ماضی سے سبق اور عمر اکمل!

ماضی سے سبق اور عمر اکمل!
 ماضی سے سبق اور عمر اکمل!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج پھر دورہ پڑا، ماضی یاد آیا اور دل نے چاہا ہے کہ موجودہ دور سے موازنہ بھی کرلیا جائے، تہذیب نوکے نوجوان تو اس پر برامناتے اور بڑے تیکھے انداز سے کہتے ہیں کس زمانے کی بات کرتے ہو، پھر پوچھتے ہیں آپ کے اس دور میں یہ موبائل فون تھے، ہم اس فون کے حوالے سے تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن بتانا تو یہ مقصود ہے کہ ہمارا بچپن اور ہمارا رہن سہن کیا تھا اور ہمارے بزرگ ہمارے ساتھ اور ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے جبکہ آج کے اس جدید دور میں بزرگی کا کتنا احترام کیا جاتا ہے، یہ مانا کہ ماضی ہمیشہ شاندار ہوتا ہے اور یقیناًایسا ہے، ہم یہ بات کئی مثالوں اور ضرب المثل سے بھی ثابت کرسکتے ہیں، بہر حال آج تو ہمارے ساتھ ہمارے والدین کا سلوک اور ہمارا جوابی انداز ہی زیر بحث ہوگا اور موازنہ بھی ہو جائے گا۔

ہمیں بالکل یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں یہ کہاوت تھی کہ بیٹے (اولاد) سے لاڈپیار ضرور کرو، کھلاؤ سونے کا نوالہ لیکن نظر شیر کی رکھو، چنانچہ ہم بھی اپنے گھر میں اسی فارمولے کے تحت پلے بڑھے ہیں کہ کھانے، پینے، پہننے اور جیب خرچ کے لئے سب کچھ تھا لیکن والدصاحب کے غصہ سے خوف آتا تھا، چنانچہ کھیل کود اور گھر سے باہر رہتے ہوئے بھی خیال رہتا کہ اب گھر جانے کا وقت ہو گیا کہ والد صاحب بھی آنے والے ہیں اور پھر ہماری دادی اور والدہ بھی تو ہیں جو پوچھیں گی کہاں سے آئے اور کیا کررہے تھے، چنانچہ ہم نے تو اسی ماحول میں پرورش پائی، اس کی ایک مثال دیں تو شاید آپ یہ فتویٰ لگادیں کہ ماضی میں والدین تو جلاد ہو تے تھے، یہ ہمارے ہائی سکول کے دور کی بات ہے کہ ہم کھیلوں میں الجھ گئے سکول کی ہر ٹیم میں شامل ہونا لازمی تھا، زیادہ دلچسپی کرکٹ سے تھی لیکن ہاکی اور فٹ بال میں بھی دلچسپی لیتے تھے،پی ٹی ماسٹر سے ہماری ٹولی کے تعلقات خوشگوار تھے اور سکول کی کھیلوں کا سارا سامان ہمارے ہی قبضے میں ہوتا تھا، اسی کھیل کی وجہ سے ایک بار کوتاہی ہوئی اور کلاس سے غیر حاضری طویل ہوگئی، ہمارے کلاس ٹیچر رزاق صاحب نے ہمارے گھر شکائتی پروانہ بھیج دیا کہ برخوردار کلاس میں نہیں آرہے، ہم پڑھائی میں بھی تیز تھے، عبدالرزاق ہمارے انگریزی کے استاد تھے اور ہماری حاضر جوابی کو پسند کرکے زیادہ توجہ بھی دیتے تھے، والد محترم نے ہم سے ہماری دادی کی موجودگی میں پوچھا کہ کلاس میں حاضری کی صورت حال کیا ہے تو ہم نے جھٹ سے کہہ دیا، ٹھیک ہے اور پڑھائی بھی صحیح ہو رہی ہے، والد صاحب خاموش ہوگئے اگلے روز جب ہم سکول کے لئے تیار ہوئے تو والد صاحب پہلے ہی تیار تھے اور وہ ہمارے ساتھ ہی سکول آگئے اور پھر انگریزی کے پیریڈ میں ہمیں کلاس میں لے جاکر استاد محترم کے سامنے کھڑا کردیا، یوں ہمارے جھوٹ کا پول کھل گیا اور پھر وہیں دہری سزا ملی ایک غیر حاضری اور دوسرا جھوٹ بولنے کی، تو یوں ہمارا بچپن گزرا اور تعلیمی دور بھی پورا ہوا، ویسے والد صاحب ہمیں بہترین درزی سے اچھے کپڑے سلوا کرپہناتے اور سینما دکھانے اپنے ساتھ لے جاتے تھے، ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے پہلی فلم پیلس سینما( میکلوڈروڈ) میں ’’ ڈاکٹر کوٹنس کی امرکہانی‘‘دیکھی اور وہ والد صاحب کے ساتھ دیکھی تھی جو جنگ عظیم کے دوران ایک ڈاکٹر کی داستان کے حوالے سے بنائی گئی تھی۔

