اس معصوم بچے کی موت ایک ماہ میں ہوجائے گی لیکن اگر اسے۔۔۔ والدہ کی ایسی اپیل کہ آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

اس معصوم بچے کی موت ایک ماہ میں ہوجائے گی لیکن اگر اسے۔۔۔ والدہ کی ایسی اپیل ...
اس معصوم بچے کی موت ایک ماہ میں ہوجائے گی لیکن اگر اسے۔۔۔ والدہ کی ایسی اپیل کہ آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

  

لندن (نیوز ڈیسک) ہر انسان کی زندگی میں مشکل لمحات آتے ہیں لیکن شاید ہی کسی انسان کی زندگی میں ایسی مشکل گھڑی آئی ہو جس کا سامنا ایک برطانوی جوڑے کو کرنا پڑرہا ہے۔ کرس گارڈ اور کونی ییٹس ایک ایسے بچے کے والدین ہیں کہ ڈاکٹروں نے جس کی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور اب عدالت نے بدقسمت والدین کو 31 دن کا وقت دے دیا ہے، جس کے دوران انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے بچے کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 7ماہ کا بچہ چارلی ’مائیٹو کونڈریل ڈپلیشن سنڈروم‘ نامی خطرناک بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کے اعضاءاور عضلات تقریباً ناکارہ ہوچکے ہیں۔ وہ اس کمیاب بیماری میں مبتلا ہونے والا دنیا کا 16واں فرد ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب وہ محض ایک زندہ لاش کے طور پر ہی زندگی جاری رکھ سکتا ہے، جس سے بہتر ہوگا کہ اسے باعزت طور پر مرنے کی اجازت دی جائے۔

بچے کی والدہ کونی ییٹس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کو زندہ رہنے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے انہیں 3اپریل تک کا وقت دے دیا ہے، اور اس دوران انہیں ماہر ڈاکٹروں اور سائنسی شواہد کی بناءپر ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے بچے کو زندہ رہنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

علمائے کرام نےبچے کی ولادت کیلئے رضاکار خاتون کی خدمات لینا ناجائز و حرام قراردیدیا

کونی ییٹس کا کہنا تھا ”میرے لئے یہ انتہائی خوفزدہ کردینے والی بات ہے کہ مجھے اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے، مگرہم اس بات پر شکرگزار ہیں کہ ہمارے پاس ایک ماہ تو ہے۔ ہمیں اپنے بچے کو علاج کی غرض سے ائر ایمبولینس کے زریعے امریکا لے جانا ہو گا، اور اس کے علاج کے لئے بھی ڈھیروں رقم درکار ہے۔ ہم اس معاملے پر پہلے ہی کافی تحقیق کرچکے ہیں اور اب اپنے شب و روز اس کام میں لگارکھے ہیں۔ میرے بیٹے کے پھیپھڑے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ اورمنڈسٹریٹ ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر زندہ ہے۔ یہاں کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں ہے اور اگر وہ زندہ رہتا بھی ہے تو اسے باقی عمر مردے جیسی حالت میں گزارنا پڑے گی۔ ڈاکٹروں نے عدالت کو بتایا ہے کہ چارلی کے حق میں یہی بات بہتر ہوگی کہ کہ اس کا مصنوعی تنفس ہٹادیا جائے اور اسے باعزت طور پر مرنے کی اجازت دی جائے۔“

کرس اور کونی کے لئے اب صرف ایک ہی امید بچی ہے۔ یہ امید امریکہ کا ایک ڈاکٹر ہے، جس نے پیشکش کی ہے کہ وہ ایک تجرباتی طریقہ علاج کو اس بچے پر آزما سکتا ہے، جس سے شاید ننھے بچے کی حالت میں کچھ بہتری آسکے۔ رپورٹ کے مطابق جس امریکی ڈاکٹر کی جانب سے چارلی کی جان بچانے کئی پیشکش کی گئی ہے اسے دنیا کا ممتاز ترین نیورالوجسٹ قرار دیا جاتا ہے، تاہم قانونی وجوہات کی بنا پر اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس