توہم پرستی کی انتہا، وہ میلہ جس کے دوران چینی اپنے ہی جسم کو چیر پھاڑ دیتے ہیں تاکہ۔۔۔

توہم پرستی کی انتہا، وہ میلہ جس کے دوران چینی اپنے ہی جسم کو چیر پھاڑ دیتے ہیں ...
توہم پرستی کی انتہا، وہ میلہ جس کے دوران چینی اپنے ہی جسم کو چیر پھاڑ دیتے ہیں تاکہ۔۔۔

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین میں گزشتہ دو ہزار سال سے ایک خوفناک تہوار منایا جاتا ہے جس کے دوران لوگ اپنے جسموں کو تیز دھار آلات اور آہنی سلاخوں سے چھلنی کرلیتے ہیں اور یہ دہشت ناک مناظر دیکھنے والے خوف سے کانپ اٹھتے ہیں۔

مقامی اخبار ”پیپلزڈیلی“ کے مطابق زاما جیاﺅ نامی یہ تہوار چینی نئے سال کے موقع پر منایا جاتا ہے اور اس کا رواج وسطی چین میں عام پایا جاتا ہے۔ دیہاتی لوگ یہ تہوار خوش قسمتی، بارش اور اچھی پیداوار کے لئے مناتے ہیں۔ شمالی صوبے شانکسی میں اس تہوار کے موقع پر لوگ اپنی ٹانگوں، بازوﺅں، دھڑ اور حتیٰ کہ چہرے میں بھی خنجر، بھالے اور لوہے کی سلاخیں گھونپ لیتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کے دیہاتی لوگ اسے اپنی روایت قرار دیتے ہیں اور اسے چھوڑنے پر تیار نہیں لیکن انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں اس کے خاتمے کے لئے بھرپور مہم چلارہی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ چینی حکومت اسے غیر قانونی قرار دےدے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس