آئین کے تحت جاوید نسیم کی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں

آئین کے تحت جاوید نسیم کی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی پارٹی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی جاوید نسیم کو پارٹی سے نکال دیا اور سپیکر اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ ان کی رکنیت ختم کرنے کا سلسلہ شروع کریں، اس پر کارروائی کرتے ہوئے اسمبلی کے سپیکر نے رکنیت ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج دیا ہے، جاویدنسیم کا صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے اِٹ کھڑکا چلا آرہا ہے۔ دونوں ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہے، اب سینیٹ کے الیکشن کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جاوید نسیم نے اپنی بغاوت کا کھلم کھلا اظہار کردیا ہے کیونکہ اس وقت ارکان اسمبلی کے ووٹ بہت قیمتی ہوگئے ہیں، بلکہ ’’ہم خرما وہم ثواب‘‘ والا معاملہ ہے، اگر اپنی پارٹی میں عزت نہیں تو کیا ہو،ا مخالفین تو ہاتھوں ہاتھ لینے کے لئے تیار ہیں، ایسے میں جاوید نسیم کو پارٹی سے نکال کر کوئی منافعے کا سودا نہیں کیا گیا، انہیں نکالنا تھا تو پہلے نکالا جاتا، اب رکنیت کے خاتمے کے لئے ریفرنس کا فیصلہ بھی تو ’’چٹ منگنی پٹ بیاہ‘‘ کے طریقِ کار کے تحت نہیں ہوسکتا، آج سینیٹ کا الیکشن ہے، جاوید نسیم کے خلاف اگر کوئی ایکشن ہوتا ہے تو بھی انتخاب کا مرحلہ تو بخیر و خوبی گزر ہی جائیگا۔

اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کسی رکن کی رکنیت کسی طرح ختم کرسکتا ہے؟ یہ طریق کار آئین کے آرٹیکل 63 اے میں درج ہے، جس کا عنوان ہے انحراف وغیرہ کی بنا پر نااہلیت،

آرٹیکل (1)63 میں کہا گیا ہے

’’اگر ایک ایوان میں کسی واحد سیاسی جماعت پر مشتمل پارلیمانی جماعت کا ایک رکن

(اے) اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے استعفا دے دیتا ہے یا کسی دیگر پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔

(بی) اس پارلیمانی پارٹی جس سے وہ تعلق رکھتا ہے کی جانب سے جاری کردہ کسی ہدایت کے برعکس ایوان میں حسب ذیل سے متعلق ووٹ دینے سے اجتناب کرے۔

(i) وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا انتخاب یا

(ii) اعتماد کے ایک ووٹ یا عدم اعتماد کے ایک ووٹ یا

(iii) یا کسی مالی بل یا آئین (ترمیمی) مسودہ

تواسے جماعت کے سربراہ کی جانب سے تحریری طور پر سیاسی جماعت سے انحراف کرنے کو اعلان کیا جاسکے گا اور جماعت کا سربراہ متذکرہ اعلان کی ایک نقل افسر صدارت کنندہ اور چیف الیکشن کمیشن کو ارسال کرے گا اور اس طرح سے اس کی ایک نقل متعلقہ رکن کوبھی ارسال کرے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ متذکرہ اعلان کو وضع کرنے سے قبل جماعت کا سربراہ ایسے رکن کو اظہار وجوہ کا ایک موقع فراہم کرے گا کہ کیوں نہ اس کے خلاف متذکرہ اعلان کو وضع کیا جائے ۔

جاوید نسیم کو پارٹی سے تو نکال دیا گیا ہے مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اسمبلی کے ایوان سے بھی نکالا جاسکتا ہے؟ بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ جاوید نسیم آئین کے ارٹیکل (63) اے کی کسی شق کی مخالفت کے مرتکب نہیں ہوئے نہ تو انہوں نے استعفا دیا، نہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا اور نہ ہی کسی اعتماد یا عدم اعتماد کی تحریک کے موقع پر ایسا رویہ اپنایا، نہ ہی انہوں نے فنانس بل کے موقع پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا، اب اگر کوئی رکن آئین کی اس شق کی مخالفت کا مرتکب ہی نہیں ہوا تو اسے کس بنا پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ سیاسی پارٹی میں تو آمرانہ احکام چل جاتے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کو تو بہر حال یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا جس رکن کے متعلق ریفرنس بھیجا گیا ہے وہ آئین کی متعلقہ شق کی مخالفت کا مرتکب بھی ہوا ہے یا نہیں؟

جاوید نسیم کا زیادہ سے زیادہ قصور کیا ہے؟ کہ انہوں نے پارٹی کے متعلق برسر عام کچھ ایسی باتیں کردیں جو پارٹی قیادت کو پسند نہیں آئیں، تو یہ کوئی جرم نہیں، پارٹی کے نزدیک ہوگا، تاہم کسی رُکن کی نااہلیت کے لئے ناکافی ہے، جاوید نسیم کے متعلق زیادہ سے زیادہ یہی کہاجاسکتا ہے کہ وہ پارٹی کے نامزد امیدوار کو ووٹ دینا نہیں چاہتے یا نہیں دیں گے، اول تو خفیہ بیلٹ میں یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں کہ ووٹر نے کس کو ووٹ دیا۔ اگر کسی طرح یہ پتہ چلا بھی لیا جائے تو بھی قانون شہادت کی رو سے یہ کس حد تک قابل قبول ہے یہ بحث طلب بات ہے۔ بلکہ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ووٹر نے ابھی تک ووٹ نہیں ڈالا وہ آج ڈالے گا اور اگر یہ جرم ہے تو آج کے بعد اس وقت سرزد ہوگا جب وہ ووٹ ڈال چکا ہوگا۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ اگر کوئی رکن (ووٹر) سینیٹ کے انتخاب میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے گا تو اسے اسمبلیسے نکالا جاسکے گا، صرف تین صورتیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں اس کے سوا جو بھی صورت ہوگی وہ کسی رکن کی رکنیت پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی، اس لئے جاوید نسیم کی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں وہ خود بھی یہ جانتے ہیں اس لئے انہوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ کوئی مائی کا لال انہیں اسمبلی سے نہیں نکال سکتا۔

مزید : تجزیہ