بھارت کو ہمارے ہاں دہشت گردی بند کرنا ہوگی

بھارت کو ہمارے ہاں دہشت گردی بند کرنا ہوگی
بھارت کو ہمارے ہاں دہشت گردی بند کرنا ہوگی

  

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، گزشتہ روز بھارت کے سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر پاکستان آئے اور پاکستانی ہم منصب اعزاز چودھری سے ملاقات کی۔ملاقات کے بعد سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے بتایا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ سے کشمیر سمیت تمام ایشوز پر بات ہوئی۔ فاٹا اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ اٹھایا۔ سیاچن، سرکریک اور دیگر امور پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ بھارتی ہم منصب کے سامنے ایل او سی پر کشیدگی کا معاملہ اٹھایا۔ ملاقات میں سمجھوتہ ایکسپریس کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ آج سات آٹھ سال ہو گئے ،مگر ہمیں سمجھوتہ ایکسپریس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ بھارت کے خارجہ سیکرٹری سبرامینم جے شنکر میڈیا کے ساتھ مختصر گفتگو میں وہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے بارے میں سوال کا جواب گول کر گئے اور دیگر سوالات کا بھی جواب نہیں دیا۔ ان کا اصرار تھا کہ ملاقات میں سرحدی کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر ایک دوسرے کے خدشات اور مفادات پر کھل کر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ سرحد پر دہشت گردی اور ممبئی حملوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ملاقات میں بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں سمیت سرحد پار دہشت گردی کے معاملات پر اس کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا گیا۔ بھارت نے ایک بار پھر ممبئی حملوں کا معاملہ اٹھاکر پاکستان سے حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے تناظر میں وزارت خارجہ کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا کہ مذاکرات کے دوران مسئلہ کشمیر سرکریک سیاچن اور پانی کے مسائل زیر بحث آئیں گے اور پاکستان نے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کے لئے ایجنڈا طے کرنے کا کام شروع کردیا ہے، لیکن اس کے برعکس نئی دہلی میں بھارتی سیکرٹری خارجہ کے اسی دورے کو سارک ممالک کے معمول کے دورے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔سیکرٹری خارجہ جے ایس شنکر کے دورہ پاکستان سے کسی قسم کے ڈرامائی نتائج کی توقع نہیں، کیونکہ یہ ان کا سارک ممالک کا دورہ ہے جس کے دوران وہ پاکستان بھی جائیں گے۔ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے مسئلہ کشمیر ہو یا سیاچن اور سرکریک جیسے مسائل یا دونوں ملکوں کے درمیان پانی کا تنازعہ ایسے معاملات خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر زیر غور تو لائے جاسکتے ہیں ،لیکن انہیں نتیجہ خیز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہیں نتیجہ خیز بنانے کے لئے بیوروکریسی سے اوپر حکومتی سطح کے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ کے پاکستان دورے کا نتیجہ تو حسب معمول مثبت نہیں نکلے گا ،کیونکہ بھارتی وفد اپنے موقف کو آگے بڑھانے پر مْصرہے ،جبکہ پاکستان نے کشمیر کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا۔ سرحدی کشیدگی کی براہ راست جڑیں بھارت کے سنگھا سن پر براجمان بی جے پی کے انتہا پسند ایجنڈے سے جا ملتی ہیں، کیونکہ اس دوران بھارتی بارڈر سیکورٹی چیف کے بیانات سامنے آئے کہ حکومت کی جانب سے ہدایات ہیں کہ پاکستان کی ایک گولی کے جواب میں پانچ گولیاں چلائی جائیں۔ یہ سرحدی جارحیت ابھی جاری تھی کہ گزشتہ سال 31دسمبر کو بھارتی بحریہ نے ایک پاکستانی کشتی کو تباہ کرکے یہ دعویٰ کیا کہ دراصل یہ ممبئی حملوں کا ’’پارٹ ٹو‘‘‘ تھا۔ جب کوسٹ گارڈز کے ڈی آئی جی نے دعویٰ کیا کہ کشتی ، اس پر سوار افراد نے نہیں ،بلکہ اْن کے حکم پر تباہ کی گئی تھی تو بھارت کی جارحانہ پالیسی کا ایک دفعہ پھر پردہ چاک ہوا۔

پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات رکھنے کے بعد نریندر مودی کی حکومت کو یکایک اپنا سیکرٹری خارجہ پاکستان بھیجنے کا خیال کیوںآیا ۔اس کا جواب یہ ہے کہ امریکی صدر کا دورہ بھارت اور امریکہ کی جانب سے بھارت کو سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی پیشکش کے بعد مودی حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ بشمول پاکستان خطے کے تمام ممالک سے حالات بہتر کرے، کیونکہ بھارت اخلاقی طور پر اس سیٹ کا حقدار تب تک نہیں بن سکتا جب تک اس کے ہمسایہ ممالک اس سے مطمئن نہیں ہوتے۔ بھارت اپنے حجم اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے بگاڑ بیٹھا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مسائل تو اپنی جگہ چین، نیپال ، بھوٹان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی بھارت سے خوش نہیں۔ خطے میں ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا بھی اس کی مجبوری ہے۔بھارتی سیکرٹری خارجہ کی سارک ممالک کے دورے کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

پاک بھارت سیکرٹری خارجہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ تو ہمارے سامنے نہیں آسکا ، کیونکہ ظاہر ہے برسوں کے یہ پیچیدہ اور گنجلک مسائل حل کرنے میں بھی کئی دہائیاں لگیں گی۔ اپنے حجم ، معاشی اور فوجی لحاظ سے سب سے طاقتور ہونے کی وجہ سے بھارت پر ذمہ داریاں بھی زیادہ عائد ہوتی ہیں۔ لہذا یہ دورہ صرف دکھاوے کا دورہ تھا۔ باقی جہاں تک مسائل کے حل کا تعلق ہے تو وہ بھارت نہ کبھی حل کرے گا اور نہ ہی اس طرف توجہ دے گا۔ اگر بھارت مذاکرات میں مخلص ہے تو وہ پاکستان میں دہشت گردی بند کرے۔ بلوچستان اور فاٹا میں در اندازی بند کرے۔ پاکستان کا پانی نہ روکے۔ سیاچن ، سرکریک کے مسئلے کو حل کرے۔ سمجھوتا ایکسپریس اور مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرے۔ اگر وہ یہ سب نہیں کرتا تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بھارت صرف وقت گذار رہا ہے اس کو مذاکرات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے بھی بھارتی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات میں برملا کہا ہے کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات چاہتا ہے، لیکن کشمیر سیاچن، سرکریک اور پانی کے مسائل اور اپنے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت کے تحفظات کو دور کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

مزید : کالم