کھانے کے میچ کا بیٹنگ آرڈر

کھانے کے میچ کا بیٹنگ آرڈر
 کھانے کے میچ کا بیٹنگ آرڈر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کرکٹ کے موضوع پر اپنی ایک کتاب میں عمران خان نے مشورہ دیا تھا کہ جب بھی آپ کسی میچ میں بیٹنگ کرنے کے لئے نکلیں تو یہ سوچ کر وکٹ پہ مت جائیں کہ آپ کو سنچری یا ڈبل سنچری کا ہدف ہر حال میں پورا کرنا ہے ۔ اس کے برعکس ، سوچ یہ ہونی چاہئیے کہ توجہ سے بیٹنگ کرتے رہیں ، رنز اپنے آپ بنتے چلے جائیں گے ۔ اگر اسے مذاق نہ سمجھا جائے تو مجھے صحافی کا کام بھی ایک لحاظ سے کرکٹر کے مشابہہ لگتا ہے ۔ صحافی ، خواہ وہ رپورٹر ہو یا اداریہ نویس ، اپنی سمجھ ، ذوق اور تخلیقی طاقت کے مطابق خیالات کو کاغذ یا اسکرین پر اتارتا رہتا ہے ، لیکن اسے عام طور پہ سوچنا نہیں پڑتا کہ آج کون کون سے الفاظ استعمال کر کے دکھاؤں گا ۔ پھر بھی مسلسل سوچنے اور لکھتے رہنے کے اس نا محسوس عمل میں ایسے چو کے چھکے بھی لگ جاتے ہیں جن پر بعد میں یہ حیرت ہوتی ہے کہ یا الہی ، یہ شاٹ میں نے ہی کھیلا تھا۔ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اظہار کا ایک پیرایہ ایسا ہے جس کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرا لینے کو جی چاہتا ہے ، اور وہ ہے میری وضع کردہ ’غذائی دہشت گردی‘ کی ترکیب ۔ دو چار لسانی چوکے چھکے اس کے علاوہ بھی ہیں ۔ لیکن مجھے یہ اصطلاح ’پیٹنٹ‘ کرا لینے کا خیال یوں آیا کہ ایک تو اس کا ظہور رمضان کے بابرکت مہینے میں ہوا تھا، دوسرے اس کمانڈو ایکشن میں دفتر کے ایک دوست کے ساتھ میری شمولیت اپنے ہی پیسوں سے روزہ کھولنے کی نیت سے تھی ۔ ہاں ، نیت میں کوئی فتور تھا تو وہ اس حد تک کہ ہم دونوں نے ایم ایم عالم روڈ کے اس مخصوص ’آؤٹ لیٹ‘ کا انتخاب ’با رعائت افظاری ‘ کا اشتہار پڑھ کر ہی کیا تھا ۔ پھر بھی مجھے یقین ہے کہ افطاری بے رعائت بھی ہوتی تو جہادی اسپرٹ سے سرشار ہمارے روزہ دار دوست اسی اصول کو سامنے رکھتے کہ ’صحرا ست کہ دریاست ، تہہ بال و پر ماست‘ ۔

’غذائی دہشت گردی‘ کی یہ اچھوتی ترکیب ہر اس شخص کو پسند آئے گی جو میری طرح سرکاری دعوتوں ، پریس کانفرنسوں اور بیاہ شادی کی تقریبات سے یہ کہہ کر لوٹنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہو کہ ’کھایا پیا کچھ نہیں ، گلاس توڑا بارہ آنے ‘ ۔ دل ہی دل میں اس کے ساتھ ایک طرح کی ندامت بھی وابستہ رہی ہے ۔ وہ یوں کہ ہمارے ملک کا اوسط اخبار نویس زور کلام‘ کی بنا پہ جتنا مقبول ہو ، ’قدرت طعام‘ کے حوالے سے بھی اتنا ہی معروف ہوتا ہے ۔ اس لئے پرانے وقتوں میں روزنامہ ’ڈان‘ کے نامہ نگار لاہور ، نثار عثمانی کے اس بزرگانہ مشورے پہ عمل اب پیشہ وارانہ نا اہلیت شمار ہو گا کہ بطور رپورٹر کسی بھی سرکاری ، سیاسی یا سماجی تقریب میں جاؤ تو بس چائے کی پیالی پہ اکتفا کرو اور کھانے پینے کی کسی چیز کو ہاتھ نہ لگاؤ ، کیونکہ اس سے آپ کی پیشہ ورانہ حیثیت پہ ضرب لگ سکتی ہے ۔

