جنسی روابط کا الزام ، سعودی جج کے دلچسپ فیصلے نے تہلکہ مچادیا

جنسی روابط کا الزام ، سعودی جج کے دلچسپ فیصلے نے تہلکہ مچادیا
جنسی روابط کا الزام ، سعودی جج کے دلچسپ فیصلے نے تہلکہ مچادیا

  

جدہ (نیوز ڈیسک) عمومی طورپر کسی بھی جرم کا مرتکب ہونے پر ایک فریق کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے لیکن سعودی عرب کی ایک عدالت نے جنسی روابط کے الزام میں پکڑے جانیوالے شخص کو محض اس لیے چھوڑ دیاکیونکہ استغاثہ کی طرف سے خاتون پر مقدمہ ہی نہیں بنایاگیاجبکہ وہ بھی جرم میں برابرکی شریک رہی ۔

جدہ کی عدالت کے جج شیخ ماذن سنادی نے استغاثہ کے فیصلے کو ناجائز قراردیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مرد کے ساتھ متعصب اور امتیازی سلوک کیاگیا، خاتون نرس کومقدمے سے باہر رکھ کراسیکیوشن کی طرف سے انصافی کی گئی ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عورت کا اس لیے بچایاجارہاہے تاکہ کوئی سکینڈل یا لڑکی کی شناخت نہ بنے ،لڑکے کے خلاف کارروائی کیلئے ضروری ہے کہ لڑکی پر بھی مقدمے بنے اور اُسے بطورملزم عدالت میں پیش کیاجائے ۔

فاضل عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہائی کاحکم دیتے ہوئے واضح کیاکہ اُسی وقت مقدمہ چل سکتاہے جب عورت پر بھی برابرمقدمہ ہوگا۔

ایک اخبار’اوکاز‘ کے مطابق مذکورہ شخص ساری رات خاتون نرس کے گھر میں موجود کمرے میں رہالیکن باہر نکلنے سے قبل لڑکی نے دیکھاکہ اُس کا بھائی باہر مین ہال میں موجود ہے جس پر نرس نے اپنے محبوب کو کام سے واپسی تک کمرے میں ہی رہنے کا مشورہ دیا لیکن بدقسمتی سے وہ پولیس کی مدد سے برآمد کرکے حراست میں لے لیاگیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس