ہندوستان کے یہاں ناجائز قبضہ کے خلاف کھلے عام آواز اٹھائے تاکہ اس کواِس بے چینی اور تذبذب سے نجات حاصل ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اب آزاد ی پسند قیادت اوراہل کشمیر کو کچھ زیادہ ہی ہوشیاری اور سمجھداری سے کام لینا پڑے گا کیوں قوم اب کسی دھوکے کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔

مزید : عالمی منظر