گندا ہے پر دھندہ ہے۔۔۔!

گندا ہے پر دھندہ ہے۔۔۔!
گندا ہے پر دھندہ ہے۔۔۔!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کال کس نے کی؟ زرداری صاحب نے یا کپتان نے؟ جس نے بھی کی، سیاست میں میل ملاقات اور روابط کی گنجائش بہر حال باقی رہتی ہے، پس منظر البتہ بیان کئے دیتے ہیں، رحمان ملک اور پرویز خٹک کے تعلقات دیرینہ ہیں، سینٹ انتخابات کے ہنگام دونوں رہنماوں کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ملک صاحب کی تجویز تھی کہ پی پی، کے پی کے میں تحریک انصاف کو سپورٹ کر سکتی ہے اگر بدلے میں پی ٹی آئی، چیئرمین سینٹ کے لئے ہماری حمایت کرے، ملک صاحب نے کہا کہ اگر مولانا یا دیگر عناصر آپ کے کچھ ووٹ توڑ بھی لیتے ہیں تو ہم اپنے پانچ ووٹ آپ کو دے سکتے ہیں، طے ہوا کہ تجویز معقول ہے، لہٰذا اسے دونوں جماعتوں کی اعلی قیادت تک پہنچایا جائے، ملک صاحب نے بلاول ہاوس کا رُخ کیا تو خٹک صاحب بنی گالہ جا پہنچے۔ اپنے اپنے پنڈتوں کے پاس پہنچنے پر خٹک صاحب نے ملک صاحب کو فون کیا، معلوم ہوا کہ زرداری صاحب کسی وفد سے ملاقات میں مصروف ہیں، جیسے ہی زرداری صاحب فری ہوئے تو ملک صاحب نے فورا پرویز خٹک کو فون کیا، جنہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فون کپتان کو تھما دیا، اور یوں زرداری صاحب اور خان صاحب کی مشہور زمانہ ٹیلی فونک گفتگو کا چرچا سننے کو ملا۔ اس گفتگو میں عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے پر زور دیا اور ملک صاحب کی تجویز پرکہا کہ وہ پارٹی سے مشورہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے، کپتان اور ان کی جماعت دھرنوں کے ہنگام حتی کہ الیکشن سے پہلے بھی مسلم لیگ(ن) اور پی پی کے بارے انتہائی سخت موقف اپنا چکی ہے، لہٰذا کچھ ایم پی ایز نے کہا کہ صاحب ایسا نہیں ہو سکتا، اب کیسے ہم اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹ جائیں، یہی وجہ ہے کہ کپتان سینٹ انتخاب میں نیوٹرل رہنے کا اشارہ دے رہے ہیں، غالب امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) اور پی پی دونوں کو سپورٹ نہیں کرے گی، لیکن یاد رہے کہ پارٹی پوزیشنز کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف اور مولانا ، دونوں کے ووٹ چیئر مین سینٹ کے لئے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کو تو شاید اپنے \'اصولی موقف\' پر ہی قائم رہنا پڑے، لیکن یہ مولانا ہیں جو وقت کی نزاکت کو ہمیشہ بھانپ لیتے ہیں ، مولانا کی سیاست کے رنگ نرالے ہیں، وفاق میں حکومت کے ساتھ اور صوبوں میں سینٹ انتخابات کے ہنگام اِدھر اُدھر گٹھ جوڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیا کیجئے آخر قبلہ73ء کے آئین کے تناظر میں دور کی سوچ رکھتے ہیں۔ ایسی سوچ جسے سمجھنے کے لئے عام سیاست دان کو شاید سات جنم درکار ہیں، فی الحال تو حضرت کے پی کے میں تحریک انصاف کے درپے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف سات جنرل نشستوں میں سے کم سے کم سینٹرز منتخب کروا سکے، اپنی جیب میں 16 سیٹیں ہی سہی، لیکن ایک سینٹر کی بجائے حضرت خواب دو کا دیکھ رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں جنرل سیٹ پر ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لئے17 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لگے ہاتھوں سینٹ انتخابات کا مختصر سا خاکہ بھی پیش کیے دیتے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سینیٹ میں چار اقلیتی نشستوں کا اضافہ کیا گیا،لہٰذا اب پاکستانی سینٹ کے اراکین کی مجموعی تعداد ایک سو چار ہے، اراکین سینیٹ چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں، ایوان بالا یعنی سینٹ میں ہر تین سال بعد آدھے سینیٹرز ریٹائر ہو جاتے ہیں۔
چاروں صوبائی اسمبلیاں مجموعی طور پر 23، 23 نشستوں کے لئے سینٹرز کا انتخاب کرتی ہیں، جن میں چودہ جنرل، چار علما اور ٹیکنوکریٹس، چار خواتین کی نشستیں اور ایک اقلیتی نشست پر انتخاب لڑا جاتا ہے، چونکہ سینٹ کا انتخاب ہر تین سال بعد ہوتا ہے ، لہٰذا صوبے ہر انتخاب میں11 یا 12سیٹوں کے لئے سینٹرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ مارچ میں 52 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے۔ہر صوبائی اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد کو سات کے ہندسے یعنی سات جنرل سیٹیوں پر تقسیم کیا جائے گا تو ایک سینٹرز کو منتخب ہونے کے لئے مطلوبہ ووٹس کا مجموعہ حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب اسمبلی میں اراکین کی مجموعی تعداد تین سو اکہتر ہے، لیکن تین نشستیں خالی ہونے کی وجہ سے موجودہ تعداد تین سو اڑسٹھ ہے، پی ٹی آئی کی 30 سیٹیں ہیں، تحریک انصاف چونکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے علاوہ باقی صوبوں سے سینٹ کا انتخاب نہیں لڑ رہی تو 30 نشستیں منہا کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تعداد تین سو تیس رہ جاتی ہے۔ سادہ فارمولے کے تحت 330 کو سات پر تقسیم کیا جائے تو ایک سینیٹر کو منتخب ہونے کے لئے 47ووٹ درکار ہوں گے۔ اراکین صوبائی اسمبلی ترجیحی اعتبار سے نامزد سینٹرز کو ووٹ دیتے ہیں۔ ہر صوبے نے پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں سات جنرل سیٹوں کے علاوہ دو دو ٹیکنوکریٹس اور دو دو خواتین سینٹرز کا بھی انتخاب کرنا ہے اس کے لئے نامزد علما، ٹیکنوکریٹس یا خواتین کو 330 تقسیم دو سے حاصل ہونے والے مجموعے، یعنی 165 ووٹ درکار ہوں گے۔ اس فارمولے کے تحت سندھ اسمبلی میں24 ، خیبر پختونخوا کے لئے 17 اور بلوچستان میں جنرل نشست کے لئے نامز د سینٹر کو نو ووٹ درکار ہوں گے۔اسلام آباد کے لئے مختص سینٹ کی دو نشستوں کا انتخاب قومی اسمبلی اکثریتی بنیاد پر کرے گی، فاٹا کے بارہ اراکین قومی اسمبلی چار سینٹرز کے لئے ووٹ دیں گے، جبکہ دو اقلیتی نشستیں ہر صوبے کی اکثریتی پارٹی کے حصے میں جائیں گی۔
سندھ اور پنجاب میں تو معاملات طے ہیں، کیونکہ یہاں پارٹیوں کو اپنی اپنی سٹینڈنگ کی بنیاد پر سینٹ کی نشستیں واضح طور پر حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، اصل معاملہ کے پی کے اور بلوچستان میں درپیش ہے، یہاں پانچ پانچ صوبائی سیٹوں والی پارٹیوں نے بھی دو دو امیدوار نامزد کر رکھے ہیں، کوئی پوچھے کہ صاحب مطلوبہ ووٹ بظاہر تو آپ کے پاس ہیں نہیں تو پھر یہ چلن کاہے کو ظاہر ہے جوڑ توڑ اور ہارس ٹریڈنگ اسی مرض کی دوا ہے اور یہی وجہ ہے پارٹیوں کے کرتا دھرتا تمام تر توجہ ان دو صوبوں پر ہی مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ اب رہ گئی بات چیئرمین سینٹ کی تو یقین جانیں اصل مسئلہ یہی ہے، پی پی پی وفاق اور صوبوں میں کم ووٹ رکھنے کے باوجود سینٹ میں مضبوط پوزیشن کی حامل ہے، ان انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس سینٹ میں 26 یا 27 ووٹ ہوں گے، مسلم لیگ(ن) پنجاب میں تمام تر سیٹیں پکی کر لے گی اور ان کے پاس بھی تقریبا یہی مجموعہ حاصل ہوگا، ایم کیو ایم، اے این پی، قومی وطن پارٹی، ق لیگ اور بی این پی عوامی کے ہندسے جمع کریں تو پی پی کے پاس انچاس یا پچاس ووٹ اکٹھے ہوں گے، دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ ایسی ہی صورت حال مسلم لیگ(ن) کے کیمپ میں ہے، مسلم لیگ(ن) کو فنکنشل لیگ ، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور فاٹا کے اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ بظاہر مولانا کے پاس سینٹ میں پانچ سیٹیں ہوں گی، کپتان بھی کے پی کے سے اتنی ہی سیٹیں اپنے نام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، اسی لئے عرض کیا تھاکہ چیئرمین سینٹ کس جماعت سے ہوگا اس کا فیصلہ کپتان یا مولانا ہی کر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی سینٹ میں ایک نشست ہی پکی کر سکے گی اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کا ووٹ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کے لئے ہو گا۔ دیکھتے ہیں کہ سیاسی پنڈت سینٹ انتخابات اور بالخصوص چیئرمین سینٹ کے لئے اپنے اپنے مہرے کس مہارت سے آگے چلاتے ہیں۔ باقی جماعتوں کو کیا نفع نقصان ہو گا یہ تو سامنے کی بات ہے، لیکن ان سب میں صرف ایک مولانا ہی ہیں جو ہر حال میں فائدے مند ہی رہیں گے، یعنی۔۔۔
اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاوں، ہاروں تو پیا تیری

مزید :

کالم -