بنک اکاؤنٹ ہولڈروں کا استحصال؟

بنک اکاؤنٹ ہولڈروں کا استحصال؟

  

خبر کے مطابق اے ٹی ایم مشینوں سے نکلوائی جانے والی رقم میں جعلی نوٹ بھی پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایم کے حوالے سے یہ شکایت بھی پائی جاتی ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر کارڈ داخل کر کے رقم حاصل کرنے کے قواعد پورے کرتا ہے، لیکن رقم نہیں نکلتی اور اس کے اکاؤنٹ میں سے اتنی رقم کم ہو جاتی ہے، جب متعلقہ بنک منیجر سے شکایت کی جاتی ہے تو اکاؤنٹ ہولڈر کو لمبے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے اور کئی کئی ماہ گزر جانے کے باوجود فیصلہ نہیں ہو پاتا، اِسی طرح بعض بنکوں کی بعض شاخوں کے بارے میں یہ شکایت بھی ملی ہے کہ ملی بھگت سے کسی بڑے اکاؤنٹ سے رقم نکلوا کر خورد برد کر لی گئی اور ثبوت دیئے جانے کے باوجود نہ رقم واپس ہوئی اور نہ ہی متعلقہ ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اکاؤنٹ ہولڈر پریشانی اٹھاتے رہے۔بنک امین کی حیثیت رکھتے ہیں یہ ادارے باقاعدہ تشہیر اور مارکیٹنگ کے معروف طریقوں کے ذریعے شہریوں کو اکاؤنٹ کھلوانے اور اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کی سہولتوں سے مستفید ہونے کے مشورے دیتے اور ان کو آمادہ کرتے ہیں۔ اب اگر ان بنکوں میں ہی سے کسی ایک یا دو شاخوں میں اس نوعیت کی بدعنوانی پائی جائے تو لوگوں کا اعتماد اُٹھ جائے گا ،جس سے پورے بنکنگ سیکٹر کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں قرض دینے اور اس کے مضمرات کی بات نہیں کریں گے کہ یہ دینے اور لینے والے کی صوابدید ہے، لیکن ان برائیوں کی طرف توجہ مبذول کرانا تو ضروری ہے جو اوپر بتائی گئی ہیں۔

جہاں تک اے ٹی ایم مشینوں کا تعلق ہے تو بنک کے اپنے نظام کے مطابق بنک کا مخصوص ملازم رقم مشین میں رکھتا اور اس کے حساب کی ذمہ داری بھی اسی کی ہوتی ہے اگر کسی اے ٹی ایم سے جعلی نوٹ بھی نکل آئے تو پھر ذمہ دار تو متعلقہ ملازم ہی ہو گا، اسی طرح اگر کیشئر سے لی گئی رقم میں بھی یہ ہو تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے، ایسے ہی بنک کے ان ملازمین کا معاملہ ہے جو کسی کے اکاؤنٹ میں سے جعل سازی کر کے رقم خوردبرد کرتے ہیں، ثبوت بھی مل جاتے ہیں تو پھر بنک انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کی شکایت رفع کرے اور متعلقہ ملازم کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بنکنگ کا شعبہ لازم وملزوم ہو چکا اس سے چھوٹے بڑے سب منسلک ہیں۔ یہ درست کہ بنک انتظامیہ ملازمت دیتے وقت بہت کچھ دیکھتی ہے اور قواعد و ضوابط بھی سخت ہیں، اس کے باوجود اگر کہیں ایسی واردات ہوتی یا ہو رہی ہے تو بنک انتظامیہ کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور احتسابی عمل کے ذریعے بنکوں کو ایسے بدعنوان ملازمین سے نجات دلانا چاہئے جو نہ صرف اکاؤنٹ ہولڈر کے نقصان کا باعث بنتے ہیں، بلکہ خود بنکنگ سیکٹر اور نظام کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔

مزید :

اداریہ -