قذافی سٹیڈیم عظیم معرکے کے لئے تیار

قذافی سٹیڈیم عظیم معرکے کے لئے تیار

پاکستان سپر لیگ کے سپر فائنل کے لئے قذافی سٹیڈیم اور ملحقہ شاہراہوں کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے،جبکہ شہر بھر میں جشن کا سا سماں نظر آ رہا ہے ۔ ہر طرف رنگ ہی رنگ بکھر گئے ہیں اور روشنی ہی روشنی پھیل گئی ہے۔ ہر طرف برقی قمقمے روشن ہو گئے اور رنگ و نور کے جلوے دکھائی دینے لگے۔ سٹیڈیم کو جانے والے راستے روشنی سے جگمگا اٹھے۔سٹیڈیم کے داخلی راستے اور گیٹ دلکش منظر پیش کرنے لگے۔ رنگ برنگی روشنیوں کے شہر پر راج کے مناظر دل و دماغ کو تسکین دینے لگے۔لاہور کے فضائی مناظر بھی دید کے قابل ہیں۔ملک کے مختلف شہروں سے منچلوں کے غول کے غول میچ دیکھنے کے لئے لاہور کا رخ کر رہے ہیں ۔جبکہ لاہور کے شہری اپنے مہمانوں کے استقبال کیلئے آنکھیں فرش راہ کیے ہوئے ہیں،جب سے PSL کا فائنل لاہور میں کرائے جانے کا حتمی فیصلہ ہوا ہے ، پوری پاکستانی قوم قذافی سٹیڈیم میں یہ میچ دیکھنے کے لیے بیقرار ہے۔ چہرے خوشی سے دمق رہے ہیں اور جوش و جذبہ اپنے عروج پر ہے۔ پوری قوم یہ سمجھتی ہے کہ آج کا دن انشاء اللہ دہشت گردوں کی شکست کا تاریخی دِن ہو گاکیونکہ آج لاہور دْنیا کی نگاہوں کا مرکز بن جائے گا اور دہشت گردوں کو یہ پیغام جائے گاکہ اْن کے بم دھماکوں اور خودکْش حملوں سے قوم کے مورال پر بقدرِ اشکِ بلبل بھی اثر نہیں ہوتا اورنہ ہی روز مرہ کے معمولات پر۔اس کے علاوہ آج کا دن ملک بھر میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا دن بھی ہو گا۔ ہمارے سٹیڈیم پھر سے آباد ہو جائیں گے ، بین الاقوامی کرکٹ ٹیمیں یہاں کھیلنے آئیں گی اور عوام کو نہ صرف تفریح میسر ہو گی بلکہ خودکْش حملوں اور بم دھماکوں کے خوف کا اثر بھی زائل ہو جائے گا۔اس میں کوئی دوسری آراء نہیں ہے کہ اس کام کا سہرا چیئر مین پی ایس ایل نجم سیٹھی اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے ۔پی ایس ایل کا فائنل پاکستان میں کروانے کا اعلان تو نجم سیٹھی نے ایک سال قبل اْس وقت ہی کر دیا تھا جب پی ایس ایل وَن کا فائنل دبئی میں کھیلا گیا۔ پھر پی ایس ایل ٹو کی افتتاحی تقریب میں فائنل لاہور میں کھیلنے کا اعلان بھی کیا گیا ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ستمبر 2015 میں کرکٹ لیگ کروانے کا اعلان کیاتھا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی کرکٹ میں بہتری لانا اور بین الاقوامی کرکٹ کو پاکستان میں واپس لانا تھا۔اس سلسلے میں پاکستان کے سابق کھلاڑی وسیم اکرم اوررمیز راجہ سے پی ایس ایل کی تشہیر کاتین سال کا معاہدہ بھی کیا گیا معاہدہ کے بعد مزید کھلاڑی بھی شامل ہوئے۔کئی ماہ کی منصوبہ بندی اور محنت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل ون کا اہتمام متحدہ عرب امارات میں کیا ۔پہلے مقابلے کے لیے ملک بھر سے پانچ ٹیمیں شامل کی گئی اور اس کے لیے بیرون ملک سے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو بھی مدعو کیا گیا۔پی ایس ایل ون کے کامیاب انعقاد کے بعد پی ایس ایل ٹو کا فائنل آج لاہور میں ہونے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ لیگ کامیابی کے ساتھ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لے آئی ہے یا کم از کم بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

پاکستانی شائقین کی دعا ہے کہ میچ کے حوالے سے تمام کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پائیں کیونکہ یہ پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کی عزت کا سوال ہے۔چند روز قبل لاہور چیئرنگ کراس میں ہونے والے دھماکے نے پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔آج کا یہ میچ اسے دور کرے میں معاون ثابت ہو گا ۔لاہور میں ہونے والا پاکستان سپر لیگ کا یہ فائنل جہاں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لئے چیلنج بن چکا ہے وہیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے انتہائی فول پروف سیکیورٹی انتظامات بھی کر لئے گئے ہیں ۔اگرچہ آج کے میچ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شائقین کو دیکھنے میں نہیں ملے گی لیکن پاکستانی شائقین قومی ہیروز کے ساتھ لاہور میں فائنل دیکھنے کے لئے بے قرار نظر آ رہے ہیں ۔ٹکٹوں کے حصول کے لئے کرکٹ دیوانوں کی دیوانگی گزشتہ روز تک عروج پررہی۔ گذشتہ روز بھی شائقین نے دردرکی ٹھوکریں کھائیں۔ لاکھوں لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ پی ایس ایل کا فائنل قذافی اسٹیڈیم میں جاکردیکھیں لیکن اسٹیڈیم میں گنجائش صرف 60ہزار لوگوں کی ہے۔فائنل کی ٹکٹوں کے حصول کے لئے لاکھوں شائقین کا بینکوں کے باہراکٹھے ہو جانااس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان سپر لیگ ملک میں کرکٹ کے فروغ میں کامیاب ہو گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کا موسم آج خشک اور مطلع صاف رہے گا۔ شام کے اوقات میں لاہور کا درجہ حرارت 19 سینٹی گریڈ تک ہوگا جبکہ ہوا کی رفتار 8 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو گی۔انتظامیہ کی جانب سے پارکنگ سے سٹیڈیم تک خصوصی گاڑیاں چلائی جائیں گی, شائقین کرکٹ کی سہولت کیلئے کھانے پینے، پانی اور دیگر ضروریات کا وافر مقدار میں انتظام کیا گیا ہے, پارکنگ سے سٹیڈیم تک فری شٹل سروس چلائی جائے گی, سٹیڈیم کے باہر کسی ریسٹورنٹ کو بند نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کوفول پروف سیکیورٹی دی جائیگی اور سٹیڈیم جانیوالے تمام راستوں کوسی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرکیاجائیگا۔شائقین کو4جگہوں پرچیکنگ کے بعدقذافی اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہوگی اورداخلے کے وقت قومی شناختی کارڈاورٹکٹ دکھانالازمی ہوگااسی طرح سے انتظامیہ و سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تمام افسران و اہلکارڈیوٹی پرقومی شناختی کارڈ،محکمانہ،ڈیوٹی کارڈہمراہ لانے کے پابندہوں گے۔ قذافی اسٹیڈیم کے راستے بند کرنے کے لیے کنٹینر پہنچادیئے گئے، جن کو دوپہر12بجے سٹیڈیم جانے والے راستوں پر لگا دیا جائے گا۔مال روڈ پر کھلاڑیوں کے ہوٹل کے اطراف میں قناتیں لگا دی گئی ہیں،سیکیورٹی انتظامات کے جائزے کے لئے سری لنکا سے آئی سی سی کا 2رکنی وفد بھی لاہورپہنچ گیا ہے جو کہ ان انتظامات کا جائزہ لیکر ملک میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی رپورٹ آئی سی سی کو دے گا اور اس سے ہی ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کاسلسلہ شروع ہو گا۔میچ کی سیکیورٹی مزید فول پروف بنانے کے لیے دیگر اضلاع سے بھی 3 ہزار پولیس افسران اور اہلکار لاہورپہنچ گئے ہیں ، ان میں 6 ڈی ایس پی، 43 انسپکٹر، 214 سب انسپکٹر اوراے ایس آئی شامل ہیں۔قذافی اسٹیڈیم کے قریب ہاکی اسٹیڈیم میں25بستروں جبکہ مقامی ہوٹل میں 7 بستروں کا عارضی اسپتال بھی قائم کردیا گیا ہے۔