قرطبہ چوک سے لبرٹی تک سگنل فری کوری ڈور منصوبے کی تعمیر کے دوران درخت کاٹنے پر پی ایچ اے اور واپڈا کونوٹس

قرطبہ چوک سے لبرٹی تک سگنل فری کوری ڈور منصوبے کی تعمیر کے دوران درخت کاٹنے ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری کوری ڈور منصوبے کی تعمیر کے دوران عدالتی حکم کے باوجود درخت کاٹنے پر پی ایچ اے اور واپڈا کونوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سے منصوبے کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ کارروائی ایک شہری فہد ملک کی طرف سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر کی ہے ، درخواست گزار کے وکیل سعد امیر نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے 26فروری کو پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ سگنل فری کوری ڈور منصوبے کی تعمیر کے دوران ایک بھی درخت نہ کاٹا جائے مگر عدالتی حکم کے باوجود درخت کاٹے جا رہے ہیں اور منصوبے پر کام کرنے والے افراد کا موقف ہے کہ پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام کی طرف سے دباؤ ہے کہ منصوبے کی تعمیر میں درختوں سمیت ہر قسم کی رکاوٹ ختم کر کے پراجیکٹ پر کام شروع کیا جائے، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود درخت کاٹنے پر چیف سیکرٹری پنجاب اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، عدالتی حکم کی روشنی میں پراجیکٹ ڈائریکٹر خالد عزیز نے پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ جیل روڈ فوارہ چوک پر انہوں نے درخت نہیں کاٹے ، عدالتی حکم کے بعد وہ درخت کاٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ نے درخت نہیں کاٹے تو پھر کون ہے جو درخت کاٹنے میں ملوث ہے جس پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ پی ایچ اے یا واپڈا نے یہ درخت کاٹے ہوں کیونکہ وہاں کھمبے لگائے جارہے ہیں، عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 6 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

مزید : علاقائی