باپ کی موت بھی بہادر آدمی کو خوفزدہ نہ کرسکی،وہی کام کردکھایا

باپ کی موت بھی بہادر آدمی کو خوفزدہ نہ کرسکی،وہی کام کردکھایا
باپ کی موت بھی بہادر آدمی کو خوفزدہ نہ کرسکی،وہی کام کردکھایا

  

کوالالمپور(نیوزڈیسک)کہتے ہیں کہ اگر آپ کے کسی بڑے کو کسی چیز سے نقصان پہنچا ہو تو آپ اس چیز سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ملائیشیا کے ایک سانپ کے مداری کے لئے ایسا ہر گز نہیں۔امجد خان نامی اس شخص نے سانپ کی اسی زہریلی قسم کو چوما جسے چوپتے ہوئے اس کے باپ کو اس سانپ نے کاٹ لیا تھا اور اس کی موت ہوگئی تھی۔امجد خان کا تعلق ملائیشین شہر تائی پنگ سے ہے اور پورے ملک میں وہ ’سانپوں کاشہزادے‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔وہ سانپ کو ہیپناٹائز کرتے ہوئے اسے چوم لیتا ہے،یہ کام وہ ایک سال کی عمر سے کر رہا ہے۔27سالہ امجد کوبرا سانپ کو اپنی آنکھوں کے ذریعے کنٹرول کرتا ہے۔کچھ سال قبل اس کا باپ ، علی خان جو کہ ملائیشیا میں ’سانپوں کا بادشاہ‘کے نام سے جانا جاتا ہے کو ایک انتہائی زہریلے سانپ نے یہ کرتب دکھاتے ہوئے کاٹ لیا تھااور وہ دو دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد مر گیا تھا۔گینز بک آف ریکارڈ کے مطابق علی خان کو سانپ نے 99بار کاٹا تھا لیکن پھر بھی وہ اس خطرناک کھیل کا دیوانہ تھا۔اب اس کا بیٹا امجد خان بھی ان باتوں سے نہیں ڈرتا اور بہت بہادری کے ساتھ یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔امجد خان کوبرا کو پٹاری سے نکال کر اپنے سامنے بیٹھا لیتا ہے اور اس سے اتنی دور رہتا ہے کہ بآسانی اسے اپنی آنکھوں کے ذریعے ہیپناٹائز کرسکے۔سانپ کے منہ میں انگلی دینے سے قبل وہ اپنی انگلی اس کی جانب لہراتا ہے اور سانپ اسے کاٹنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس دوران امجد سانپ کو ایک بوسہ دے دیتا ہے اور تمام دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ اپنے والد کو ایک حادثہ میں کھونے کے بعد اب اسے کنگ کوبرا سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا اور یہ کام کرتے وہ بہت لطف اندوز ہوتا ہے۔

مزید : علاقائی