پنجاب میں جانوروں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ سے تجاوز کر گئی

پنجاب میں جانوروں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ سے تجاوز کر گئی

  

فیصل آباد(آن لائن)پنجاب میں جانوروں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ سے زائد ہے ان جانوروں کی سبز چارے کی ضروریات کو پور اکرنے کے لیے تقریباً 50لاکھ ایکڑ رقبہ پر چارہ جات کاشت ہوتے ہیں۔۔مئی اور جون کے مہینوں میں جب ربیع چارے ختم ہوچکے ہوتے ہیں تو سبزچارے کی کمی شدت اختیار کرجاتی ہیں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چارہ جواریا چری ،روڈ گراس ، گنی گھاس ، مارٹ گراس باجرہ ، مکئی ،سدا بہار،رواں اور گوارہ مارچ میں اگیتی کاشت بہت ضروری ہے۔ زرعی تحقیقاتی ادارہ چارہ جات سرگودھا کے زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ خریف چارہ جات کی کاشت وسط مارچ سے شروع کریں ۔ کاشت کار چاروں کی کاشت سے قبل جہاں منصوبہ بندی کریں تاکہ چارہ جات کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو ۔کاشت کار خریف چاروں کی کاشت سے قبل صحیح زمین کا انتخاب کریں اور اس کو اچھی طرح تیار کرکے چارہ جات کی مختلف منظور شدہ اقسام کی کاشت کریں ۔اچھے بیجوں کے ساتھ کھادوں کے متناسب اور مناسب استعمال اور بروقت آبپاشی کے ذریعے خریف چاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں دو سے تین گنا اضافہ کریں ۔ خریف چاروں کی کاشت مارچ کے آخر سے لے کر اگست تک جاری رہتی ہے ۔خریف چاروں کی اگیتی اور پچھیتی کاشت سے کاشتکار جانوروں کے لیے چاروں کی کمی کے ادوار مئی جون اور اکتوبر نومبر میں زیادہ چارہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ رقبہ کے لحاظ سے خریف چاروں میں جوار ، سدا بہار ، باجرہ ، مکئی ، گوارہ ، رواں ، مالٹ گراس، روڈزگھاس اور گنی گھاس بڑی فصلیں ہیں۔جے ایس 263،جے ایس 2002اور جوار 2011 چری کی منظور شدہ اقسام ہیں۔ان کی پیداواری صلاحیت 5سو تا ساڑھے سات سو من فی ایکڑ ہے اور یہ اقسام بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہیں۔ چار ہ کے لیے ان اقسام کا 35کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں اور اچھی پیداوار کے حصول کے لیے چھ تا نو انچ کے فاصلہ پر لائنوں میں بوائی کریں۔ #/s#

مزید :

کامرس -