حکومت کی نیت ٹھیک نہیں

حکومت کی نیت ٹھیک نہیں
 حکومت کی نیت ٹھیک نہیں

  

 وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے سول بیوروکریسی میں ریفارمز کی پکار اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اب کی بارانہوں نے سول بیوروکریسی کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے اور آئندہ بجٹ کے بعد کئی بابوؤں کا باجا بجا دیا جائے گا۔ اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور سول بیوروکریسی میں ریفارمز کی آڑ میں کچھ اور کھیل کھیلنے کی تیاری ہو رہی ہے ، یہ الگ بات کہ ہمارے پاس اس مفروضے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں سوائے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ان خیالات کے جس کا اظہار انہوں نے حال ہی میں اس سلسلے میں لاہور میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا۔ ان کا یہ کہناہے کہ ہمارے بیوروکریٹوں کے پاس بہت زیادہ نالج ہے، لیکن وہ اس نالج کو عوام کے مسائل کے حل کے ضمن میں بروئے کار لانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کا کام عوام کا تحفظ ہے، لیکن جب کسی کو تحفظ کی ضرورت پڑتی ہے تو اسے پرائیویٹ سیکورٹی رکھنی پڑتی ہے، ان کے نزدیک حکومتی کنٹرول میں چلنے والے سکولوں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے افراد کو اچھی نتخواہیں دی جاتی ہیں، لیکن عوام جب بھی اچھی تعلیم اور اچھی طبی سہولیات کے لئے دیکھتے ہیں تو پرائیویٹ سیکٹر کی طرف دیکھتے ہیں۔ احسن اقبال کا یہ بھی خیال ہے کہ ہمارے بیوروکریٹ کم و بیش سٹیٹس کو کے حامی ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے کسی سیانے کا انگریزی میں ایک قول سنایا کہ Exercising leadership is discomforting peopleیعنی قائدانہ کردار کو استعمال میں لانے کا مطلب لوگوں کو مضطرب کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ تاہم ان کے بقول اس صورت حال سے نکلنا ہی اس پراجیکٹ کا منشا ہے، جس کا نام اڑان رکھا گیا ہے جو changeکی بات کرتا ہے۔ اس ضمن میں جناب احسن اقبال اس آدمی کی کہانی سناتے ہیں، جس نے 300 فٹ کی بلندی سے اس وقت سمندر میں چھلانگ لگادی جب ساحل پر کھڑے تیل کے جہاز میں آگ لگ گئی تھی، تین دن بعد جب ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے زندہ سمندر سے نکالا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ اس نے اتنی بڑی جرأت کا مظاہرہ کیسے کیا تو اس کا جواب بہت سادہ تھا کہ اس نے sure deathاور possible deathمیں ایک آپشن کو چنا اور سمندر میں چھلانگ لگادی۔ ہماری بیوروکریسی میں سست اور کاہل افسران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ حکومت پرفارمنس کی بنیاد پر ترقی کا فارمولہ بھی نافذ نہیں کر سکتی، کیونکہ تنخواہوں میں اس قدر زیادہ بُعد کا پیدا ہونا ازخود سسٹم کے لئے خطرناک ہوگا، پہلے ہی اچھے بیورو کریٹوں نے ان کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے جو تنکا توڑنے پر بھی تیار نہیں ہوتے اور خلیفوں کا کام بھی ان کو کرنا پڑتا ہے جو فرض شناسی کے احساس سے مالامال ہوتے ہیں، وہ کام نہ کرکے بھی وہی فوائد لے رہے ہوتے ہیں جو کچھ دوسرے بیوروکریٹ کام کرکے لے رہے ہوتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ اب صرف سانس چلنی چاہئے اور بالآخر ایک دن بائیسویں گریڈ میں پہنچ ہی جائیں گے ، یہ اپروچ انہیں آمادہ ہی نہیں کرپاتی کہ وہ بھی کشی کا چپو چلائیں۔ اگرچہ احسن اقبال اس کام میں اس لئے جتے ہوئے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی بیوروکریسی اصلاح احوال کرکے دوبارہ سے پٹڑی پر چڑھ جائے لیکن جو لوگ وزیراعظم نواز شریف سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ نواز شریف اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور بے وفائی کبھی نہیں بھولتے، اس لئے بیوروکریسی کی سمت درست کرنے کے چکر میں محض ناپسند افسران کو کھڈے لائن یا پھر فارغ کیا جائے گا، جنہوں نے تحریک انصاف کے چار ماہ کے دھرنے کے دوران وزن حکومتی پلڑے میں ڈالنے کے بجائے مخالف پلڑے میں ڈالا تھا۔ اندریں حالات ہماری سول بیوروکریسی نے چڑھتے ہوئے پارے کا مزاج پڑھنا شروع کردیا ہے اور ممکن ہے آنے والے دنوں میں یہ سردجنگ تیزی اختیار کرجائے اور عوام کو ایک نیا episodeدیکھنے کو ملے، آنے والا اگست کا مہینہ پھر سے اہم ہو سکتا ہے!

مزید : کالم