افغانستان پاکستان تعلقات: ایک نئے موڑ پر

افغانستان پاکستان تعلقات: ایک نئے موڑ پر
افغانستان پاکستان تعلقات: ایک نئے موڑ پر

  

افغانستان میں قابض فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ہی بڑی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جس سے پوراخطہ متاثر ہے، خصوصأ پاکستان جو افغانستان کے معاملات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکا ہے۔ پاکستان کی مجبوری اس کی پختون اکثریت ہے جس کی مرضی کے بغیر افغانستان میں امن ناممکن ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے جو لاشعوری طور پر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں روبہ عمل ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھتے ہوئے دونوں ملکوں کی قیادت معاملات کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر اقدامات کر رہی ہے۔ ماضی کے واقعات کو اگر نگاہ میں رکھا جائے تو مستقبل کے بارے میں صحیح اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

1990ء کے ابتداء میں جب سوویت یونین پسپا ہو ا توافغانستان کے حوالے سے امریکہ کی نیت بدل گئی۔وہی مجاہدین جنہیں دنیا کے70ممالک سے بلاکر سوویت یونین کے خلاف جہاد برپا کیا گیا تھا ،وہ اچانک امریکہ کی نظروں میں دہشت گرد بن گئے اور افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کو بننے سے روکا گیا ، ا ن کے مختلف گروپوں کو آپس میں لڑا کر خانہ جنگی کرائی گئی جو آٹھ سال تک جاری رہی۔ اس کے نتیجے میں مجاہدین کی حکومت تو نہ بن پائی، لیکن طالبان کی حکومت قائم ہوگئی ۔یہ حکومت بھی امریکہ کومنظور نہیں تھی اور اس کی نگاہوں میں کھٹکتی رہی، اسی لئے 2001میں امریکہ کی طرف سے 9/11کا بہانہ بناکر طالبان کی سرکوبی کے لئے افغانستان پر بھرپور حملہ کیا گیااور امریکی اور اتحادی فوجوں نے قبضہ جما لیا، لیکن ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ کے اتحادی کے طور پر افغانستان کے عوام کے خلاف شامل ہو گیا۔یہ بھی واضح ہوگیا کہ امریکہ اس خطے میں بھارت کو افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش تک بالا دستی دلانا چاہتا ہے ۔بھارت نے امریکہ کی اس حمایت کا فائدہ اٹھایا اور افغانستان میں اپنا جاسوسی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک بنایا جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سرمایہ کاری کی اور ہرطرح کی مدد فراہم کی۔ اس جاسوسی مرکز کا ہدف پاکستان ہی رہا جس کے نتیجے میں پاکستان آج تک دہشت گردی کی زد میں ہے۔ ان تمام سازشوں کے باوجود بھی امریکہ کو اپنے مقاصد میں ناکامی ہوئی ہے ۔

آج سے پانچ سال قبل افغانستان سے مایوس ہوکر امریکہ نے اپنی طاقت کے مرکز اور تزویراتی مدار(Strategic Pivot) کوایشائی بحرالکاہل کی طرف منتقل کردیا ہے اور وہاں بھی بھارت کو اپنا مدد گار بنایاہے اور جاپان ، جنوبی کوریااور آسٹریلیا کو اس اتحاد میں شامل کیا ۔اس اتحاد کا مقصد چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا ہے،جس طرح2001 ء میں امریکہ کا افغانستان پر حملے کا مقصد عالم اسلام کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنا تھا، لیکن اتنی بڑی عسکری کارروائی کے باوجود وہ ناکام ہواہے اور انتہاپسندی تو پہلے کی نسبت کہیں زیادہ پھیل چکی ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادی کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں۔

افغانستان میں خوشگوار تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناکامی کی تصویر ہے ۔طالبان فاتح کے طور پر سامنے آئے ہیں اگرچہ اس وقت وہ ڈرون اور ہوائی حملوں کے خطرات کے سبب بکھرے ہوئے ہیں، لیکن افغانستان کی اصل سیاسی اور عسکری قوت وہی ہیں اور مستقبل میں جو بھی فیصلہ ہوگا انہی کی مرضی سے ہوگا۔موجودہ تبدیلی کی اہم ترین بات یہ ہے کہ افغان قوم کی شعوری بیداری واضح طور پر نظر آئی ہے ،جس کا اظہار بھی ہوا ہے۔ مثلأ 2012میں فرانس میں انٹرا افغان ڈائیلاگ ہو ا، اورفیصلہ ہوا تھا کہ’’ جب افغانستان سے قابض افواج نکلیں گی تو افغان اپنے فیصلے خود کریں گے اور غیروں کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور ماضی جیسی سازشوں کا حصہ نہیں بنیں گے ۔،،یہ وہ شعوری بیداری ہے جس کے سبب وہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازشیں ناکام ہوگئی ہیں ۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور بھارت نے نئی حکمت عملی کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرنا شروع کیا ہے ۔بھارت ایشیاء کی سپر پاور بننا چاہتا ہے اور امریکہ ایشیاء کو اپنے مدار میں رکھنا چاہتا ہے ،لیکن ا ن ممالک کی یہ پالیسیاں افغان قوم کی شعوری بیداری کے سبب ناکام ہو ئی ہیں اور یہ ناکامی اس وقت واضح ہوگئی جب بیجنگ میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس منعقدہوئی، جہاں افغان قیادت نے بڑے واضح الفاظ میں اپنے مستقبل کے فیصلوں کا اشارہ دیا۔ اس موقع پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا کردار مثبت طورپر نمایاں ہواہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ افغانستان اپنے مستقبل کے فیصلوں میں اپنے چھ پڑوسی ممالک کو شریک کرے گاجن میں پاکستان ، ایران ، چین ،روس کے علاوہ وسطی ایشیا کے دو ممالک ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی نے ان ممالک کو اندرونی دائرہ(Inner Circle) قرار دیا باقی ملکوں سے مدد کے تو طلب گار ہوئے، لیکن یہ واضح کردیا کہ افغانستان کے فیصلے انہی ملکوں کے ساتھ مل کر کریں گے اور ماضی کی طرح دوسرے ملکوں کی طرف سے مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔

جب افغانستان میں یہ تبدیلی آرہی تھی تو پاکستان میں ضرب عضب آپریشن کا فیصلہ کیا گیاجو ایک اہم فیصلہ تھا۔اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کا افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم اور مثبت کردار سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی سفارت کاری جو اب تک بڑی معذرت خواہانہ تھی اس کا انداز بدل چکا ہے اور پاکستان نے مضبوط پالیسی کے تحت فیصلے کیے ہیں ۔پاکستان نے پہلی مرتبہ امریکہ کو بتایاہے کہ اس کے اتحادی بھارت نے پاکستان کو افغانستان میں بیٹھ کر شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے ایجنٹ آج بھی پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں۔بھارت کو بھی کھل کر بتا دیاگیا ہے کہ اس کی طرف سے یہ سازشیں اب بھی ہورہی ہیں۔افغانستان کو بھی بتادیا ہے کہ وہاں فضل اللہ بھی موجود ہے اور خالدخراسانی بھی بیٹھا ہے ۔ ان قبائلیوں پر مشتمل ایک نیا گروپ بھی بنا یا گیا ہے جو چند ماہ پہلے ضرب عضب کے نتیجے میں فرار ہوکر افغانستان گئے تھے۔ان کو ہمارے خلاف استعمال کیا جارہاہے۔ حکومت نے تمام سازشیں بے نقاب کرکے رکھ دی ہیں۔ اسی سلسلے میں آرمی چیف کابل اور امریکہ گئے تھے اور آرمی چیف کی جانب سے اس سازش کی تمام شہادتیں لے کر ڈی جی آئی ایس آئی امریکہ بھی گئے اور واضح کردیا کہ امریکہ ،برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کرپاکستان کے خلاف جو سازشیں ہوتی رہی ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں۔ جیسے دھرنوں کا لندن پلان ، جس میں پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرانے کی ساری کوششیں کی گئیں،لیکن یہ سب ناکام ہوگئیں اوروہ لوگ جو بیرونی ایجنٹوں سے مل کر فساد پیدا کرتے تھے اب ان میں حوصلہ باقی نہیں رہاہے ۔یہ سازش جو بڑے زور شور سے اٹھی تھی وہ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے کہ ایک دن اچانک امریکہ ، برطانیہ ، کینیڈا اور ایران نے ایک ساتھ ان سازشوں میں شریک ہونے سے انکار کیا ،یعنی سازشیں ہوتی رہی تھیں، لیکن ناکامی پر اس سازش کے سارے سر پرست الگ ہوگئے،لیکن سازشیں پھر بھی ہوں گی ، جن کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان اب مل کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

افغان طالبان کا مطالبہ ہے کہ قابض فوجیں نکلیں اور افغان صدر کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ختم کیا جائے ، جو درست مطالبہ ہے ،لیکن فتنہ پپدا کرنے کے لئے امریکہ نے کہا ہے کہ شاید مزید دو سال اور اس کی فوج افغانستان میں رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ سوچ رہاہے کہ وہ افغانستان میں افواج کی موجودگی مزید دوسال بڑھادے گا۔ طالبان نے اس وقت بڑی مثبت پالیسی اختیار کی ہے ان کے اندر ماضی کی طرح ہٹ دھرمی نہیں ہے انہوں نے اپنے مفادات کو چین اور پاکستان کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے ۔پاکستان نے چین اور طالبان کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطرمیں طالبان کا دفتر ایک بار پھر کھل گیا ہے ۔مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ،چین نے اگرچہ کھل کر اعتراف نہیں کیا ہے ،لیکن چینی قیادت کے ساتھ ماضی میں طالبان کے مذاکرات ہوتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں طالبان اس مقام تک پہنچے ہیں کہ و ہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہوئے ہیں ۔پہلے تو وہ یہ تجویز بھی نہیں سننا چاہتے تھے ۔

طالبان کے دوبڑے اہم مطالبات ہیں ،پہلا یہ کہ امریکی فوج افغانستان سے مکمل طور پر انخلا کرے، تاکہ افغان قوم ایک آزاد فضا میں بیٹھ کر مستقبل کا فیصلہ خود کرے ۔دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان قومی سلامتی کا معاہدہ ختم کیا جائے۔فوج کے انخلاء کے مطالبے کے جواب میں جان کیری کا یہ کہنا کہ ہم دوسال مزید یہاں رہیں گے دراصل فتنہ پھیلانے کی کوشش ہے ۔امریکہ ایک بار پھر اپنی فتنہ پردازی میں مصروف ہے ،کیونکہ چین ،روس،پاکستان ،ایران اور وسطی ایشائی ممالک نے افغانستان کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔اسی لئے امریکہ ایک مثبت پیش رفت کو ایک منفی صورت حال میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، جبکہ یہ واضح ہے کہ افغانستان کے حوالے سے اب امریکہ کی کوئی بھی پالیسی نہیں ہے صرف رخنہ اندازی ہے ،جبکہ افغان حکومت ،طالبان ،چین ،پاکستان اور افغانستان کے قریبی پڑوسی ممالک کی ایک واضح پالیسی ہے جو کامیاب بھی ہے۔

پچھلے سال پاکستانی قوم نے لندن پلان کے تحت جو کچھ دیکھا ہے اس میں ہمیں نقصان بھی ہوا ہے اور فائدہ بھی ہوا ہے۔ فائدہ یہ ہوا ہے کہ دھرنوں اور احتجاج کے سبب موجودہ حکمرانوں پر واضح ہوگیا ہے کہ’’ اب موروثی اور سرمایہ دارانہ نظام کی تبدیلی لازمی ہوگئی ہے۔اب یہ نظام جس طرح سے چلتا رہا ہے اس طرح نہیں چلے گا‘‘۔لندن پلان ناکام ہو ا ،لیکن تبدیلی ناگزیر ہے جو آئینی حدود میں رہ کر لانا ضروری ہے ۔آئینی حدود میں رہ کر تبدیلی لانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہے ۔ بہتریہ ہے کہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بڑے فیصلے کیے جائیں اور تبدیلی کا خاکہ تیار کیا جائے کہ کیسے اور کس طرح یہ تبدیلی آنی چاہیے ۔میرا اندازہ ہے کہ مارچ میں سینیٹ کے الیکشن کے بعد کوئی نئی صورت حال نظر آئے گی ۔یہ تبدیلی کیسے ہوگی اور کیا ہوگی ؟اس کا فیصلہ موجودہ حکومت اور ہمارے سیاست دانوں کو کرنا ہے۔خاموش بیٹھ جانا اور اسی نظام کو چلنے دینے سے نظام کی خرابی اور جمہوریت کا نقصان ہوگا۔ تمام تر ہیجانی کیفیات کے باوجود ایک اچھی فضا نظر آرہی ہے جہاں مضبوط تر فیصلے کرنے کا جواز موجود ہے ۔

مزید : کالم