تمہید ذرا طولانی ہوگئی، حالانکہ بات تو ہمیں ایک لاڈلے ہیرو کی کرنا ہے، جو ہمیں ذاتی طور پر بھی بہت پسند ہے اور ہم اس کی حمائت بھی کرتے رہتے ہیں، ہمارا صاحبزادہ اکثر کہہ دیتا ہے کہ آپ بے جا حمایت کرتے ہیں، یہ ’’ہیرو‘‘ عمر اکمل ہے جو قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہے، اس پرعروج و زوال آتے رہتے ہیں لیکن وہ اپنی عادات کو تبدیل نہیں کرسکتا، چھوٹا ہونے کی وجہ سے گھر کا لاڈلا ہے اور پھر قومی ہیرو کا درجہ بھی مل گیا اس لئے اس کا مزاج ساتویں آسمان پر ہوتا ہے اور اپنی اسی عادت کی وجہ سے بکھیڑوں میں الجھ جاتا اوربدنام بھی ہوتا ہے، وہ متحدہ عرب امارات سے واپس آیا کہ اس کی ٹیم ’’ لاہور قلندر‘‘ پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہوگئی تھی اوراس میں دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ خود اس کی کارکردگی بھی زیر بحث ہے، ایسے میں اسے نرم ہونا چاہئے یوں بھی جس درخت کو پھل لگتا ہے اس کی ٹہنیاں جھک جاتی ہیں اور یہی سب ہمارے قومی کھلاڑیوں /ہیروز کا رویہ بھی ہونا چاہئے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمر اکمل کچھ زیادہ ہی لاڈپیار کا حامل ہونے کی وجہ سے بگڑا ہوا بچہ بن گیا ہے، پہلے اس کا ایک ٹریفک وارڈن سے تنازعہ فوکس ہوا اور اس نے والد تک کو تھانے میں آکر معذرت کرتے دیکھا، یہ مسئلہ نمٹ جانے کے بعد اسے بہت ہی سنبھل جانا چاہئے تھا، کہ آئندہ کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہو، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس مرتبہ اس کا ایکسائز والوں کے ساتھ پھڈا ہوگیا جو فینسی نمبر پلیٹ اتروا کر منظور شدہ نمبر پلیٹ لگوانے کے لئے کہہ رہے تھے یہ تنازعہ بھی راہ گیروں نے نمٹایا اور عمر اکمل کی گاڑی کی نمبر پلیٹیں اتروا لی گئیں کہ وہ محکمہ سے منظور شدہ نمبر پلیٹیں نہیں تھیں۔ تاہم یہ سب سین وائرل تو ہوگیا۔ عمر اکمل نے ایکسائز والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جبکہ دوسری طرف سے سرکاری فرائض میں مداخلت اور رعب جھاڑنے کے الزام لگائے گئے، عمر اکمل کو اپنے اس مزاج کی وجہ سے کئی بار خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن وہ سمجھا نہیں اب تو خود ان کے بزرگوں،والد صاحب، بڑے بھائی کامران اکمل کو بھی خفت اٹھانا پڑتی ہے، بہتر عمل تو یہ ہے کہ خود عمر اکمل اپنے آپ کو کنٹرول کرے، ورنہ وہ اس سلسلے میں بدنام ہو جائے گا اور اس کی بات نہیں مانی جائے گی۔

مزید : کالم