اس جوڑے کی شادی اور زندگی کی داستان اس قدر حیران کن ہے کہ جسے بھی پتا لگتا ہے وہ دنگ رہ جاتا ہے

اس جوڑے کی شادی اور زندگی کی داستان اس قدر حیران کن ہے کہ جسے بھی پتا لگتا ہے ...
اس جوڑے کی شادی اور زندگی کی داستان اس قدر حیران کن ہے کہ جسے بھی پتا لگتا ہے وہ دنگ رہ جاتا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(نیوزڈیسک) دنیا میں بہت عجائبات ہوتی ہیں اور کچھ اتفاق ایسے ہوتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔کچھ ایسا ہی ان دونوں میاں بیوی کے ساتھ بھی ہواجو ایک ہی ہسپتال میں ایک ہی دن پیدا ہوئے اور پھر ایک ہی سکول میں گئے اور50سال بعد ان کی شادی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی شہر گلوسیسٹرشائرکے برکلے ہسپتال میں 1967ءمیں دو بچے ایلی سین بلیک ویل اور جیمز ہوجز پیدا ہوئے۔ یہ بچے ایک ہی سکول میں پڑھے اور جب جیمز آٹھ سال کا ہوا تو وہ دوسرے شہر چلا گیا جس کی وجہ سے اس کا رابطہ ایلی سین کے ساتھ کٹ گیا۔ایلی سین کی شادی 21سال کی عمر میں ہوچکی تھی اور اس کے دو بچے بھی تھے لیکن پھر اس کے اپنے شوہر کے ساتھ اختلافات ہوگئے اور دونوں کی طلاق ہوگئی۔

تقریباًپانچ دہائیوں بعد ان دونوں کا رابطہ ایک فرینڈز ری یونائیٹڈ ویب سائٹ کے ذریعے اس وقت ہوا جب جیمز نے ایلی سین کو 2012ءمیں ایک میسج بھیجا جس میں اس نے ایلی سین کی تاریخ پیدائش پوچھی تھی۔ان کی دوستی کا آغاز ہوا اور 2015ءمیں انہوں نے شادی کرلی۔تقریب میں ان کے مشترکہ ٹیچر نے انہیں کلاس کی ایک پرانی تصویر بھی تحفے میں دی۔ جیمز کہتا ہے کہ جب لوگ اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ دونوں کب ملے تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ” جس دن ہم پیدا ہوئے تھے، ہم شائد ایک ہی کمرے میں ہوں لیکن ہمیں اس کا علم نہ تھا۔میرے اس جواب پر لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔“جیمزکا کہنا ہے کہ بچپن میں اسے ایلی سین کی مسکراہٹ بہت اچھی لگتی تھی اور آج بھی اسے یہ مسکراہٹ یاد ہے۔”ہماری کہانی سن کر ہر بندہ حیران ہوئے بغیر نہیں رہتا۔“

ایلی سین کا کہنا ہے کہ بچپن میں اسے معلوم تھا کہ جیمز کی والدہ فوت ہوچکی ہے اور مجھے اس سے کافی ہمدردی ہوتی تھی اور وہ سوچتی تھی کہ ماں کے بغیر اس بچے کو بہت زیادہ مسائل ہوتے ہوں گے اور اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس