فاٹا کا ادغام!

فاٹا کا ادغام!
 فاٹا کا ادغام!

حکومت نے آج وہ کام کر ہی دیا جو گزشتہ 70برسوں سے زیر غور اور ملتوی چلا آ رہا تھا۔۔۔ یہ کریڈٹ نواز شریف صاحب کو جاتا ہے کہ انہوں نے یہ سنگِ میل اور تاریخ ساز(Historic) اقدام اٹھایا۔ فاٹا کا خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں ادغام ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہو گی!وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے یہ اقدام اٹھا کر جو روبی کان عبور کیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک واٹرشیڈ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس سلسلے میں تین باتیں غور طلب ہیں۔ پہلی یہ کہ خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت نہیں۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ جب مستقبل قریب میں فاٹا کی سات ایجنسیاں اس صوبے میں مدغم ہو جائیں گی تو اس کا قد کاٹھ کہاں سے کہاں نکل جائے گا۔ نہ صرف رقبے کے لحاظ سے بلکہ آبادی اور معدنی وسائل کے اعتبار سے بھی خیبرپختونخوا کی حیثیت ایک قابلِ لحاظ بلکہ قابلِ رشک وفاقی وحدت میں ڈھل جائے گی۔ ایک مدت تک یہ خیال عام رہا کہ وزیراعظم کی پارٹی چونکہ خیبرپختونخوا میں برسر اقتدار نہیں اِس لئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنے سب سے طاقتور اور بے باک حریف کو فاٹا جیسے وسیع و عریض علاقے اور معدنی وسائل سے مالا مال سرحدی خطے کو اس کے حوالے کر کے اپنی سیاسی حیثیت کمزور نہیں کرے گی۔ لیکن مسلم لیگ(ن) نے ملک اور قوم کے سٹرٹیجک فائدے کو اپنے اس ٹیکٹیکل نقصان پر ترجیح دی ہے۔ ذرا CPEC کے مستقبل کو نگاہ میں رکھیں اور دیکھیں کہ اس پراجیکٹ کے فوائد سے جس انداز میں اور جس حجم سے فاٹا(اب سابق فاٹا کہنا زیادہ مناسب ہو گا) کے باسیوں کو فائدہ پہنچے گا اس کا تصور آج شائد دھند لایا ہوا نظر آئے، لیکن بہت جلد چکا چوند ہونے والی ہے۔ دراصل یہ چکا چوند سارے پاکستان کی ہو گی، محض خیبرپختونخوا کی نہیں۔ میرے خیال میں تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے قائدین کے جو لتّے لئے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے فیڈرل کابینہ کا فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ ایک ایسا فیاضانہ فیصلہ ہے جس کو تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کو بھی ایک ایسے زاویئے سے دیکھنا پڑے گا جو ماضی کے کلیڈو سکوپ میں بالکل مختلف بلکہ متضاد پہلوؤں سے عبارت رہا ہے۔وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کر کے یقیناًقومی یکجہتی اور اتحادِ ملی کا ایک قابلِ تحسین مظاہرہ کیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ادغام کے اس فیصلے کے سب سے بڑے ناقد مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کے قائدین ہیں۔ وہ نواز شریف سے سخت ناراض ہیں اور مولانا اس کا کھل کر اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی ایک حلیف پارٹی ہیں اور اس حوالے سے نواز شریف اور ان کی کابینہ نے جے یو آئی کو اندھیرے میں رکھا اور دھوکا دیا ہے۔۔۔۔ پاکستان کی سیاسی روایات بڑی عجیب و غریب رہی ہیں۔دوست اور دشمن جلد جلد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کہا جاتا رہا ہے کہ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ کل کا حلیف آج کا حریف اور کل کے یار آج کے اغیار بنتے رہے ہیں۔ یہ اگرچہ کوئی نئی اور انہونی بات نہیں لیکن مولانا کو کیا معلوم تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) ان کے ساتھ یہ ’’ہاتھ‘‘ بھی کر سکتی ہے!