یہ تو ہوا ذاتی اخلاقیات کا معاملہ ۔ لیکن ہمارے جن دوستوں کو قوم کے اجتماعی رویے کے بارے میں نئی نئی تھیوریاں بنانے کا شوق ہے ، ان کے خیال میں اچھی اور وافر خوراک کی جارحانہ طلب کا معاملہ امکانی طور پہ پنجاب میں غذائی قلت کی پرانی روایت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ آزادی کے بعد پاکستانیوں کی پہلی نسل نے اردو انگریزی ترجمہ کی جن سیکنڈ ہینڈ کتابوں سے استفادہ کیا ان میں لکڑیوں کے گٹھے کی مدد سے اتفاق کی برکتیں سمجھانے والے بوڑھے ، نوشیرواں بادشاہ کے زمانے میں درخت لگانے والے کسان اور راہ چلتے کھوٹا روپیہ پا لینے والے دیہاتی کے علاوہ ان الفاظ سے شروع ہونے والا اقتباس بھی تھا کہ پنجابی کسان کو ہندوستان کا ان داتا کہتے ہیں ۔ ضرور کہتے ہوں گے ۔مگر دھیان اس سوال کی طرف بھی جاتا ہے کہ ہمارے کاشتکار کو یہ اسٹیٹس پنجاب میں انگریز کا دیا ہوا نہری نظام رائج ہونے کے بعد ملا یا پہلے ۔ میرے لئے یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ آج سے پچاس پچپن سال پہلے بچوں کو جھولا جھلانے والی بڑی بوڑھیوں سے میں نے بارہا یہ لوری اپنے کانوں سے سنی ہے ، جسے لوک شاعری کا نمونہ سمجھنا چاہئیے :

اللہ بھائی قادرا

روپئیے مانی باجرا

دھیلی مانی کنگنی

اساں غریباں منگنی

ہو سکتا ہے کہ اور مسائل کی طرح ، ہمارے غذائی رویوں کو خوراک کی مسلسل قلت سے منسوب کر دینے کی تھیوری کو وطن عزیز کے سب سے بڑے صوبے کے خلاف گھناونی سازش کا حصہ سمجھ لیا جائے ۔ اس موقف کے حق میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہم اہل پنجاب ’کھلے ڈلے‘ لوگ ہیں ، اس لئے خوشی غمی کے ہر موقع پر شوق سے کھلاتے ہیں اور خود بھی ڈٹ کر کھاتے ہیں ۔ لیکن آدمی پوچھے کہ آپ نے پانچوں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی لوگوں کو مل جل کر کھاتے دیکھا ہے ، بخدا یہ بتائیے کہ وقت طعام خوراک دشمنی کا یہ جذبہ لاہور سے سو ، سوا سو کلومیٹر نصف قطر کے براہ راست فاصلے کو چھوڑ کر آپ کو ملک بھر میں کہیں اور نظر آیا؟ ہمارے صوبائی دارالحکومت اور گر د ونواح کے شہری مراکز میں تو روٹی کھلتے ہی گویا غیب سے یہ آواز آنے لگتی ہے کہ اے کھانے والے ، آج جی بھر کے کھا لے شائد یہ تیری زندگی کا آخری کھانا ہو ۔

