وزیر اعظم، ایکو کانفرنس، عتیقہ اوڈھو اور نرگس فخری

وزیر اعظم، ایکو کانفرنس، عتیقہ اوڈھو اور نرگس فخری

ای سی او کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں سی پیک منصوبے کو ایشیا کا مستقبل قرار دیا گیا ہے اور اس عظیم منصوبے کو ترقی کا زینہ کہا گیا ہے، دوسری جانب وزیر اعظم نوازشریف پاکستانی معیشت کو بہتر سے بہترین کی پوزیشن پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناً معیشت کی بہتری کے حوالہ سے صرف وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیانات یا دعوے ہی دلیل نہیں بلکہ امریکہ سمیت دنیا بھر کے اخبارات اور جرائد بھی وقتاً فوقتاً ہماری معیشت کی بہتری کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان دہشتگردی کی زد میں ہے اور ہم نے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے۔ کبھی کبھار ہم اس الجھن میں بھی کھو جاتے ہیں کہ جب پرویز مشرف دور میں ہم امریکہ و نیٹو فورسز کے ’’فرنٹ مین‘‘ تھے، تب ہم پر بہت سے ممالک اور تنظیمیں ’’صدقے واری‘‘ ہوا کرتی تھیں باہر سے پیسہ بھی آ رہا تھا تب ہماری معیشت کی بحالی کیوں نہ ہوئی؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بے بہا آتے پیسے کا بہت سا حصہ عتیقہ اوڈھو اور کچھ دوسری سکھیاں ’’پی‘‘ گئیں لیکن ہم ایسا نہیں سمجھتے بلکہ اس جھنجٹ میں ہی نہیں پڑنا چاہتے، ہمارا نقطہ نظر ہے تو فقط اتنا کہ اس وقت پاکستان ترقی و کامرانی کے زینے جس تیزی سے طے کر رہا ہے اس تیز رفتار ترقی کے پیچھے وزیر اعظم نوازشریف اور اسحاق ڈار کا ’’وژن‘‘ ہے۔ خوشگوار حیرت اس بات پر ہے کہ سپر لیگ فائنل کے لئے 16 کروڑ کے ٹکٹس چند منٹوں میں فروخت ہو گئے اور جنون کی حد یہ ہے کہ دہشتگردی کی حالیہ وارداتوں کے باوجود قوم ہر طرح کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں ہے، عمران خان کے ڈرانے ’’خوفزدہ‘‘ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قوم کا بچہ بچہ سپر لیگ کے لئے ’’دمادم مست قلندر‘‘ کئے ہوئے ہے۔ یقیناً اس جنون اور جادو کے پیچھے وزیر اعظم نوازشریف کا قوم کو دیا گیا وہ اعتماد ہے جو کوئی بھی بڑا لیڈر عوام کا مورال بلند کرنے کے لئے دیتا ہے۔

خبریں یہ بھی ہیں کہ پی ایس ایل فائنل قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہونے سے بہت سے غیر ملکی پاکستان آ رہے ہیں، کئی ملٹی نیشنل اداروں کے سربراہ بھی پاکستان کا رخ کر رہے ہیں، لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلوں سے لے کر انارکلی، لبرٹی اور دیگر مارکیٹوں میں نہ صرف دوسرے شہروں سے آئے شائقین کا رش بڑھ گیا ہے بلکہ تاجر برادری کی چاندی ہو گئی ہے۔ اشتہاری کمپنیوں کو کان کھجانے کی فرصت نہ ہے اور پاکستان کے ماڈلز مختلف پراڈکٹس کے اشتہارات کی تکمیل کے لئے دن رات مصروف ہیں۔ یقیناً پی ایس ایل فائنل نے پاکستانی عوام، حکومت، معیشت، کھیل، سوشل لائف، آرٹ اور کلچر سمیت زندگی کے ہر شعبے کو متحرک کیا ہے اور اس سارے تحرک کا سہرا نوازشریف کے سر ہے۔ معاشی و سماجی سطح پر یہ ہلچل زندہ قوموں کی نشانی ہے اور واقعی جب کوئی لیڈر اپنی قوم کو بنانا سنوارنا چاہتا ہے تو ایسی ہی زندگی کی رمق لے کر آتا ہے۔

