ترکی کیلئے نامزدسفیرکا ایف پی سی سی آئی ہاؤس کا دورہ

ترکی کیلئے نامزدسفیرکا ایف پی سی سی آئی ہاؤس کا دورہ

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) ترکی کے لئے پاکستان کے نامزد سفیر سہیل محمود نے فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور فیڈریشن چیمبر اور ای سی او چیمبر آفکامرس کے صدر میاں محمد ادریس، فیڈریشن چیمبر کے سنیئر نائب صدر عبدالرحیم جانو، نائب صدر اور انچارج سندھ ریجن اکرام راجپوت، نائب صدور وسیم وہرا، شاہنواز اشتیاق اور دیگر ممبران دارو خان، محمود ارشد اور ایکسپورٹرز سے ملاقات کی۔   میاں ادریس نے بتایا کہ ترکی کی حالیہ معاشی اور تیکنیکی ترقی لائق تحسین ہے اور ہمارے لئے ایک بنچ مارک ہے، 20 سال قبل ترکی میں بھی ہمارے ملک جیسے ہی حالات تھے لیکن پے درپے اصلاحی اور معا شی اقدامات سے ترکی نے ترقی کی۔  میاں ادریس نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کا آپس میں اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام مماک جنگوں کو بھول کر معاشی بحالی اور معاشی ترقی کی جانب گامزن ہیں، ان کو اپنے لوگوں کی خوشحالی مقدم ہے۔ انہوں نے سہیل محمود سے گذارش کی کہ وہ ترکی جاکر فیڈریشن چیمبر کے ساتھ با قاعدہ رابطہ میں رہیں اور تجارتی وفود اور تجارتی نمائشو ں کے بارے میں ہمیں آگاہ کریں تاکہ فیڈریشن آپ کے ساتھ مل کر ترکی میں پاکستانی باہمی تجارت کو بڑھائے۔ سہیل احمد نے کہا کہ ترکی آج دنیا کی 17 ویں بڑ ی معیشت ہے۔ انہوں نے بڑی تیزی سے معاشی ترقی کی ہے جس کا کل تجا رتی حجم 400 ارب ڈالرز ہیں لیکن پاکستان کا اس میں صرف 600 ملین حصہ ہے، اتنے بڑ ے تجارتی حجم میں پاکستان کے لئے کتنے زیادہ مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن چیمبر کے پاس ای سی او چیمبر کی صدارت بھی ہے، جس کے تناظر میں پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تجارتی تعلقات میں استحکام اور اضافہ میں فیڈریشن چیمبر اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے زور دیا کہ ای سی او ٹریڈ میں تیز ی لانے کے لئے ای سی او ٹرین کو جلد سے جلد آپریشنل کیا جائے اور اس کو بجائے اسلام آباد کے کسی قریبی بڑ ے جنکشن سے متصل کیا جائے جس سے وقت کی بچت بھی ہوگی اور لاگت بھی کم آئے گی۔ سہیل محمود نے بتایا کہ اس سلسلے میں ہم اپنی تجاویزحکومت کو دیں گے اور اسی سلسلے میں دونوں ممالک کے حکومتوں کے درمیان تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے اور مئی 2015ء تک اس میں کافی چیزیں طے کر لی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کے وزیراعظم کے حالیہ دورہ پاکستان میں بہت سی چیزیں زیر بحث آئیں اور ایف ٹی اے پر بھی کافی بات چیت ہوئی جس کے مثبت اثرات دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت پر مرتب ہوں گے۔

مزید :

کامرس -