سگنل فری منصوبہ، زرخیز دماغوں کی ایجاد!

سگنل فری منصوبہ، زرخیز دماغوں کی ایجاد!
سگنل فری منصوبہ، زرخیز دماغوں کی ایجاد!

  

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی صلاحیتوں کے ہم پہلے ہی سے قائل ہیں اور اس کے لئے کسی اور کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ وزیراعلیٰ کے میڈیا منیجر زور لگا کر کہتے ہیں کہ وہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے کام کرتے ہیں، یہ بھی تسلیم شدہ امر ہے ، اکثر اعلیٰ سرکاری افسر گواہ ہیں کہ بعض اوقات آدھی رات کے بعد بھی ان کو جگا لیا جاتا ہے،یہ صفت ہے اور لائق تعریف بھی ہے ، لیکن مخالف حضرات کو تو اس میں بھی بہت کچھ نظر آتا ہے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وزیراعلیٰ جس کام کے پیچھے پڑ جائیں اسے کرکے ہی دم لیتے ہیں، اب یہ الگ بات ہے کہ ایسے منصوبہ سازوں کو ڈھونڈھنے کی ضرورت ہے جو خادم اعلیٰ کو کسی امر پر قائل کرنے کے اہل ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک یہی ایک نکتہ ہے جس پر غور ضروری ہے کہ تعریف و تنقید تو ہوتی رہتی ہے، اب یہی دیکھ لیں ان کے ذہن میں میٹروبس سما گئی تو لاہور میں ریکارڈ مدت کے اندر چلا کر دکھا دی گئی اور پھر یہیں تک محدود نہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس کا منصوبہ شروع کر دیا گیا۔ ملتان اور فیصل آباد کے لئے منظوری دے دی گئی ہے۔ لاہور کی میٹرو بس سروس روزانہ ہزاروں لوگوں کو منزل تک پہنچاتی اور واپس لاتی ہے اور یہی سلسلہ راولپنڈی، اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں شروع ہوگا تو افادیت ظاہر ہو جائے گی۔ اب معترض حضرات کا کیا کیا جائے خصوصاً چودھری پرویز الٰہی صاحب کا جو اب بھی اسے جنگلہ بس کہنے پر مصر ہیں اور کہتے ہیں کہ میٹرو ٹرین (انڈرگراؤنڈ) کا منصوبہ ترک کرکے یہ جنگلہ بس شروع کی گئی ہے۔ اب اس بس کا کرایہ صرف 20روپے فکس ہے تو اس سے عوام ہی مستفید ہو رہے ہیں۔ معترض حضرات کو کیا پریشانی ہے کہ وہ سبسڈی کا شور مچا رہے ہیں۔

خیر یہ ذکر تو ایک دوسرے معاملے کی وجہ سے ہو گیا وہ یہ کہ قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سڑک کو سگنل فری بنانے کا منصوبہ منظور کرکے اس پر کام شروع کیا گیا ہے اس راہ میں دو انڈرپاس بھی بنیں گے ایک پر کام شروع ہے۔ یہ منصوبہ فیروز پور روڈ کے ’’کامیاب‘‘ تجربے کی روشنی میں بنا ہے۔ منصوبہ سازوں نے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو یہ باور کرا دیا ہے کہ فیروز پور روڈ کو سگنل فری بنا دیا گیا۔ کامیاب ہے اور ٹریفک کی روانی بڑھ گئی ہے۔ اس حوالے سے ان خبروں، تبصروں اور تجزیوں کو شاید وزیراعلیٰ تک نہیں جانے دیا گیا جن سے مطابق فیروز پور روڈ کو سگنل فری بنانے سے ٹریفک کی روانی تو شاید اتنی بہتر نہیں ہوئی جتنے حادثات ہونے لگے ہیں اور محترم ٹریفک وارڈن حضرات کی موج ہو گئی کہ وہ چار چار کی ٹولیوں میں ایک طرف کھڑے ہو کر ایسے حضرات کے منتظر ہوتے ہیں جو ٹریفک قواعد کی تھوڑی بہت خلاف ورزی کا ارتکاب کریں اور یہ چالان کر سکیں، ان کو اس امر سے غرض نہیں کہ اس سڑک پر بریکیں کیوں چیختی اور حادثات کیوں ہوتے ہیں۔ فیروزپور روڈ سے سفر کرنے والے ہر روز یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ اچانک سڑک کے ایک کنارے سے دوچار افراد آگے بڑھتے، گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کرتے اور مزے سے سڑک پار کرکے دوسری طرف چلے جاتے ہیں، یہ منظر کسی ایک مقام کا نہیں، قرطبہ چوک سے جنرل ہسپتال تک چلتے چلے جائیں ہر جگہ یہی کچھ ہوتا دکھائی دے گا کہ اس سگنل فری منصوبے نے پیدل چلنے والوں کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔

قرطبہ چوک سے اچھرہ تک ایک انڈر گراؤنڈ راستہ ہے، اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں اور یہ بھی بزرگ حضرات کے لئے مشکل کا باعث ہے کہ ان سے سیڑھیاں اترنا، چڑھنا مشکل ہوتا ہے۔پھر یہی نہیں سگنل فری منصوبہ سازوں نے ایک سڑک سے دوسری طرف جانے کے لئے جو راستے دیئے ہیں وہ بھی بڑا ہی دلچسپ منظر پیش کرتے ہیں۔ٹریفک رواں ہے جن حضرات نے دائیں جانا ہے ان کو خاصا آگے جا کر ایک راستہ مڑتا ہوا ملے گا، یہاں سے وہ بآسانی دائیں مڑ جائیں گے، اگرچہ بس، ٹرک یا اور بڑی گاڑی کو مڑنے کے لئے دو تین مرتبہ آگے پیچھے آنا پڑتا ہے، بہرحال یہ مرحلہ تو گزر ہی جاتا ہے، اصل کام تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے کہ دائیں مڑ کر جانے والے حضرات نے آگے سے بائیں کو جانا ہوتا ہے۔ ادھر سے ٹریفک آ رہی ہوتی ہے۔ ہر کوئی جلدی میں ہے کہ سگنل فری ہے رکنے کی ضرورت نہیں۔ یوں جب یہ حضرات آگے بڑھتے ہیں تو پھر اللہ ہی بچانے والا ہوتا ہے ورنہ دونوں اطراف سے تو ہر ممکن کوشش ٹکراؤ کی ہوتی ہے اور اکثر زور دار آواز آ بھی جاتی ہے جس کے بعد ہائے ،اُوٹی اور پھر گالی گلوچ اور جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ منصوبہ سازوں نے نہ تو اس کا کوئی نیا حل ڈھونڈا اور نہ ہی عام آدمی نے دو چار کلو میٹر چل کر انڈر پاس سے گزرنا شروع کیا ہے، اگر پیدل سڑک پار کرنے والے یہ ’’تکلف‘‘ کر بھی لیں تو دائیں مڑنے کے بعد بائیں جانے والی ٹریفک کا کیا بنے گا؟

اس ساری صورت حال کا جائزہ لے کر تو کوئی حل نہیں سوچا گیا البتہ قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک جیل روڈ اور گلبرگ روڈ کو بھی سگنل فری بنانے کا کام شروع کروا لیا ہے۔ تعمیر کی تکلیف سے گزر جانے کے بعد جب یہ سڑکیں بھی سگنل فری ہو جائیں گی تو یہاں بھی جگہ جگہ یہی نظارے ہوں گے جو فیروز پور روڈ کا مقدر ہیں، اس سارے منظر میں بزرگ حضرات کا کہیں بھی خیال نہیں رکھا گیا کہ ’’سینئر سٹی زن‘‘ تو بے کار شے ہیں ان کے ہونے نا ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔

اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وزیراعلیٰ کسی اطلاع اور سیکیورٹی کے بغیر خود کار ڈرائیو کرتے ہوئے فیروزپور روڈ سے گزریں تو شاید کچھ افسروں کو ’’شاباش‘‘مل ہی جائے۔ دہشت گردی کا زمانہ ہے۔ وزیراعلیٰ کی حفاظت بھی لازم ہے کہ اب تو مخبر بھی پولیس کے اندر سے ملازمین ہی برآمد ہونے لگے ہیں، البتہ یہ تجویز پیش کی جا سکتی ہے کہ محترم شہبازشریف صاحب اپنے کسی بے غرض اور مخلص دوست کی ذمہ داری لگائیں کہ وہ اس کا جائزہ لے کر ان کو رپورٹ کریں، بلکہ ویڈیو بنا کر پیش کر دیں تاکہ منصوبوں کی حساسیت تو سامنے آئے۔

ہمیں یقین ہے کہ یہ بھی نہیں ہو سکے گاکہ گزارشات پر مبنی یہ کالم ان کی خدمت میں پیش ہی نہیں کیا جائے گا کہ میڈیا منیجر حضرات بھی تو صاحب کا موڈ خراب نہیں کر سکتے کہ پھر ’’کچھ کچھ‘‘ ہو جائے گا، ابھی تک تو صاحب کی توجہ میٹرو بس کے پلوں سے بہنے والے اس پانی کی طرف نہیں دلائی گئی جو کسی بھی بارش کی صورت میں پرنالہ کی طرح سڑک پر آ کر نیچے سے گزرنے والے موٹرسائیکل سواروں کا حشر کر دیتا اور گاڑیوں پر دھماکے کرتا ہے۔ بارش رکنے کے بعد بھی پانی ٹپکنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اب ہمیں یقین ہے کہ قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری منصوبہ رکنے والا تو نہیں کہ خادم اعلیٰ کو پسند آگیا اور ان کے مطابق یہ عوامی سہولت ہے، تاہم یہ تو ممکن ہے کہ یہ منصوبہ ساز خود ہی ان نقائص کی طرف توجہ دیں اور ایسی صورت پیدا کریں کہ دائیں مڑنے والے بھی آسانی سے مڑ سکیں اور ٹریفک بھی جاری رہے ساتھ ہی پیدل والے حضرات کو سڑک پار کرنے کی سہولت کا بھی انتظام فرمائیں، میٹرو بس کے پلوں کی خرابی کا جرمانہ تو نگران افسروں کے ساتھ ٹھیکیدار پر عائد ہونا چاہیے۔

مزید :

کالم -