بھارتی سیکرٹری خارجہ کی پاکستان آمد

بھارتی سیکرٹری خارجہ کی پاکستان آمد

  

جس مہمان کا انتظار تھا وہ آ ہی گئے، بھارت کے خارجہ سیکرٹری ایس جے شنکر پاکستان پہنچ گئے۔ انہوں نے منگل کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی اور پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری سے ملاقات کی۔ ان کے درمیان غیر رسمی مذاکرات بھی ہوئے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملے اور انہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خط بھی پہنچایا۔بھارتی سیکرٹری خارجہ کے آنے سے پاکستان اوربھارت کے درمیان موجود تلخی میں کمی آنے کی امید تو پیدا ہوئی ہے۔دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں نے ملاقات کے دوران ایک دوسرے سے گلے شکوے کیے اور اپنے دل کا حال بھی سنایا ۔ پاکستان نے بھارت سے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی شکایت کی اور سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ نہ آنے پر اپنی تشویش سے بھی آگاہ کیا۔ مسئلہ کشمیر ، سیاچن اور سرکریک زیر بحث آئے ،کنٹرول لائن پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ، ساتھ ہی ساتھ بلوچستان اور فاٹا میں بھارتی مداخلت سمیت2003ء کے سیز فائر امن معاہدے پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔بھارت نے بھی ممبئی حملوں اور سرحد پار دہشت گردی کے معاملات پر اپنا دیرینہ موقف دہرایا۔ملاقات کے بعددونوں سیکرٹری صاحبان نے کوئی مشترکہ بیان تو نہیں جاری کیا لیکن میڈیا سے مختصر گفتگو میں جنابِ مہمان نے مثبت ماحول میں ہونے والی بات چیت کو تعمیری قرار دیا۔ان کے مطابق دونوں ملک ساتھ مل کر کام کرنے اور اختلافات کم کرنے پر متفق ہیں۔ دونوں ممالک اس بات کو بھی مان گئے ہیں کہ سرحد پر امن قائم رکھنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سارک کا اگلاسربراہ ہوگا اور بھارت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ البتہ آئندہ مذاکرات کے لئے کوئی بھی وقت بتانے سے گریز کیا ،خیر یہ کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں ہے، کیونکہ یہ با ضابطہ مذاکرات نہیں تھے، بلکہ دراصل یہ بھارت کی جانب سے خیر سگالی کا ایک پیغام تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے سیکرٹری خارجہ کو ’ سارک یاترا‘ پر بھیجا تھا ،اسی لئے ایس جے شنکر بھوٹان اور بنگلہ دیش سے ہوتے ہوئے پاکستان پہنچے تھے ۔

نریندر مودی پاکستان کے بارے میں سخت موقف کی شہرت رکھتے ہیں، لیکن عہدہ سنبھالنے سے پہلے انہوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو(سارک سربراہوں کے ساتھ) اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی، پاکستانی رہنما نے اسے قبول کر کے معاملات کو آگے بڑھایا، لیکن بعد میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری حریت پسندوں سے ملاقات کو بنیاد بنا کر خارجہ سیکرٹری سطح پر ہونے والے مذاکرات ختم کر دیئے گئے۔یوں معلوم ہوا کہ بھارت کو مذاکرات معطل کرنے کے لئے بہانہ مل گیا ہے۔ اس کے بعد ورکنگ باونڈری اور کنٹرول لائن پر بندوقوں کے دہانے کھول دیئے گئے، بھارت کی جانب سے سخت پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا، پاکستان کے خلاف بھارتی عہدیدار زہر اگلنے لگے۔ نریندر مودی اپنی ہی جماعت کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہو گئے لیکن بھارت کی یہ ’ادا‘ بین الاقوامی برادری کوکچھ خاص پسند نہیں آئی اوراس نے نہ صرف بھارت پر اپنا رویہ بدلنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیابلکہ بات چیت کے ذریعے دونوں ممالک کو اپنے مسائل حل کرنے کی تلقین بھی کی۔امریکی صدر باراک اوبامہ نے اپنے دورے کے دوران بھارت کو ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی نصیحت کی اور اقلیتوں کے حوالے سے گاندھی جی کا دیا ہوا سبق بھی یاد کرایا ۔نریندر مودی ہیں تو ایک موقع شناس سیاست دان ، شاید اِسی لیے انہیں فوراً احساس ہو گیا کہ کچھ تو غلط ہو رہا ہے اور اسی سوچ کے تحت انہوں نے 13فروری کو وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، کرکٹ کی آڑ بھی لی اور سارک یاترا کا سہارا بھی لیا۔انہوں نے وزیراعظم کو مطلع کیا کہ ان کے سیکریٹری خارجہ تمام سارک ممالک کا دورہ کریں گے اور اسی سلسلے میں پاکستان بھی آئیں گے۔سارک ممالک کی چھتری ایک بار پھر وزیر اعظم مودی کے کام آ گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی بات بھی پوری ہو گئی کہ بھارت نے مذاکرات کا سلسلہ ختم کیا تھا اسی لئے دوبارہ شروع کرنے کی ذمہ داری اُسی کی بنتی ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کے دورے سے امیدکا دیا جل گیا ہے اور اس کی لو کو جلائے رکھنے کی آس ہی میں وزیراعظم نے بھارتی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات بھی کر ڈالی۔ پاکستان میں بہت سے حلقے بھارتی سیکر ٹری خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات پر معترض ہیں، انہیں وزیراعظم کی بھارتی سیکرٹری خارجہ کی ملاقات مناسب معلوم نہیں ہو رہی، حالانکہ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، گھر آئے مہمان کو عزت دینا تو ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور مہمان بھی وہ جو تلخی کم کرنے آیا ہو،اس کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا تو ہماری قومی ذمہ داری ہے ۔

اس ایک دورے سے بہت ساری امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتی تھیں، لیکن بہر حال یہ ایک مثبت پیش قدمی ہے۔یہ توقع ضرور رکھنی چاہئے کہ جلد ہی باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا، دونوں ممالک کے درمیان موجود ڈیڈ لاک توڑنے کے لئے روڈ میپ تیار کر لیا جائے گا۔بھارت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ خطے کی بڑی طاقت بننے کا اس کا ’حسین ‘خواب پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے بغیر حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف بات چیت کے ذریعے ہی بہتر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر سے بھی آنکھیں چرانے کی بجائے اس کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔پاکستان اور بھارت کے بہتر تعلقات دونوں ممالک ہی کی نہیں بلکہ پورے خطے کی ضرورت ہیں۔اب وقت آگیا ہے یاد ماضی کے عذاب سے نجات حاصل کر لی جائے، مستقبل کو ماضی کی آگ میں جھونک دینا باشعور قوموں کا شیوہ نہیں ہے۔

مزید :

اداریہ -