ماں بننے والی خاتون نے بچے کو جنم دیتے ہی فیس بک پر اپنے ہمسفر کی ایسی تصویر دیکھ لی کہ پیروں تلے زمین نکل گئی، بچے کی پیدائش کے لمحات میں وہ کیا کر رہا تھا؟ ایسی حقیقت کہ یقین نہ آئے

ماں بننے والی خاتون نے بچے کو جنم دیتے ہی فیس بک پر اپنے ہمسفر کی ایسی تصویر ...
ماں بننے والی خاتون نے بچے کو جنم دیتے ہی فیس بک پر اپنے ہمسفر کی ایسی تصویر دیکھ لی کہ پیروں تلے زمین نکل گئی، بچے کی پیدائش کے لمحات میں وہ کیا کر رہا تھا؟ ایسی حقیقت کہ یقین نہ آئے

  


ایڈمبرگ(مانیٹرنگ ڈیسک) سکاٹ لینڈ کے شہر جان سٹون میں ایک لڑکی نے بچے کو جنم دیتے ہی فیس بک پر بچے کے باپ کی ایسی تصویر دیکھ لی کہ اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ 24سالہ ہیتھر مک جیلین نامی لڑکی ڈومینیکن ری پبلک میں ایک ہوٹل میں کام کرتی تھی جہاں اس کوایڈونس(Adonis)نامی اپنے ساتھی ورکر کے ساتھ محبت ہو گئی اور دونوں ساتھ رہنے لگے۔ اس دوران ہیتھر اس کے بچے کی ماں بن گئی اور بچے کو جنم دینے کے لیے برطانیہ واپس آگئی۔ ہسپتال میں بچے کو جنم دینے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی ایک دوست نے فیس بک پر اسے اس کے شوہر کی ایک تصویر بھیجی ، جس میں اس کے ساتھ دلہن کے لباس میں ایک خاتون بھی موجود تھی۔ ہیتھر کی دوست نے اسے بتایا کہ جس شخص کے بچے کو تم جنم دے رہی ہو اس نے یہاں ڈومینیکن ری پبلک میں آنے والی جولیا نامی ایک جرمن سیاح سے شادی کر لی ہے۔

مزید جانئے: مصری خاتون صحافی نے ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کی ایسی تصویر ٹی وی پر دکھا دی کہ عدالت نے فوری جیل بھیج دیا

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ہیتھر کا کہنا تھا کہ ”جب میں یہ اپنی دوست کا پیغام کھولا تو مجھے ایسے لگا جیسے مجھے کسی ڈبل ڈیکر بس نے ٹکر مار دی ہو، تصویر میں ایڈونس نے خاتون کو بانہوں میں لے رکھا تھا جس نے شادی کا لباس پہن رکھا تھا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہم کچھ ہفتوں کے لیے ہی علیحدہ ہوئے تھے۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں ایڈونس کسی خاتون سے ملا اور شادی بھی کر لی۔ میں نے ایڈونس کو فون کیا اور پوچھا کہ تمہارے ساتھ دلہن کے لباس میں یہ خاتون کون ہے تو اس نے جواب میں صرف ’آئی ایم سوری‘ کہہ دیا۔ “ رپورٹ کے مطابق ہیتھر اپنے بیٹے کے ہمراہ پھر واپس ڈومینیکن ری پبلک چلی گئی۔ اب اس کے بیٹے کی عمر 3ماہ ہو چکی ہے۔ اس نے ایڈونس کو بیٹے سے ملنے کی اجازت دے رکھی ہے جو باقاعدگی سے اس سے ملتا رہتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...