بھارت کالا باغ ڈیم کے مخالفین میں سالانہ 18 ارب روپے تقسیم کرتا ہے

بھارت کالا باغ ڈیم کے مخالفین میں سالانہ 18 ارب روپے تقسیم کرتا ہے

 لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ آبپاشی سے متعلق سوالات کے پارلیمانی سیکرٹری چوہدری خالد محمود ججہ نے جوابات دئیے ۔ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ محکمے کے پاس کل 435ریسٹ ہاؤسز ہیں ،87ریسٹ ہاؤسز فروخت کئے جا چکے ہیں جبکہ 75سر پلس کی فروخت کیلئے بھی محکمہ ریو نیو کو لکھ دیا گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سردار شہاب الدین نے ضمنی سوال میں کہا کہ محکمہ آبپاشی کے ریسٹ ہاؤسز کے ساتھ 50سے 100ایکڑ اراضی بھی ہوتی ہے جو بیکار پڑی ہے کیا اسے لیز پر دیا جاتا ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری نے جواب میں کہا کہ پچاس سے سو ایکڑ اراضی کی بات درست نہیں البتہ تین سے پانچ ایکڑ تک اراضی ہوتی ہے جسے وہاں موجود ملازمین کاشت کرتے ہیں۔ سردار شہاب الدین نے کہا کہ میں نشاندہی کر سکتا ہوں کہ داسو بنگلہ ریسٹ ہاؤس میں 52ایکڑ رقبہ ہے جسے ایک ایم پی اے کاشت کر رہا ہے ۔ڈاکٹر وسیم اختر کے دوسرے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ بی آر بی ڈیی لنک کنال سے نکلنے والی نہر لاہور برانچ شہر کے درمیان سے گزرتی ہے اس میں ڈالے جانے والے سیوریج کے پانی کی پائپوں کی تعداد 9رہ گئی ہے سپریم کورٹ اس پر نو نوٹس لے چکی ہے اب انہیں بھی ختم کیا جارہا ہے اور میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ چھ ماہ میں انہیں ختم کر دیا جائیگا۔ پہلے نہر میں ڈالے جانے والے سیوریج کے پائپوں کی تعداد 30تھی جو کم ہو کر 9رہ گئی ہے۔ قائمقام اسپیکر نے بھی کہا کہ نہر میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ نہا رہے ہوتے ہیں اس لئے انہیں جلد از جلد ختم کرایا جائے۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق سوال کے حوالے سے با ت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران وہ منصوبے شروع کرتے ہیں جو انکے دور حکومت میں پورے ہو سکیں تاکہ انہیں سیاسی فائدہ ہو سکے ۔ کالا باغ ڈیم انتہائی ضروری ہے اور اسکے لئے عملی کاوشیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کانگریس کا ایک وفد ملاقات میں بتا چکا ہے کہ لاہور ‘ کراچی اور گوجرانوالہ کے چیمبر ز آف کامرس یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ حکومت اس ڈیم کے لئے باہر سے ایک روپے کا قرضہ لے اور نہ خود کوئی رقم مختص کرے تینوں چیمبرز مل کر کالا باغ ڈیم بنا کر دیں گے اور وہ لاگت کی رقم بجلی ‘ پانی اور دیگر ٹیکسوں سے پوری کر لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خالصتاً تکنیکی معاملہ ہے لیکن اسے سیاست کی نظر کر دیا گیا ہے ۔ مجھے ایک حساس ادارے کے ذمہ دار افسر نے بتایا کہ بھارت پاکستان میں کالا باغ ڈیم کے مخالفین میں سالانہ 18ارب روپے خرچ کرتا ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان میں کہا کہ کالا باغ ڈیم معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اسکی فزیبلٹی تیار ہے اگر اس پر فوری کام شروع کر دیا جائے تو یہ منصوبہ عرصہ چھ سال میں مکمل ہو سکتا ہے ۔ اس منصوبے کی تکمیل سے 3600میگا واٹ بجلی کے حصول کے علاوہ 61لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ بھی کیا جا سکے گا یہ ایسا ڈیم ہوگا جس کے سپل وے سے زیر سطح پانی کا اخراج ہو سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وسیم اختر نے جو حساس ادارے کی رپورٹ کی بات کی ہے وہ درست ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2001ء میں ایم ایم اے بنی تو اس وقت آمر کا دور تھا اور ایم ایم اے بھی اسکے اتحادی تھی پنجاب کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں ، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اس منصوبے کے لئے اتفاق رائے چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹر وسیم اختر کی جماعت خیبر پختوانخواہ میں حکومت کی اتحادی ہے اس لئے وہ وہاں کوششیں کرائیں ۔ سید عبد العلیم شاہ نے کہا کہ پنجاب نے ہمیشہ بڑا بھائی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کے مفاد کا تحفظ کیا ہے ۔ ڈاکٹر وسیم اختر اپنی جماعت کو کہہ کر خیبر پختوانخواہ سے قرارداد لے آئیں پنجاب اس سے دو قدم آگے بڑھ کر اقدام کرے گا ۔ ڈاکٹر وسیم اختر کے ایک اور سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے بہاولپور میں ایک نئی نہر نکالنے پر بات چل رہی ہے ۔ دریائے ستلج کے پانی سے ایک مصنوعی جھیل بھی بنائی جارہی ہے اور سات مارچ کو کمشنر کی زیر صدارت ایک اجلا س بھی ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر وسیم اختر کے اصرار پر ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں اس جھیل پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ حکومت چوکے چھکے مارتی ہے ، یہ منصوبہ فائلوں کی نظر ہے ۔ بہاولپور کی عوام کی محرومیوں اور انکے ساتھ ڈکیتیوں کی وجہ سے عوام کہتے ہیں کہ بہاولپور کو صوبہ بنایا جائے ۔ ارشد ملک ایڈووکیٹ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ ضلع ساہیوال میں موضع نتھو وصلی کی 116ایڑ اراضیاور 36گھر اور موضع کوڑے شاہ کی 319ایکڑ اراضی اور 11گھر گزشتہ پانچ سالوں مین دریا کے کٹاؤ میں آچکے ہیں ۔ حکومت نے موضع نتھو وصلی میں 37.354ملین روپے اور کوڑے شاہ زیریں میں 53.948ملین روپے کے دو گائیڈز سپر بناہے ہیں ۔ 2014-15ء کے دوران حکومت نے گائیڈ سپر نتھو وصلی کے لئے 13.0ملین روپے او رکوڑے شاہہ زیریں کے لئے 10.0ملین روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں ۔لیفٹیننٹ کرنل (ر) سردارمحمد ایوب کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ پانی چوری کے مقدمہ کو نا قابل ضمانت بنانے اور جرمانوں میں اضافے کے لئے سمری وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد کابینہ کمیٹی کو بھجوا دی گئی ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ نئے قانون میں ایس ڈی او کو مجسٹریٹ کے اختیارات دئیے جائیں گے جبکہ پانی کی فراہمی کی شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا اور ایس ای ہی کسی پانی کو بحال کر سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی طرف سے پانی چوری کے خلاف درخواستوں پر مقدمات کا اندراج نہیں کر تی اسکے لئے صوبائی وزیر ‘ ایڈیشنل آئی جی ‘ ہوم سیکرٹری اور سیکرٹری ایری گیشن کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے جو اس کا جائزہ لے گی ۔ بھارت کالا باغ ڈیم

مزید : صفحہ آخر