37 سرکلز میں 2 اے ایس پی،35 ڈی ایس پی ناقص کارکردگی کے باوجود سیٹون پر اجمان

37 سرکلز میں 2 اے ایس پی،35 ڈی ایس پی ناقص کارکردگی کے باوجود سیٹون پر اجمان

 لاہور (شعیب بھٹی ) روز بروز بڑھتے ہوئے جرائم میں اضافہ کے باوجود شہر لاہور کے 37سرکلزمیں 2اے ایس پیز ،35ڈی ایس پی ناقص کارکردگی کے باوجود بھی اپنی سیٹوں پر \"سیاسی آشیرباد\"کی وجہ سے عرصہ دراز سے براجمان ہیں ۔حکام بالا بھی مذکورہ پولیس افسران کوسیاسی اثر ورسوخ رکھنے کی بناء پر تبدیل کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں جس کے باعث مذکورہ سرکلز میں چوری ،ڈکیتی ،راہزنی سمیت قتل وغارت گری کے علاوہ دیگر جرائم میں بتدریج اضافہ ہوتاجارہا ہے تاہم ارباب اختیار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے 37سرکلز میں 2اے ایس پیز اور35ڈی ایس پیزعرصہ دراز سے ایک سرکل سے دوسرے سرکل میں تعینات ہو کر پرُکشش سیٹوں کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔ر یس کو ر س سر کل میں صفدر ر ضا کاظمی ، پرانی انارکلی سرکل میاں لیاقت علی ، قلعہ گجر سنگھ سرکل شہزاد رفیق ،گلبرگ سرکل ناصر باجوہ ،ٹبی سٹی سرکل کے ڈی ایس پی ملک مشتاق ، نولکھا سرکل ناصر حنیف ، رنگ محل سرکل عتیق سندھو، گوالمنڈی سرکل ناصر مشتاق ، بادامی باغ سرکل شمس الحسن ، شفیق آباد سرکل ارشد حیات کانجو، مصری شاہ سرکل حاجی محمد اکرم ، گلشن راوی سرکل رانا غلام عباس ، اقبال ٹاؤن سرکل رانا غلام شبیر ،وحدت کالونی سرکل عبداللہ جان ، مغلپورہ سرکل عبدالقیوم ،،کاہنہ سرکل اقبال شاہ ،ماڈل ٹاؤن سرکل شہزاد منظور ، گارڈن ٹاؤن سرکل میر کاشف خلیل ، اچھرہ سرکل محمود الحسن ،ڈیفنس سرکل عاصم افتخار ،جنوبی چھاؤنی سرکل احسان گوندل، شمالی چھاؤنی سرکل منصور الحسن ،مناواں محمد خالد ، سبزہ زار سرکل عمران کرامت بخاری ،ٹاؤن شپ سرکل عاطف حیات لاہور کے ایک سرکل سے دوسرے سرکلز میں تعیناتیوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ چند بااثر ڈی ایس پیز قبضہ گروپوں کی پشت پناہی اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں ۔ شاہدرہ سرکل کے ڈی ایس پی عابد حسین کو کچھ عرصہ قبل گلشن راوی سرکل سے قبضہ گروپوں کی پشت پناہی اور ناقص کارکردگی کی بنا پر آئی پنجاب نے تبدیل کرکے فیصل آباد بھجوایا مگر ایک بار پھر لاہور میں پرکشش شاہدرہ سرکل میں آکر تعینات ہو گئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں یہ ڈی ایس پیز عرصہ دراز سے سیاسی سفارشوں اور اعلیٰ افسران کے منظور نظر ہونے کی بنا پر تعینات ہیں ۔ ان میں سے اکثر ڈی ایس پیز کے خلاف محکمانہ کارروائیاں بھی چل رہی ہیں مگر پھر بھی ان کو سرکلز میں تعینات کیا گیا ہے ۔ ان ڈی ایس پیز کے پاس جانے والے سائلوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے دفاتر میں جانے کے لئے پرچی اور چٹ سسٹم رائج ہے ،بغیر وقت لیکر جانے والے سائلوں کو ڈی ایس پیز کے دفاتر میں جانے نہیں دیا جاتا جس کے باعث متاثرہ افراد دن بھر دھکے کھانے کے بعد گھروں کی راہ لیتے ہیں ۔

مزید : علاقائی