عبیرہ قتل ،طوبیٰ سمیت 3ملزمان مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

عبیرہ قتل ،طوبیٰ سمیت 3ملزمان مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

 لاہور(نامہ نگار)ضلع کچری میں مجسٹریٹ راشد محمود نے ماڈل عبیرہ قتل کے مقدمہ میں ملزمہ طوبیٰ سمیت 3ملزمان کومزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے ،عدالت پیشی کے موقع پر ملزموں کا کہنا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق ماڈل بننے کے خواب آنکھوں میں سجانے والی اریبہ کی لاش 13جنوری 2015کو تھانہ شیراکوٹ بس سٹینڈ سے ایک بریف کیس سے ملی تھی جس کی شناخت بعدازاں عبیرہ اقبال کے نام سے ہوئی ،ماڈل عبیرہ کے قتل کے الزام میں 28فروی کو پولیس نے پہلے ملزمہ عظمیٰ راؤعرف طوبی کواور بعد میں اس کے دیگر دو ساتھیوں ملزمان فاروق الرحمن اور حکیم ذیشان کو بھی گرفتار کرلیا۔گزشتہ روز مذکورہ ملزمان کو پولیس نے ضلع کچہری میں مجسٹریٹ کی عدالت پیش کرتے ہوئے تفتیش کے لئے مزید 10روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ ملزموں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے تین روزہ ریمانڈ میں پولیس ملزموں کا قتل سے تعلق نہیں جوڑ سکی ہے اوراس لئے محض شک کی بنیاد پر ریمانڈ میں توسیع نہ کی جائے ۔عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو مزید3روز جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔واضح رہے کہ ایک روز قبل ماڈل عبیرہ قتل کیس کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ بھی پولیس کی جانب سے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروادی گئی ہے جس میں اہم انکشافات کئے گئے ہیں جس میں پولیس نے ملزمہ طوبی کی نشاندہی پر اس کے فیصل ٹاؤن کے مکان سے ایک کلوزہرکاڈبہ اور دوبوتل آرسینک زہربرآمدکیاگیا جبکہ عبیرہ اقبال کا موبائل فون،مصنوعی جیولری اور کپڑے بھی برآمدکیے گئے ہیں ،پولیس رپورٹ کے مطابق عبیرہ کی موت انتہائی زود اثرزہرسائینائیڈ کی وجہ سے ہوئی جو کھانے میں ملایا گیا تھاجبکہ طوبی نے عبیرہ کی موت کو زیادتی کا رنگ دینے کے لئے عبیرہ کو برہنہ کردیااور پھرکیس الجھانے کے لئے طوبیٰ نے عبیرہ کی لاش والا بریف کیس سیالکوٹ کی ویگن میں رکھ دیاتھا۔

مزید : صفحہ آخر