امریکہ افغانستان سے فوجی انخلاء میں تاخیر کرے،خیر مقدم کریں گے،پاکستان

امریکہ افغانستان سے فوجی انخلاء میں تاخیر کرے،خیر مقدم کریں گے،پاکستان

  

واشنگٹن(آن لائن ،اے این این) امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء میں تاخیر کا خیر مقدم کرے گا،امریکی فوج کے قیام میں اضافے سے دہشتگردوں کے خاتمے میں مدد ملے گی،فوجی انخلاء سے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے،اچھے اور برے طالبان کی بات قصہ پارینہ بن چکی ہے،شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب بلا تفریق اور کامیابی سے جاری ہے حقانی نیٹ ورک کو تتر بتر کر دیا گیا ہے،90فیصد علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کر لیا گیا ہے۔واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ساتھ پاکستانی سرحدی علاقوں میں جنگجوؤں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،اسی لیے گزشتہ کئی ماہ میں پاکستان کو افغان سرحد پر فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑا ہے اور اسے ایک لاکھ 45 ہزار سے بڑھا کر اب ایک لاکھ 77 ہزار کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے امریکی فوج کی واپسی میں تاخیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ امریکی فوج کے رہنے سے دہشتگردوں کے خاتمے میں مدد ملے گی،نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان بھی امریکی فوج کے انخلاء میں تاخیر کا خیرمقدم کرے گا ۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال اب بھی چیلنجنگ ہے اور امریکی فوجی انخلاء کا فیصلہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کیا جانا چاہیے اور شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ روکنے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہیں،شدت پسندوں کو خلا نہیں ملنی چاہیے۔جلیل عباس نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن انتہائی کامیاب سے جاری ہے اوراب تک 90 فیصد علاقے کو جنگجو گروپوں سے خالی کرالیا گیا ہے اور باقی 10 فیصد علاقے کو بھی جلد پاک کر دیا جائیگا۔جلیل عباس نے بتایا کہ حقانی نیٹ ورک کو مکمل طور پر تتربتر کردیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے حالیہ مہینوں میں شمالی وزیرستان میں کوئی حملہ نہیں کیا ۔انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان کی نظر میں اچھے یا برے طالبان ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات اب قصہ پارینہ ہوچکی ہے۔امریکی سیکریٹری دفاع ایشٹن کارٹر دورہ کابل میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپس میں تاخیر کا اشارہ دے چکے ہیں ۔ پاکستان

مزید :

صفحہ آخر -