کرکٹ اور سیاست کے کرشمے

کرکٹ اور سیاست کے کرشمے
کرکٹ اور سیاست کے کرشمے

  

کرکٹ دو ٹانگوں اور دو ہاتھوں کا کھیل ہے، دماغ اس کھیل کے لئے ضروری نہیں ہے،اگر دماغ ضروری ہوتا تو قومی ٹیم جس مشکل حالات میں ہے، ایسے موقع پر معین خان جیسے سمجھدار اور ذمہ دار آدمی ’’کسینو‘‘ کیوں جاتے؟ کرکٹ کے میدان میں آنکھوں کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی، اگر آنکھ ضروری ہوتی تو پاکستان کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم ورلڈکپ نہ جیت سکتی۔ البتہ کرکٹ دیکھنے کے لئے آنکھیں ضروری ہیں۔ سو ہماری آنکھوں نے دیکھا کہ کرکٹ کے کپتان مصباح الحق پوری کوشش کررہے ہیں کہ ورلڈکپ میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل کریں، مگر ٹیم کے دیگر کھلاڑی خاص طور پر یونس خان اور احمد شہزاد اپنے کپتان کی خواہشوں پر پانی پھیرنے کے لئے ایک دم چاک چوبند ہیں۔ سو وہ ’’انڈے پر انڈہ‘‘ مارتے ہوئے اپنی لاجواب پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے میں بہت نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں، زمبابوے کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم نے کامیابی حاصل کرلی ہے، حالانکہ پاکستانی ٹیم نے پوری کوشش کی کہ زمبابوے کسی نہ کسی طرح کامیابی حاصل کرلے، اب اگر زمبابوے کے کھلاڑیوں میں ہی دم نہ ہو تو پاکستان کرکٹ ٹیم کیا کرے؟زمبابوے کے خلاف پاکستان کے سکور پر نظر ڈالی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ٹیم جیت تو گئی ہے، مگر اللہ اللہ کرکے۔۔۔جبکہ دوسری کامیابی اسے بدھ کو یوای اے کے مقابلہ میں ملی۔۔۔ بہرحال ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ پاکستان کی ٹیم ہارے یا جیتے، مگر اپنے کھیل کے معیار کو اوپر لائے۔ میدان کی شیر بنے، کاہلی، سستی اور بددلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’مٹی کا ڈھیر‘‘ نہ بنے۔

سیاست کے میدان میں صرف دماغ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میدان میں دماغ ہی کے ذریعے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اس حوالے سے بطور مثال سابق گورنر جنرل غلام محمد کا نام پیش کیا جا سکتا ہے، مرحوم مکمل طور پر ’’اپاہج‘‘ تھے، چلنا پھرنا تو دور کی بات، کھانا کھانے کے لئے بھی دوسرے شخص کی ضرورت پڑتی تھی، مگر اپنی جسمانی کمی کے باوجود وہ محض دماغ کی صلاحیتوں کی بنا پر گورنر جنرل کے عہدے پر جمے رہے اور اچھے اچھے ’’پہلوانوں‘‘ کو ان کا سامنا کرتے ہوئے خوف محسوس ہوتا تھا۔ بات دماغ کی ہو رہی ہے تو پھر ہمارے محبوب رہنما عمران خان چونکہ سابق کھلاڑی ہیں، سو وہ ایک عرصے سے سیاست میں بھی دماغ سے زیادہ ہاتھوں اور ٹانگوں سے کام لے رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک ناکام نظر آتے تھے، ان کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اسلام آباد نوازشریف کا استعفیٰ لینے کے لئے گئے، مگر اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کا استعفیٰ دے کر واپس آ گئے، مگر اب انہوں نے دماغ سے کام لینا شروع کر دیا ہے، ان میں یہ تبدیلی شادی کے بعد آئی ہے۔ شادی کے بعد ان کے اندر کا جذباتی نوجوان آہستہ آہستہ ایک سنجیدہ بزرگ میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ اپنے اندر آنے والی اس تبدیلی کو اگر انہوں نے پھر کسی شیخ رشید کے بتائے ہوئے ’’نسخے‘‘ کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کی تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عمران کی سیاست میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور وہ بہتر طور پر اپنا مقدمہ لڑ سکیں گے۔

عمران خان میں حالیہ تبدیلی سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے آئی ہے۔ خیبرپختونخوا سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے خاصا بدنام ہے، گزشتہ عام انتخابات میں دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی دھاندلی کے الزامات لگائے گئے تھے، مگر ہمارے محبوب رہنما اس بات پر یقین نہیں کرتے اور ان کا اصرار ہے کہ خیبرپختونخوا میں دھاندلی نہیں ہوئی۔ عمران خان کا یہ اصرار روز اول سے ہے، اب جبکہ انہوں نے دماغ سے کام لینا شروع کر دیا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ یہ بات تسلیم کرلیں کہ عام انتخابات میں دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی دھاندلی ہوئی تھی، بہرحال اس وقت عمران خان کی جماعت شدید خطرے میں ہے۔ اس بار نئی بات یہ ہوئی ہے کہ سینٹ کے رکن بننے کے ایک امیدوار نے عام اراکین اسمبلی کے بجائے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو ہی خریدنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں پندرہ کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے۔ یقینی طور پر اس پیشکش کرنے والے ’’صاحب‘‘ نے سوچا ہوگا کہ ایک ایک رکن کو خریدنے سے بہتر ہے کہ پارٹی کے چیئرمین کو ہی خرید لیا جائے، مگر عمران خان نے ’’بکنے‘‘ سے انکار کرتے ہوئے یہ سارا واقعہ میڈیا کے سامنے پیش کر دیا ہے، مگر میرے خیال میں عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ پیش کش کرنے والے ’’صاحب‘‘ کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے خود مقدمے کے مدعی بنتے اور ان ’’صاحب‘‘ کو سیٹ کے بجائے جیل بھجواتے، مگر عمران خان نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی، حالانکہ وہ جس دھاندلی، کرپشن اور رشوت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، اس کا تقاضا تھا کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے، بہرحال اس واقعے کے بعد عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیا کہ وہ خرید و فروخت کے اس دھندے کے خلاف آئینی ترمیم کروائیں۔ نوازشریف نے عمران خان کے مطالبے پر تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں آئینی ترمیم کے لئے مشاورت کی، مگر پیپلزپارٹی ، جے یو آئی اور عوامی نیشنل پارٹی نے آئینی ترمیم کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے، البتہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف آئینی ترمیم کے حق میں ہیں،یہاں سوال یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے اس مکروہ دھندے کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ عام انتخابات کے دنوں میں تمام بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں ٹکٹوں کی تقسیم کرتے ہوئے کروڑوں روپے اکٹھے کرتی ہیں۔ بڑی پارٹیوں کی تو بات ہی کیا، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ جیسی پارٹی بھی دو تین کروڑ روپے کما لیتی ہے جو بعد میں پارٹی کے رہنما شیخ رشید کے کام آتے ہیں، سینٹ کے انتخاب میں تو معاملہ خاصا دلچسپ ہوتا ہے، خاص طور پرخیبرپختونخوا میں تو ایک سرمایہ دار خاندان بریف کیس نہیں پورا ٹرک نوٹوں کا بھرکے لاتا ہے، وہ اراکین اسمبلی کو نوٹوں سے بھرے ہوئے ٹرک کا دیدار کراتا ہے، اب آگے سے رکن اسمبلی جتنا بھی صاحب کردار، باضمیر اور قانون پسند ہو، نوٹوں کے ٹرک کے اندر جھانکنے اور نوٹوں کی خوشبو سونگھنے کے بعد اس کا ایمان مکمل طور پر نہ بھی ’’ڈولے‘‘ تو پھر بھی تھوڑا بہت ’’زکام‘‘ تو ہو ہی جاتا ہے۔سو اس ’’زکام‘‘ سے نجات کے لئے وہ پہلے نمبر پر نہ سہی دوسرے، تیسرے نمبر پر ’’صاحب ٹرک‘‘ کے نام پر مہر لگا دیتا ہے، سو ان سے بچنے کے لئے اب تمام سیاسی پارٹیاں ایک صفحے پر اکٹھا ہونے کی کوشش کررہی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس حوالے سے تحریک انصاف سب سے زیادہ پریشان ہے، کیونکہ جماعت کے اندر بہت زیادہ گروپ بندی ہے۔ پیسے کا لین دین بھی عام ہے، گزشتہ پارٹی انتخابات میں رشوت کا بازار گرم تھا، اس وقت بھی کئی ایسے عہدیدار موجود ہیں، جنہوں نے دولت کے زور پر پارٹی عہدے خریدے ہیں اور جماعت کے اندر اس حوالے سے خاصی بے چینی بھی پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ پارٹی کے اکثر اراکین بھی خاصے پریشان ہیں، انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کا مستقبل کیا ہے؟

اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے کے ڈیرے پر ایک بزرگ سائل تشریف لائے، ایم پی اے نے ان سے آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے ایک موٹی تازی فائل ایم پی اے کے ہاتھوں میں تھما دی۔ ایم پی اے نے فائل اُلٹ پلٹ کر دیکھی اور سائل سے کہا، انشاء اللہ آپ کا کام ہو جائے گا، سائل نے ایم پی اے کے جواب کے بعد اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا، اسے دونوں ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے پہلے چوما پھر آنکھوں پر لگاتے ہوئے ایم پی اے کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ایم پی اے نے لفافہ کھولا تو اس میں سائل کے پیر و مرشد کا سفارشی خط تھا، ایم پی اے نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے سائل سے کہا، اپنے پیر و مرشد کو میرا سلام عرض کرنا اور ساتھ ہی عرض کرنا کہ اللہ ہمارے چیئرمین کے دل میں نرمی ڈالے اور وہ اسمبلیوں میں واپسی کا اعلان کر دیں، ان ایم پی اے صاحب کی یہ دعااب مجھے پوری ہوتی نظر آتی ہے، کیونکہ بدلتے ہوئے حالات میں عمران خان اسمبلیوں میں واپس جا سکتے ہیں اور اگر وہ ایسا کوئی اعلان کرتے ہیں تو پھر کہا جا سکتاہے کہ اب انہوں نے سیاست میں ’’دماغ‘‘ سے کام لینا شروع کر دیا ہے؟ ٹانگوں اور ہاتھوں سے کام لینے کا نقصان تو انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کے ممبران اسمبلی دن کے اجالے میں بکتے پھرتے ہیں۔

مزید :

کالم -