ہارس اینڈ کیٹل شو۔۔۔ْثقافتی اور روایتی تہوار

ہارس اینڈ کیٹل شو۔۔۔ْثقافتی اور روایتی تہوار

روایت و ثقافت شہر لاہور کی پہچان ہیں اور ہارس اینڈ کیٹل شو لاہور کی منفرد ثقافتی روایت ہے‘ جو نہ صرف قوم کے اتحاد و یکجہتی کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ معاشرتی ‘ زرعی اور صنعتی ترقی کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی ہدایت پر ہارس اینڈ کیٹل شو کے انعقاد اور صورت گری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ لاہور شہریاراں مشینی دور کی بدلتی ہوئی روایات کے باوجود بھرپور ثقافتی تنوع سے مالامال ہے۔ پرسکون چال چلتی ہوئی بھیڑ بکریاں‘ دلکی چال چلتے اور سرپٹ دوڑتے گھوڑے‘ خراماں خراماں چلتے اونٹ‘ گائے‘ بیل اور دیگر مست مویشی‘ ہارس اینڈ کیٹل شو میں آنے والے شائقین کی دلچسپی کا سبب بھی ہیں اور دیہات میں بسنے والے محنتی کسانوں میں مسابقت کے جذبات کو مہمیز بھی دیتے ہیں۔

اطالوی اور قدیم فرنچ کے مرکب لفظ فیسٹول کا ذکر قدیم یونان اور رومن تاریخ میں پایا جاتا ہے۔ 1200ء میں ’’فیسٹ‘‘کے نام سے ہونے والے میلوں کا ذکر بھی پایا جاتا ہے جبکہ ہسپانوی زبان میں ’’فیسٹا‘‘ کا لفظ مذہبی میلوں کے لئے استعمال کیا گیا۔ دنیا کے تمام مذاہب میں مذہبی تہوارمنانے کی روایت موجود ہے۔ بعض مذاہب میں مذہبی ایام کو میلے یا فیسٹول کی صورت میں ہی منایا جاتا ہے۔ روایتی ثقافت ‘ معاشی سرگرمیوں اور تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے میلوں کا انعقاد نہایت ضروری سمجھا جاتا تھا۔ فاتح جنگجو بادشاہ فتح کا جشن منانے کے لئے میلے مناتے تھے۔ مغربی ہمپشائر میں مہاجر پرندوں کے دن کے نام سے 700 سے زائد پارکس‘ چڑیا گھروں ‘ میوزیم‘ سکولوں اور لائبریریوں میں برڈز فیسٹول منانے کی دلچسپ روایت آج بھی موجود ہے۔ نئے سال کے آغاز‘ بہار کی آمد‘ فیصل کی کٹائی کے آعازاور دیگر ثقافتی اور مذہبی روایات پر مبنی میلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ دور جدید میں سائنس‘ ادب‘ میوزک‘ کامیڈی‘ راک‘ جاز‘ تھیٹر‘ داستان گوئی‘ فلم‘ شاعری‘ برف اور بارش‘ فوڈفیسٹول‘ عام و خاص کی توجہ کا مرکز ہیں۔ دریائے نیل کے کنارے مویشی اور زراعت کے بارے میں مختلف میلے قدیم مصری تاریخ کا حصہ ہیں۔

شہر بے مثال اور شہر گل زمیں لاہورکی ثقافتی روایات پاکستان کی تاریخ کا بے مثال اثاثہ ہیں۔ لاہوریوں کی زندہ دلی اور میلے ٹھیلے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جس کی کشش اہل دل کو کشاں کشاں سرزمین لاہور کی جانب لے آتی ہے۔ صوفی شاعر شاہ حسین سے منسوب میلہ چراغاں ‘ حضرت داتا گنج بخشؒ ‘ حضرت میاں میرقادریؒ ‘ شاہ عنایتؒ اور دیگر اولیائے کرام کے عرس بھی لاہور کے اہم ثقافتی اکٹھ ہیں۔ الحمراء آرٹس کونسل میں 10 روزہ ورلڈ پرفارمنگ آرٹ فیسٹول‘ ایکسپو سنٹر میں بک فیسٹول‘ فوڈ فیسٹول اور دیگر نمائشیں بھی فیسٹول کی جدید صورت ہیں۔

52برس قبل1964ء میں لاہور کے فورٹریس سٹیڈیم میں شروع ہونے والاہارس اینڈ کیٹل شو یعنی میلہ اسپاں و مویشیاں ایک منفرد میلہ ہے ۔ 1979ء ‘ 1985ء‘ 1986ء‘ 1987ء‘ 1988ء‘ 1989ء‘ 1990ء‘ 1993ء‘ 1994ء‘ 1995ء میں منعقد ہونے والے ہارس اینڈ کیٹل شو نہ صرف کسانوں ‘ مویشی پال حضرات بلکہ عام آدمی کے لئے بھی دلچسپی کا سامان تھے۔ صوبہ بھر سے اعلیٰ نسل کے گھوڑوں‘ اونٹوں‘ بیل‘ گائیوں‘ بھینسوں‘ بھیڑوں‘ بکریوں اور دیگر مویشیوں کو خصوصی طور پر ہارس اینڈ کیٹل شو کے لئے تیار کیا جاتا اور پیش کر کے حاضرین سے داد اور منتظمین سے انعامات وصول کئے جاتے۔ میلے میں مختلف کھیلوں کے مقابلے اور نمائشیں بھی ہوتیں۔ شکاری کتوں کی ریس ‘ مرغوں کی لڑائی‘ نیزہ بازی‘ گھوڑوں کا رقص ‘ رنگا رنگ فلوٹس‘ علاقائی رقص ‘ آتش بازی کے مظاہرے‘ فلائی پاسٹ شو‘ کھانے پینے کی اشیاء کے سٹالز اور صنعتی نمائشی کو دیکھنے نہ صرف لاہور بلکہ صوبہ بھر سے ہزاروں لوگ جوق در جوق چلے آتے۔ 9ویں ہارس اینڈ کیٹل شو میں امریکی خاتون اولین جیکولین کینیڈی نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔دیگر دوست ممالک کے سربراہان اور نمائندگان کی شرکت اہل لاہور کے لئے باعث صد افتخار رہی۔

بارود کی بو سے متعفن فضا کو معطر کرنے کے لئے ثقافتی سرگرمیوں کا احیاء بے حد ضروری ہے۔ نوجوان نسل کو صحت مند اور پاکیزہ سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا بھی حکومت وقت کا فرض اولین ہے۔ حکومت پنجاب نے موجودہ حالات میں عوام کی تفریح طبع کے لئے ہارس اینڈ کیٹل شو کے انعقاد کا فیصلہ کیا ۔ قومی یکجہتی‘ علاقائی ثقافت اور امن کے رنگوں سے مزین عظیم الشان روایتی میلہ اسپاں و مویشیاں‘ 5 مارچ تا 8مارچ فورٹریس سٹیڈیم اور جیلانی پارک میں منعقد ہو گا۔ جیلانی پارک میں بچوں کے لئے رنگارنگ تفریح کے مواقع میسر ہوں گے۔ روایتی فوڈ کورٹس میں لذت کام و دہن کے ساتھ ساتھ شاپنگ کا اہتمام بھی ہو گا۔ جبکہ فورٹریس سٹیڈیم میں نیزہ بازی ‘ آرمی بینڈ اور رینجرز کی خصوصی نمائشی پریڈ‘ کمانڈوز کی پیراشوٹ کے ذریعے فری فال‘ آتش بازی‘ شمع اور مشعل پریڈ‘ جانوروں کی دوڑیں اور رقص‘ روایتی لوک موسیقی اور دیگر شو فورٹریس سٹیڈیم میں ہوں گے۔ قذافی سٹیڈیم میں کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد ہوں گے۔ خوشیوں اور رنگوں بھرا ہارس اینڈ کیٹل شو ‘ عوام کے اذہان میں خوف کی جگہ خوشی اور مسرت کے جذبات پیدا کرے گا اور وطن عزیز کے دشمن یہ جان کر لرزہ براندام ہوں گے کہ یہ کیسی قوم ہے‘ جو خوشیوں‘ امنگوں اور رنگوں کے ساتھ زندہ رہنا جانتی ہے اور دنیائے عالم میں دورجدید کے تقاضوں کے عین مطابق نئی ‘ تازہ تصویر کے ساتھ جلوہ گر ہو گی اور یوں ہی تو نہیں کہا گیا تھا۔

اُچے برُج لاہور دے

جتھے بلدے چار مثال

ایتھے ای میاں میر دی بستی

ایتھے ای شاہ جمال

اک پاسے دا داتا مالک

اک دا مادھو لال

***

مزید : ایڈیشن 2