سرکاری کالجز کے ہزاروں ملازمین کی تبادلوں کے فیصلے کیخلاف احتجاجی تحریک شروع

سرکاری کالجز کے ہزاروں ملازمین کی تبادلوں کے فیصلے کیخلاف احتجاجی تحریک شروع

 لاہور(لیاقت کھرل،ذکا ء اللہ ملک)محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں کے سرکاری کالجزمیں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی ہے اور تین سال سے زائد عرصہ سے ایک مقام پر کام کرنے والے ملازمین کو ایک سے دوسری جگہ یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں ،اس حوالے سے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب نے لاہور سمیت پنجاب بھر کے چار سو کے قریب پبلک کالجز اور کلاجز ونگ کے دفاتر میں کام کرنے والے دس ہزار سے زائد ملازمین کو ٹرانسفر کرنے کے احکامات جاری کر دئے ہیں جس پر لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری کالجز اور کالجز ونگ کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔لاہور سمیت صوبہ بھر کے سرکاری کالجز کے ملازمین نے احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔جس میں سرکاری کالجز کے ملازمین نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جسکے باعث مال روڑ ،شاہراہ قائد اعظم اور ارد گرد کی سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک کا نظام معطل رہا۔دوسری جانب سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ احکامات کے بعد لاہور ڈویثرن کے 50سے زائد سرکاری کالجز میں 1500سے زائد کام کرنے والے ملازمین کو لاہور میں واقع ایک کالج سے دوسرے کالج یا لاہور سے شیخوپورہ،ننکانہ اور قصور کے اضلاح میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے ۔اسی طرح گوجرانوالہ ڈویثرن کے سرکاری کالجز کے ملازمین کو گورجرانوالہ میں واقع کالجز اور گوجروالہ ڈویثرن میں واقع کالجز میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے۔اسی طرح فیصل آباد ڈویثرن میں واقع سرکاری کالجز کے ملازمین کو فیصل آباد ڈویثرن کے اضلاح اور تحصیلوں میں واقع کالجز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر کیا جائے گا جبکہ بہالپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویثرن کے ساتھ راولپنڈی اور سرگودھا کی ڈویثرنوں میں بھی انٹر کالجز پالیسی کے تحت انعقاد کیا گیا ہے اور اس نئی پالیسی کے تحت ایک ڈویثرن سمیت اضلاع کی سطح پر کالجز کے ملازمین کی اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی گئی ہے ۔جس میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے 9ڈویثرنوں میں واقع پبلک کالجز کے گریڈ پانچ سے گریڈ سولہ تک کے ہزاروں ملازمین کے تقر و تبادلے کئے جا رہے ہیں جسکی بنا ء پر پبلک کالجز کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،محکمہ ہائر ایجوکیشن کے مذکورہ فیصلے پر صوبہ بھر کے سرکاری کالجز کے ملازمین نے احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے اور صوبہ بھر کے پبلک کالجز میں پہلے مرحلہ میں قلم چھوڑ ہڑتال جبکہ دوسرے مرحلے میں سرکاری کالجز کی تالہ بندی کی دھمکی دے دی ہے۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن محمد اسلم کمبوہ نے بتایا کہ سرکاری کالجز میں تین سال سے زائد عرصہ کام کرنے والے ملازمین کے تبادلے کئے جا رہے ہیں جس کی بدولت کالجز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

مزید : علاقائی