فلمی صنعت سے وابستہ افراد روشن مستقبل کے لئے پر امید

فلمی صنعت سے وابستہ افراد روشن مستقبل کے لئے پر امید
فلمی صنعت سے وابستہ افراد روشن مستقبل کے لئے پر امید

  

 لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان فلم انڈسٹری کی ناکامیوں کی داستان میں ایک اورسال کا اضافہ ہوگیا اس سال کے تیسرے مہینہ کا آغاز ہوچکا ہے لیکن صورتحال جوں کی توں ہے۔ سال رواں کے آغاز میں فلم انڈسٹری سے وابستہ تمام افراد نے بہت سے دعوے کئے تھے لیکن تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور عملی طور پر کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آسکی۔ سال2014ء میں فلم ا نڈسٹری کے مسائل جوں کے توں رہے اورفلم سازی کے رحجان میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ۔سال2014ء میں صرف چند فلمیں ریلیز ہوئی ہیں۔ انسا ن ہر وقت آس اور امید کی لڑی سے بندھا رہتا ہے کیونکہ یہی آس جینے کا حوصلہ اور آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔اگر انسان مایوس ہوکر بیٹھ جائے تو زندگی رک سی جاتی ہے کیونکہ زندگی نام ہی امید کا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے شعبے میں بہتری کی امید لگائے بیٹھا ہوتا ہے اور اس کیلئے کوشش بھی کرتا ہے۔ سال بھر کام کے باوجود اس کے اندر بہتری اور امید کی کرن موجود رہتی ہے۔ کچھ لوگ اپنا احتساب بھی کرتے ہیں تاکہ مستقبل بہتر ہوسکے۔ نئے سال کے آغاز پر تقریباً ہر شخص اپنی زندگی بارے نئی پلاننگ ضرور کرتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ نیا سال اس کیلئے ضرور بہتر رہے گا۔ پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ ہر شخص نے نئے سال کے حوالے سے اپنی آنکھوں میں امید اور آس کے دیئے جلاتے ہوئے بہت سے سپنے دیکھے ہیں جن کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2015ء ہماری انڈسٹری کیلئے خوشیاں لے کر آئے گا۔ اس مناسبت سے فلم ، ٹی وی، میوزک، تھیٹر اور میوزک انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد نے’’ پاکستان‘‘سے اظہار خیال کیا۔ رائٹر و ڈائریکٹر پرویز کلیم نے کہا کہ میں کبھی بھی انڈسٹری کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوا کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے کہ انسان کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب انسان خلوص نیت سے محنت کرتا ہے تو پھر اللہ کی رحمت بھی شامل حال ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ 2015ء ہماری انڈسٹری کیلئے بہت سی خوشیاں لائیگا کیونکہ فلم ا ور سینما کیلئے جو کام 2014ء میں شروع ہوا تھا اب اس میں تیزی آگئی ہے۔ نہ صرف سٹوڈیو کی چار دیواری میں بلکہ چار دیواری سے باہر بھی فلم کیلئے بہت سا کام عملی طورپر ہورہا ہے۔ ہدایتکار سید نور نے کہا کہ زندگی میں کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اسی امید پر ہم آگے بڑھتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ہماری انڈسٹری کا مستقبل بہت اچھا ہے اور موجودہ سال اس مناسبت سے بہت اہم ہے۔ریشم نے کہا کہ گزشتہ سال فلم انڈسٹری کیلئے بہت کام ہوا جبکہ اب اس سے بھی زیادہ کا م ہورہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ 2015ء فلم انڈسٹری کے عروج کا سال ہوگا کیونکہ اب اس شعبے میں بہت تیزی سے کام ہورہا ہے۔ اداکارہ خوشبونے کہا کہ یہ سال فلم کے ساتھ ساتھ ڈرامہ انڈسٹری کی ترقی کا سال بھی ہوگا کیونکہ جس طرح فلم کے شعبے میں کام ہورہا ہے اسی طرح ٹی وی کیلئے کام ہورہا ہے جس طرح ہماری فلم سرحدوں سے باہر پسند کی جارہی ہے اسی طرح ڈرامہ بھی سرحد پار کرچکا ہے اور اس کی پسندیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈائریکٹر شاہد ظہورنے کہا کہ میں ایک سال پہلے ہی یہ بات کہہ چکا ہوں کہ 2015ء ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری خصوصاً فلم اور سینما انڈسٹری کیلئے بہترین ہوگا۔ پچھلے سال ان شعبوں میں بہت تیزی سے کام ہوا ہے جس کا رزلٹ اب نظر آئے گا۔ گلوکار و اداکار علی ظفر نے کہا کہ نئے سال میں پاکستان کے تمام شعبوں میں بہت ترقی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ سال ہمارے ملک میں بہت زیادہ دہشت گردی ہوئی۔ خاص طور پر آرمی سکول پشاور پر ہونے والے حملے سے ہر محب وطن پاکستانی تکلیف میں ہے لیکن ہماری حکومت اورخاص طور پر فوج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو اقدامات کررہی ہے اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے جس سے جہاں ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی وہاں ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ جب ملک میں امن اور خوشحالی ہوگی تو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی پروان چڑھے گی۔ ہماری فلم، سینما، میوزک، ڈرامہ اور فیشن انڈسٹری نئے سال میں مزید بہتر ہوگی۔ میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی نے کہا کہ کسی بھی انڈسٹری کے فروغ کیلئے حالات کا سازگار ہونا پہلی شرط ہوتا ہے چونکہ گزشتہ کئی سالوں سے ملکی حالات زیادہ بہتر نہیں رہے جس سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن ہمیں امیدرکھنی چاہیے کہ یہ سال ہمارے لئے اچھا ہوگا۔آفرین نے کہا کہ 2015ء ہم سب کیلئے یقیناًخوشیوں کا سال ہوگا لیکن اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں محنت اور خلوص نیت سے کام کرنا ہوگا۔صائمہ نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کی ترقی، خوشحالی اور امن کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ دہشت گردی نے پاکستان کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ امید رکھنی چاہیے کہ ہمارا مستقبل روشن ہوگا۔ حمیرا چنانے کہا کہ میری دعا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر طرح کی انڈسٹری پروان چڑھے کیونکہ جب ملک مثبت طریقے سے آگے بڑھے گا تو ہر شعبے میں بہتری آئے گی ۔ اداکارہ رز کمالی نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے بیرون ملک بھی لوہا منوایا۔ مجھے امید ہے کہ نیا سال ہر شعبے کیلئے بہتر ہوگا۔ اداکارہ ماہ نور نے کہا کہ نیا سال ہمارے لئے نئی خوشیوں کا پیغام لے کر آیا ہے۔ لہٰذا ہمیں اچھی توقعات وابستہ کرنی چاہئیں۔گلوکار ظفر اقبال نیویارکر،سید فیصل بخاری،چوہدری اعجاز کامران،جونی ملک،سفیر،جیا بٹ،نوید رضا،ماورا حسین، دانش تیمور، رز کمالی، صنم چوہدری، مدیحہ افتخار، شیری، جویریہ عباسی، ندیم عباس، رابعہ بٹ، سلیم بزمی، بلال لاشاری، حمزہ علی عباسی، سجاد علی، عمائمہ ملک،نیلم منیر،عمران بخاری،صائمہ سلیم،ارجمند رحیم،زارا شیخ،ثناء ،صومیہ خان، اچھی خان، میکال ذوالفقار، افتخار ٹھاکر، لائبہ خان، کرن تعبیر، سید عاطف حسین، انعم فیاض، ماریہ خاں، ارم اختر، شامل خان، ثوبیہ خاں، ظفری خاں اورنگزیب لغاری، ایوب کھوسہ، زیبا بختیار، سیمی راحیل، توقیر ناصر، امین اقبال، فاطمہ آفندی ، سہیل اصغر، نعمان حبیب، جاوید شیخ، کامران اعجاز، نادر منہاس، رفاقت علی خاں ، نعمان جاوید، میگھا، فضا علی، بشریٰ انصاری، قوی خاں، سعود، ببرک شاہ، شوکت علی، جاناں ملک، آمنہ الیاس، سویرا ندیم، سنبل اقبال،سنگیتا، مصطفی قریشی، زیب چوہدری، شبیر جان، سلینہ سپرا،عاصم علی،ارشد چوہدری، سلیم شیخ، سمیع خاں، عفان وحید، فیصل قریشی، فہد مصطفی، آمنہ شیخ، صنم سعید، رباب ہاشم اور عائشہ خاں نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ 2015ء ہم سب کیلئے بہترین ثابت ہوگا اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری انڈسٹری بھی پروان چڑھے گی۔

مزید : کلچر