پاکستان سپر لیگ فائنل کے ساتھ ساتھ ایکو سربراہ کانفرنس کا انعقاد بھی نوازشریف حکومت کا طرۂ امتیاز ہے، 20 سال بعد ایکو کانفرنس کا بھرپور انعقاد پاکستان میں ممکن ہوا ہے جس میں ترکی، ایران، آذربائیجان، تاجکستان، ترکمانستان، کرغستان، قازقستان اور ازبکستان کے سربراہان کی غیر معمولی شرکت اس بات کی غماز ہے کہ نوازشریف کے وژن کو صرف اپنے ہی نہیں غیر بھی مانتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں افغانستان کی بھارت نوازی سے ببانگِ دہل پردہ اٹھایا وہاں افغانستان کو دعوت بھی دی ہے کہ آیئے! ہمارے ساتھ ہمسایہ برادر ملک کی طرح مل کر مسائل حل کرنے کی کوشش کیجئے، ہم تو آپ کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے بلکہ برادر اسلامی ملک کی طرح اچھے ہمسائے بن کر رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ ای سی او کے رکن ممالک کے لئے بہتر تعاون کے ذریعے پیش رفت اور علاقائی خوشحالی کا وقت آ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایکو ممالک کو ایک طاقتور بلاک میں تبدیل کرنے کے لئے پاکستان کے پاس ایک نسخہ بنیادی ڈھانچہ کے طور پر موجود ہے، ہم البیرونی، فارابی، سعدی، رومی اور اقبالؒ جیسے عظیم شاعر کے وارث ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایکو ممالک کو سی پیک کے ذریعے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپی منڈیوں تک رسائی دیں گے۔

بے شک یہ سب ہم کر سکتے ہیں۔ سی پیک منصوبے میں اتنی طاقت ہے کہ اپنی تکمیل کے بعد یہ منصوبہ نہ صرف دنیا کا معاشی ڈھانچہ بدل کر رکھ دے گا بلکہ تھرڈ ورلڈ کی تجارت و معیشت کو چار چاند لگا دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سپر لیگ فائنل کی طرح پوری قوم سی پیک منصوبہ کی تکمیل میں بھی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اور اس عظیم منصوبہ کے ہر چھوٹے بڑے مخالف کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا کر رکھ دے۔ وزیر اعظم نوازشریف نے گزشتہ روز ایک اور تاریخی کارنامہ یہ کیا ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کے اس فیصلے کی وفاقی کابینہ منظوری دے چکی ہے اور اب وہ دن دور نہیں جب احساس کمتری کا شکار فاٹا کے قبائل قومی دھارے میں شامل ہوں گے۔ وزیر اعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فاٹا کی ترقی و کامرانی کے لئے 10 سالہ منصوبہ تشکیل دیا جائے اور فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے، یقیناً شمالی قبائل نے پاکستان کے دفاع اور بقاء کے لئے لازوال خدمات سر انجام دی ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان کے کسی علاقہ کو ’’علاقہ غیر‘‘ کا نام دیا جائے اور وہاں کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ یقیناً یہ ایک تاریخی کارنامہ ہے وزیر اعظم کے اس اقدام سے نا صرف فاٹا کے قبائل وزیر اعظم کے ممنون رہیں گے بلکہ ان علاقوں میں ترقی اور نئی اصلاحات سے پاکستان دہشتگردی کے پلتے ناسور کی جڑ کاٹنے میں کامیاب رہے گا۔

آج کے کالم کے اختتام پر خوشی کی خبر یہ ہے کہ شیخ رشید کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی پاکستان سپر لیگ فائنل کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور دوسری جانب بھارتی سپر سٹار ماڈل نرگس فخری اپنی ٹیم کی سپورٹ کے لئے بھارت سے قذافی سٹیڈیم لاہور آئیں گی اور یہاں انہیں کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا بلکہ ہر طرف سے پیار ہی پیار ملے گا۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...