آئی جی آفس کے آپریٹرنے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی

آئی جی آفس کے آپریٹرنے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی

 لاہور(کرا ئم سیل ) نواں کوٹ کے علاقے میں گھریلو ناچاکی اور کاروبار میں نقصان پر آئی جی آفس کے کنٹرول روم کے آپریٹر 32 سالہ کانسٹیبل نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی ، پورسٹمارٹم سے انکار پر پولیس نے ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دیا ۔بتایا گیا ہے کہ نواں کوٹ کے علاقے نیک کالونی میں رہائش پذیر دو بچیوں کا باپ 32 سالہ کانسٹیبل سہیل جو کہ آئی جی آفس میں بطور آپریٹر ڈیوٹی کرتا تھا گھریلو حالات کی وجہ سے انتہائی پریشان رہتا تھا۔ گزشتہ روز اس نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا لیں جس کی وجہ اس کی حالت غیر ہو گئی اسے طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا اطلاع ملنے پر پولیس نے لاش قبضے میں لے لی جو بعد ازاں پورسٹمارٹم سے انکار پر ورثاکے حوالے کر دی گئی ، کانسٹیبل سہیل 15سال سے محکمہ پولیس میں ملازم تھا ۔اسکے بھائی کے مطابق سہیل نے اعوان ٹاؤن کے ایک دوست کے ساتھ ملکر انٹرنیٹ کیبل کا کاروبار کر رکھا تھاسہیل کو کچھ ماہ تک تو کافی منافع ملتا رہا مگر بعد میں اس کے پارٹنر نے نقصان بتانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے سہیل لاکھوں روپے کا مقروض ہو چکا تھا۔ گزشتہ روز ایک نامعلوم شخص اور ایک خاتون سہیل کے پاس آئے اور اونچی آواز میں اس سے اپنے17لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جو سہیل نے کاروبار کے لیے ادھار لے رکھے تھے ان کے جانے کے بعد سہیل اپنے کمرے میں گیا اور گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا لیں جس سے اس کی حالت بگڑ گئی جب سہیل کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو اس نے اپنے نزعی بیان میں بتایا کہ وہ قرض خواہوں کی باتیں برداشت نہ کر سکا اور گولیاں کھالیں ہیں اس دوران ڈاکٹروں نے اس کو بچانے کی بہت کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔

مزید : علاقائی