عالمی سطح پر تحفظ ناموس رسالت ؐکی تحریک کو منظم بنانے کا فیصلہ

عالمی سطح پر تحفظ ناموس رسالت ؐکی تحریک کو منظم بنانے کا فیصلہ

لاہور ( نمائندہ خصوصی) تحفظ ناموس رسالت ؐ قومی ایکشن پلان و عملدرآمد کمیٹی کے کنوینر لیاقت بلوچ کی صدارت میں منصورہ میں منعقدہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ عالمی سطح پر تحفظ ناموس رسالت ؐ کی تحریک کو منظم کیا جائے گا اورجب تک انبیاء اور آسمانی کتب کی توہین کو عالمی سطح پر جرم تسلیم کرکے اس کے خلاف قانون سازی نہیں کی جاتی ،ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔تحفظ ناموس رسالت ؐ کیلئے ملک بھر کی دینی ،سیاسی و سماجی جماعتوں کا ایک مستقل فورم تشکیل دیا جائے گا۔دنیا کے کسی چارٹر میں کسی بھی مذہب کی توہین کی گنجائش نہیں مگر اسلام ،پیغمبر اسلام ؐ اور قرآن عظیم الشان کی مسلسل توہین کی جارہی ہے ،مغربی ،یورپی اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں کیلئے ایک وفد بنایا جائے گا جو سفیروں کے ساتھ مرکزی قائدین کی ملاقاتوں کا انتظام کرے گا۔25مارچ کو اسلام آباد میں اتحاد امت کانفرنس منعقد کی جائے گی ۔5اپریل کو اسلام آباد میں تحفظ ناموس رسالت ؐ مارچ ہوگا ۔اقوام متحدہ ،او آئی سی اور یورپی یونین کے سیکریٹریز کے نام خطوط لکھے جائیں گے ،ملک بھر کی اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے انہیں بھی 5اپریل کے مارچ میں شرکت کی دعوت دی جائے گی ۔اجلاس جس میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل تھے، کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیا قت بلوچ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے خواجہ سعد رفیق نے اجلاس کو یقین دلایا ہے کہ حکومت اس مسئلہ کو پوری قوت کے ساتھ عالمی فورمز پر اٹھائے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری اقدامات اٹھانا ہونگے پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے ۔لیاقت بلوچ نے بتایا کہ سفیروں سے ملاقاتوں کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں عبدالغفار عزیز،میاں محمد اسلم ،ڈاکٹر عارف علوی ،قاری زوار بہاد ر ،علامہ زبیر احمد ظہیر شامل ہیں ،جسٹس عبدالحفیظ چیمہ ،جسٹس نذیر غازی ،جسٹس عبدالرحمن انصاری ،جسٹس ممتاز صوفی ،جسٹس اے کے ڈوگر پر مشتمل کمیٹی توہین رسالت ؐ اور مذہب کے خلاف قانون سازی کیلئے مسودہ قانون تیار کرے گی۔اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور او آئی سی کے سیکریٹریز کے نام مشترکہ خط کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی میں ڈاکٹرفرید پراچہ ،مولانا امجد خان ،امیر حمزہ سمیت شریک جماعتوں کے راہنما شامل ہیں ،سوشل میڈیا پر بھرپور جواب دینے کیلئے امیر العظیم کی نگرانی میں میڈیا تشکیل دی گئی ہے ۔

مزید : علاقائی