لیکن مولانا کو شائد معلوم نہیں کہ گزشتہ سات آٹھ برسوں میں پاکستان کے سیاسی اور سماجی پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ وہ نام نہاد ’’اسلام پسند‘‘ نسل جو ایک دو عشرے پہلے فاٹا کے طول و عرض میں موجود تھی، اب جوان اور بالغ النظر ہو چکی ہے۔ اس نئی نسل کے آدرش اور ہیں، امیدیں اور آرزوئیں اور ہیں، اور جستجوئیں اور ہیں۔ پرانی روایات روبہ تبدّل ہیں۔ تحریک انصاف کی بیباک گوئی اور تندو تیز سیاسی رفتار نے وہ پرانے روایتی قلعے مسمار کر دیئے ہیں جن کی بنیادیں مذہبی کٹر پن پر استوار تھیں۔ ان عناصر کو فاٹا سے نکال کر سرحد پار دھکیلا جا چکا ہے جنہوں نے ’’دامے، درمے اور سخنے‘‘ فاٹا کے باسیوں کو کئی نسلوں سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔مذہبی مدرسوں کی بجائے نئی نسل اب سکول، کالج اور یونیورسٹیاں مانگتی ہے۔ وہ پاکستانی معاشرے کی مین سٹریم میں شامل ہونے کو بے تاب ہے۔ اس خطے کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان رسوم و رواج کی یبوست اور کہنگی سے اکتا چکی ہیں جس نے فاٹا کی مین سٹریم کو برطانوی دور کے نظم و نسق اور جرگوں کا اسیر بنایا ہوا تھا۔فاٹا کے جغرافیائی نقوش اور اس کے در و بام اب پرانی روش سے بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی طرز بود و ماند ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔ اس انقلابی کایا پلٹ میں میڈیا نے ایک تاریخ ساز اور نمایاں ترین رول ادا کیا ہے۔ لیکن اس تبدیلی کا کما حقہ ادراک کرنا، لوگوں کی امنگوں کو پڑھنا، ان کو قبائلی تنگ دامنی سے نکال کر کسی کشادہ دامانی میں لانا ایک نہایت مشکل چیلنج تھا۔ قوم کے موجودہ قائدین نے اس چیلنج کا بروقت شعور و ادراک کر کے جو یہ انقلابی اقدام اٹھایا ہے، اس خطے (اور پاکستان) کی آنے والی نسلیں اسے ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

میری نگاہ میں ان سات قبائلی ایجنسیوں کی آبادیوں میں جو امکانی نشوونمائی قوتیں ہیں اور جو ہمہ گیر، ہمہ رنگ اور ہمہ جہت پوٹینشل پوشیدہ ہے اس کو پاکستان کی مین سٹریم سوسائٹی میں مدغم کرنا ایک ’’پیغمبرانہ اقدام‘‘ ہے۔ مجھے اقبال کی وہ نظم یاد آ رہی ہے جس کے دو اشعار یہ ہیں:

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی

اے شیخ بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن

بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی

ہم سب جانتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے عربوں کا کیا حال تھا۔ جو جاہل معاشرہ صدیوں سے قبیلوں میں تقسیم تھا اس کو وحدت کی لڑی میں پرو دینا ایک ایسا کام تھا جو ختم المرسلینؐ ہی کر سکتے تھے۔ اس لئے اقبال نے امتیازِ قبائل کو ’’تمام تر خواری‘‘ کا نام دیا۔ ان کے یہ تین شعر بھی قارئین کی غائت توجہ کے طالب ہیں:

یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے

کہ امتیازِ قبائل تمام تر خواری

ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی

کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا زناّری

وہی حرم ہے، وہی اعتبارِ لات و منات

خدا نصیب کرے تجھ کو ضربتِ کاری

فاٹا کے ان علاقوں میں ’’اعتبارِ لات و منات‘‘ کا سماں آج بھی بظاہر شدت سے نظر آتا ہے لیکن برف پگھل چکی ہے۔ آخر کسی نے تو ان بتوں کو توڑ کر ضربتِ کاری کا مظاہرہ کرنا ہی تھا!قارئین کو یہ بات بھی نوٹ کرنی چاہئے کہ فاٹا میں لات و منات اور ضربتِ قاری کا مقابلہ مستقبل میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔ یہ قدیم و جدید کی جنگ ہو گی، کہن سالگی اور دورِ نو کی کشمکش ہو گی اور قدامت پرستانہ رویوں کا عصر حاضر کے جدید رویوں سے مقابلہ ہو گا۔ اس لئے ہم پاکستانیوں کو اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ تحریک انصاف نے اس ادغام کی حمایت کی ہے اور یہ بات تحریک کے قائدین کی روشن خیالی پر دلیلِ محکم ہے۔

دیکھیں آنے والے ماہ و سال میں تحریک کی جدت اور جے یو آئی کی قدامت کیا رنگ دکھاتی ہے۔ جماعت اسلامی اور اُن دوسری جماعتوں نے کہ جنہوں نے اس انضمام کو خوش آمدید کہا ہے اب ان کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور نسلِ نو کی رہنمائی کریں۔

فاٹا کے ادغام کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا۔حکومت کے پاس چار آپشن تھیں۔ پہلی یہ کہ اس خطے کو ایک الگ صوبہ بنا دیا جاتا۔۔۔ دوسری یہ کہ ’’جیسا ہے، جہاں ہے‘‘ کو باقی رکھا جاتا۔۔۔ تیسری یہ کہ گلگت بلتستان کی طرح اس کی ایک انتظامی کونسل تشکیل دے دی جاتی جو نہ مکمل صوبہ ہوتی نہ جاری حیثیت کی حامل ہوتی۔۔۔ اور چوتھی یہ کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں مدغم کر دیا جاتا۔۔۔ جناب سرتاج عزیز کہ جن کو فاٹا کی اصلاحی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے موخر الذکر چوتھی آپشن کی منظوری دے دی ہے۔ ہمیں مسلم لیگ (ن)کے دوسرے لیڈروں یعنی وزیر سرحدی علاقہ جات جناب جنرل عبدالقادر بلوچ اور گورنر خیبرپختونخوا جناب اقبال ظفر جھگڑا اور دوسرے اراکینِ اصلاحی کمیٹی کا بھی ممنون ہونا چاہئے کہ انہوں نے وزیراعظم کے اس فیصلے میں اپنا وزن ڈال کر اس کو ایک تاریخ ساز فیصلہ بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کیا۔

البتہ ایک بات جو ادغام کے حامیوں اور حکومتی فیصلے میں وجہ نزاع بن رہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت نے فاٹا کے ہمہ جہتی اصلاح و ارتقاء کے لئے پانچ برس کا ایک پیکیج بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امسال 110 ارب روپے اس علاقے کی ہمہ جہت ترقی کے لئے مختص کئے گئے ہیں،جرگے کے نظام کو ختم کر کے پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ عمل کو ان علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ یعنی قانون و انصاف کا وہی سسٹم قائم ہو گا جو باقی صوبوں میں رائج ہے۔ لیوی فورسز کی بجائے پولیس فورس کی تشکیل کی جائے گی اور2018ء کے قومی انتخابات کے بعد مقامی حکومت(لوکل گورنمنٹ) کا نظام بروئے عمل لایا جائے گا۔ یہ سارا پیکیج پہلے صدرِ مملکت کو بھجوایا جائے گا اور ان کی منظوری کے بعد اسے باقاعدہ آئینی شکل دے کر اس کا نفاذ کر دیا جائے گا۔۔۔۔ نفاذ کا یہ عمل پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا۔

تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دوسری سیاسی جماعتوں نے کہ جو اس ادغام کی حامی ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ پانچ سال کا انتظار نہ کیا جائے اور اگلے الیکشن (مئی2018ء) سے پہلے پہلے فاٹا کو باقاعدہ خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا جائے۔

لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اصلاحی کمیٹی کا کام آسان نہیں تھا۔ اس نے تین چار ہزار قبائلی ملکوں اور مشران سے بات چیت کی اور جرگہ وغیرہ جیسے کئی رسوم و رواج پر ان کی رائے لی اور اس طویل بات چیت کے نتیجے میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا پلان تیار کیا۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کا عندیہ معلوم کیا گیا کیونکہ بالآخر عنانِ اقتدار اسی حکومت کے حوالے کی جانی ہے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ نافذ رہنے والے بدنامِ زمانہ ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) کو تبدیل کرنا ہے، آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے بے گھر لوگوں کو واپس لانا ہے، سالانہ100ارب روپے کا اضافی بجٹ صوبائی حکومت کے حوالے ہونا ہے اور فاٹا کا مواصلاتی سلسلہ CPEC کے ساتھ منسلک و مربوط کرنا ہے۔ یہ اقدامات وقت مانگتے ہیں۔ اِس لئے فیڈرل حکومت عجلت میں کوئی قدم اُٹھانا نہیں چاہتی!

لیکن سچی بات یہ بھی ہے اگر حکومت چاہے تو یہ سب اقدامات ایک سال سے بھی کم مدت میں تکمیل کو پہنچائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ اگر پی ایس ایل کا فائنل ایک ہفتے کے اندر اندر لاہور میں کروایا جا سکتا ہے تو اسی رفتارِ کار کا مظاہرہ فاٹا کے ادغام کے سلسلے میں کیوں نہیں کہا جا سکتا؟

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...