وزیراعلیٰ اور گورنر کے بعد چیف سیکرٹری اور آئی جی کیلئے بھی روٹ لگنے لگا

وزیراعلیٰ اور گورنر کے بعد چیف سیکرٹری اور آئی جی کیلئے بھی روٹ لگنے لگا

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) لاہوریوں کے لیے وی آئی پی موومنٹ کا عذاب بڑھ گیا۔ وزیر اعلیٰ اور گورنر کے بعد چیف سیکرٹری اور آئی جی کے لیے بھی روٹ لگنے لگا۔صوبے کے پولیس چیف اور انتظامی سربراہ کی آمدکے موقعے پر ٹریفک معطل رکھی جانے لگی ہے۔معلوم ہواہے کہ صوبے میں وزیر اعلیٰ اور گورنر کے بعد اب چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی آمدورفت کو بھی وی آئی پی موومنٹ میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ اور ان کے لیے روٹ لگایا جانے لگا ہے۔ اس ضمن میں چیف سیکرٹری کو سلطان اور آئی جی پنجاب پولیس کو 634کا کوڈ ورڈ دیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس لاہور کو احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ ً سلطان ً اور ً 634 ً کی آمدورفت کے وقت ٹریفک معطل رکھی جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وی آئی موومنٹ میں اضافے سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔اس سے قبل چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب پولیس کی آمدورفت کے لیے حفاظتی سکواڈ تو ان کے ہمراہ موجود ہوتا تھا۔ لیکن ان کے گزرنے کے لیے ٹریفک معطل نہیں کی جاتی تھی۔ اسی طرح صوبے میں وفاقی یا صوبائی وزرا ء کے لیے بھی روٹ نہیں لگایا جاتا ۔ بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی تھریٹس کی وجہ سے صوبے کے انتظامی اور پولیس کے سربراہ وی آئی پی موومنٹ میں شامل کرتے ہوئے ان کے لیے روٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کے بعد وفاقی و صوبائی وزرا ، بڑے بیوروکریٹ اور ایم این اے و ایم پی ایز کے علاوہ سینیٹر بھی سیکیورٹی تھریٹس کو بنیاد بنا کر ان کے لیے روٹ لگانے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ روٹ لگ گیاف

مزید :

صفحہ آخر -