اگر نہ چاہتے ہوئے بھی محرومیوں کی تاریخ والی بات کو سچ مان لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ اس کے خلاف بسیار خوری کی شکل میں ہمارے رد عمل کا آغاز پاکستان بنتے ہی کیوں نہ ہو گیا ؟ ایک جواب تو یہ ہے کہ اس وقت ہم فوری طور پہ ایسے مسائل میں گھرے ہوئے تھے کہ غذا کی انتقامی جبلت کو ظاہر کرنے کے لئے وسائل بہم نہ ہو سکے ۔ دوسرے ، اس زمانے میں فرشی ضیافت یا شادی بیاہ کے موقع پر ہر شہر یا قصبے میں مدینہ ٹینٹ سروس کی ہلکی پھلکی کرسیوں پر بیٹھ کر کھانا کھا نے کا چلن عام تھا ۔ بیٹھ کر کھانا کھانے سے طبیعت میں جارحیت کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ پھر ’زردہ ، سلونا اور شوربہ ‘ ایسا سیدھا سادہ مینو تھا کہ طرح طرح کے آئیٹم اٹھانے کے لئے کسی جامع قسم کی ’چالاکی‘ کی ضرورت نہ پڑتی ، اور ہر چھوٹی بڑی بارات یکساں اطمینان سے بھگت جاتی ۔

آزاد پاکستان کی تاریخ میں کھانے پینے کی دہشت گردی1970ء کی دہائی میں اس ترتیب سے شروع ہوئی جس طرح رالپنڈی سے لاہور کیلئے روانہ ہونے والی مسافر ٹرین گوجرانوالہ پار کر لینے کے بعد اپنی ’لیٹ‘ نکالتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے محنت کشوں نے افرادی قوت بر آمد کرنے کی حکومتی پالیسی کی بدولت مشر ق وسطی کے ممالک سے نقد رقوم کے علاوہ کیسٹ ریکارڈر ، رنگین ٹیلی ویژن اور ’پانی والی ٹینکیاں‘ گھروں کو بھیجنا شروع کیں ۔ اب ہمارے عام آدمی کے تمدن میں ایسا تنوع تو تھا نہیں کہ گھر والے تفریح کی خاطر دنیا کی سیرکو نکل جاتے ، کتابیں یا نوادرات جمع کرتے یا تھیئٹر، سرکس اور اوپیرا دیکھنے میں مشغول ہو جاتے ۔ ہمارے پاس آسان آپشن یہی تھی کہ اپنا پیسہ موقع بے موقع کھانے پکا پکا کر عزیز و اقارب کی مت مارنے پہ خرچ کر دیں اور جو بچ جائے وہ امراض قلب کے ڈاکٹروں کا نصیب ۔ ذاتی حوالے سے بات کروں تو مار دھاڑ کی اس نئی فضا میں میرا المیہ نا رسائی کی کیفیت تھی ۔ اکثر یہ ہوا کہ کھانے کا وقت پلیٹ ڈھونڈنے میں گزر گیا اور ’یاران تیز گام نے محمل کو جالیا ‘ یعنی میٹھے تک پہنچ گئے ۔ کبھی اتنی کامیابی ضرور ہوئی کہ چھری کانٹا ہاتھ میں ہے لیکن اس کے بعد بقول ضمیر جعفری ۔

نہ آئی پر نہ آئی میری باری

پلاؤ تک بہت آیا گیا ہوں

ہر ’کھڑی‘ ضیافت میں پے در پے زیرو پہ آؤٹ ہو جانے کے خفت آمیز تجربے کے بعد اب اپنی بقا کی خاطر ایک نئی حکمت عملی وضع کرنے کا ارادہ ہے ۔ اور وہ یہ کہ غذا کا ٹونٹی ٹونٹی جیتنے کیلئے اپنے کھانے کا بیٹنگ آرڈر بدل دیا جائے ۔ شروع کیا جائے میٹھے سے جس پر ابتدا میں بڑے سے بڑا کھاؤ بھی نہیں جھپٹتا ۔ اور جب اور لوگ چاول کھا کر فارغ ہو رہے ہوں تو آپ پلاؤ کی طرف رجوع کرنے کی سو چیں ، کیونکہ نیٹو رسد کی طرح چاول شوربے کی سپلائی کو جلد یا بدیر بحال ہونا ہی ہوتا ہے ۔

مزید : کالم