فائنل میچ پر ٹریفک پلان بھی تیار کیا گیا ہے، 5مقامات پرپارکنگ مخصوص کی گئی ہے، گاڑیاں ایف سی کالج ،مسلم ٹاؤن فلائی ،سینٹر پوائنٹ سے لبرٹی مارکیٹ اوربرکت مارکیٹ میں پارک ہوں گی۔چنگ چی اورآٹو رکشوں ، ایل پی جی ، ایل این جی اور سی این جی پر چلنے والی گاڑیوں کا پارکنگ ایریا میں داخلہ ممنوع ہوگا ۔سٹیڈیم میں داخلہ کا آغاز 3بجے شروع کر دیا جائے گا، اصل شناختی کارڈ اور فائنل کا ٹکٹ دکھانے والوں کو اسٹیڈیم کی طرف جانے دیا جائے گا۔ 6بجے پاکستان سپر لیگ ٹو کی اختتامی تقریب کا آغاز ہو گا جبکہ فائنل میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے مابین 8بجے شروع ہو گا۔

پاکستان سے روٹھی کرکٹ کی واپسی کے لئے قذافی سٹیڈیم کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے ۔قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے، واک تھروگیٹ لگاکرسیکیورٹی اہلکارتعینات کر دیے گئے۔ کھلاڑیوں کو لانے اور لے جانے کے لئے فل ڈریس ریہرسل بھی کی گئی۔

قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کی پانچوں ٹیموں کے کپتانوں سرفراز احمد، مصباح الحق، کمار سنگاکارا، ڈیرن سیمی اور برینڈن میکلیم کے قدآورپوسٹر لگا دیے گئے ہیں۔ فائنل میچ کے لیے 5درجاتی سیکیورٹی پلان تیارکیاگیا ہے جس کے تحت پاک فوج ، رینجرز اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اسٹیڈیم اور اطراف میں تعینات ہونگے۔جیل روڈ ،فیروز پور روڈ ،کینال روڈ اور گلبرگ مین بلیوارڈ کو عام ٹریفک ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے ۔پی ایس ایل فائنل میں شرکت کرنے والے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا گیا ہے ۔زمبابوے کی ٹیم کے پاکستان دورہ کے سیکیورٹی ماڈل کے مطابق 5حصاروں پر مشتمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سیکیورٹی کے علاوہ 10ہزار پولیس کے جوان بھی موجود ہوں گے۔پنجاب کے 5اضلاع اٹک ،چنیوٹ ،منڈی بہاؤلدین ،وہاڑی اور گوجرانوالہ سے ڈی پی او اور ایس پی حضرات کوبھی طلب کر لیا گیا ہے۔پولیس کی سیکیورٹی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی رانا ایاز سلیم کے ذمہ سونپی گئی ہے ۔قذافی سٹیڈیم میں چڑیا بھی نظروں سے بچ کر داخل نہ ہو سکے گی۔اس لئے نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کے 86آٹو میٹک کیمروں کے علاوہ سیف سٹی پراجیکٹ کے 100سے زائد کیمرے ہر چیز پر نظر رکھیں گے۔نشتر سپورٹس کمپلیکس کو آج صبح ہی بند کر دیا گیا ہے۔میچ دیکھنے والے شائقین کو ساتھ میں کھانے پینے کی اشیاء تک لیجانے کی اجازت نہیں ہے۔ عوام کی سہولت اور گاڑی کی خرابی یا کسی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن نمبر042۔1915ہوگی۔سٹی ٹریفک پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قذافی اسٹیڈیم کی طرف غیرضروری سفر سے گریز کریں اور رش سے بچنے کے لیے میٹرو بس کا استعمال کریں۔ محکمہ صحت نے لاہور کے تمام اسپتالوں کو الرٹ رہنے کے احکام جاری کردیے۔ جبکہ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کی ہدایت پرعملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں، ایدھی فاؤنڈیشن کی30ایمبولینسزقذافی اسٹیڈیم اوراطراف میں کھڑی رہیں گی۔ قذافی اسٹیڈیم کے اطراف اورحدود میں کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کا داخلہ ممنوع قراردیا گیاہے اورسیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے، علاقے میں سرچ اینڈ سویپنگ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ تمام انکلوژرز، سٹیڈیم کے داخلی اور خارجی راستوں اوردیگر مقامات کی بم ڈسپوزل اسکواڈاور سراغ رساں کتوں کے ذریعے چیکنگ اورہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی گئی ہے۔ پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے کیلئے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے آنے والے شائقین کے لئے وزیر اعلی پنجاب نے قذافی سٹیڈیم کے باہر پشتو بولنے والے پولیس آفیسرز تعینات کرنے کا حکم دیا ہے پشتو بولنے والے پو لیس آفیسرز مامور کرنے کا مقصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے آنے والے شائقین کرکٹ کے لئے سٹیڈیم داخلے کے لئے آسانی پیدا کرنا ہے۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر قذافی سٹیڈیم کے علاوہ شہر کے کسی بھی پبلک مقام پر بڑی سکرین لگا کر میچ نہ دکھائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈھابہ ہوٹلوں اور ٹی سٹالز کی بھی سخت نگرانی کرنے کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ بی اور سی کلاس کیٹیگری کے ہوٹلوں کو 2 روز تک کمرے نہ دینے کی ہدایات بھی کی گئی ہیں۔پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ فائنل کی افتتاحی تقریب اورتقسیم انعامات سمیت دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے چکی ہے۔ پروگرام کے مطابق پی ایس ایل کی اختتامی تقریب میں معروف پاکستانی گلوکار علی ظفراور علی عظمت نے پرفارم کرنا تھا لیکن بعد ازاں علی ظفر نے مصروفیت کے باعث تقریب میں پرفارم کرنے سے معذرت کرلی ہے اور علی عظمت ہی قتریب میں پرفارم کریں گے جبکہ علاقائی رقص اورڈھول پر فارمنس بھی ہوگی۔اس کے علاوہ غیرملکی نشریاتی کمپنی کا براڈ کاسٹنگ سامان لاہور پہنچ گیا ہے اور گراؤنڈ میں کیمروں اوردیگرآلات کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے ۔ تماشائیوں کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے نادرا کی گاڑیاں بھی پہنچ گئی ہیں۔ ڈائریکٹر ایکسائزموٹر برانچ لاہور چوہدری آصف نے فائنل میچ کیلئے پارکنگ ایریاز میں آنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی تصدیق کیلئے51 افسروں اور اہلکاروں پر مشتمل 5 ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ ایم ڈی سوئی ناردرن امجد لطیف نے5مارچ کو حفاظتی اقدامات کے پیش نظر قذافی اسٹیڈیم کو گیس کی سپلائی بندکرنے کے احکامات بھی دے دیئے ہیں۔ لیسکو نے بھی اعلان کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے حوالے سے لاہور شہر میں 4مارچ سے 6مارچ کی صبح تک لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز ڈین جونز پی ایس ایل فائنل کیلئے کمنٹری کے فرائض دیں گے، اس سلسلے میں انہوں نے پاکستانی حکام سے حامی بھر لی ہے اور ان کا غیر ملکی نشریاتی ادارے سے معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔ اب ڈین جونز پی ایس ایل فائنل کے لیے رمیز راجہ،وسیم اکرم اور وقار یونس کے ساتھ کمنٹری پینل جوائن کریں گے۔ پشاور زلمی کے تمام تر انٹر نیشنل کھلاڑی پاکستان پہنچ چکے ہیں جن میں پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی، کرس جورڈن، ڈیوڈ ملان، مارلن سیموئلز اور سمت پٹیل میں شامل ہیں،

اس کے علاوہ کامران اکمل، محمد حفیظ، وہاب ریاض، حسن علی اور افتخار احمد بھی لاہور پہنچ چکے ہیں، پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اور دیگر عملہ بھی لاہور پہنچ گیا ہے۔دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کے فائنل میں شرکت سے معذرت کر لی تھی تاہم دیگر انٹر نیشنل کھلاڑیوں کو ان کی جگہ پر کھلایا جائے گا ۔50انٹر نیشنل کھلاڑیوں نے فائنل کھیلنے کے لئے حامی بھری تھی جن میں سے 15کے ناموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے پر رضا مندی ظاہر کرنے والے کھلاڑیوں کا تعلق انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، بنگلا دیش، زمبابوے، جنوبی افریقا اور ہالینڈ سے ہے۔ فہرست میں بنگلا دیش کے انعام الحق، زمبابوے کے ایلٹن چگمبرا، گریم کریمر، سین ایرون اور کریگ ایرون، ویسٹ انڈیز کے ریاڈ ایمرٹ، کیسرک ولیمز اور کرشمار اسنٹوکی، انگلینڈ کے پیٹر ڈیوڈ ٹرگو، جیڈ ڈیرن بیچ، جوش کوب، اشعر زیدی، اظہر اللہ، نیدر لینڈ کے ریان ٹین ڈوچے جب کہ جنوبی افریقا کے مورنے وین ویک اور رچرڈ لیوی شامل ہیں۔پاکستان کے ناموربلے باز شاہد آفریدی دبئی میں کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران کیون پولارڈ کا کیچ لیتے ہوئے زخمی ہوگئے تھے ۔ بوم بوم آفریدی کے ہاتھ میں 12 ٹانکے آئے ہیں اور وہ آج کے میچ میں شرکت نہیں کریں گے۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت کئی سیاسی راہنما پی ایس ایل کے اس فائنل میں شرکت کریں گے۔پولیس افسران کے مطابق ابھی تک حکمران جماعت کے 3ہائی پروفائل پرسنزکی شرکت کے حوالے سے انہیں قیادت کی جانب سے بتایا گیا ہے جو کہ میچ کو قذافی سٹیڈیم میں پہنچ کر دیکھیں گے لیکن تاحال ان کے نام ظاہر نہیں کئے گئے۔عوامی مسلم لیگ کے راہنما شیخ رشید پہلے ہی آج کا میچ عوام کے درمیان میں بیٹھ کر دیکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں اسی طرح سے اپوزیشن کے کئی راہنماؤں کی جانب سے بھی سٹیڈیم میں پہنچ کر میچ دیکھنے کے حوالے سے بیانات سامنے آ چکے ہیں ۔یوں سپر فائنل دیکھنے کے لئے نہ صرف عوام بلکہ سیاسی راہنماؤں کی بھی ایک بڑی تعداد قذافی سٹیڈیم آنے کی امید ہے۔

آج کے فائنل میں ایونٹ کی دو مضبوط ٹیمیں پشاور زلمی اورکوئٹہ گلیڈی ایٹرزایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گیں اور ایک دوسرے سے ٹائٹل کی جنگ لڑنے کے لئے اپنی اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گی لیگ کے آغاز میں شریک پانچوں ٹیموں نے جس طرح سے اس ٹائٹل کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے خلاف پنجہ آزمائی کی اور ہر ایک نے کوشش کی کہ پاکستان لیگ کا تاج اس کے سر سجے اور آج کون سی ٹیم اس کی فاتح ہوتی ہے اب شائقین کرکٹ کو اس بات کا شدت سے انتظار ہے پاکستان کی پانچوں ٹیموں میں شامل کھلاڑی ہر میچ میں ہی کامیابی حاصل کرنے کے لئے کوشاں نظر آئے اور ان کی کارکرگی متاثر کن رہی چاہے وہ ملکی کھلاڑی ہو یا غیر ملکی کھلاڑی ہوں ان کی کارکردگی کو شائقین کرکٹ نے بہت سراہا پی ایس ایل کا پہلا ٹائٹل اسلام آباد یونائٹڈ نے اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعدامید کی جارہی تھی کہ اس مرتبہ بھی تمام ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا او رایسا ہی ہوا کئی میچ ایسے بھی اس ایونٹ میں کھیلے گئے جن کو شائقین مدتوں یاد رکھیں گے اور ان میچوں میں پانسہ کبھی کسی ٹیم کے حق میں ہوتا توکبھی کسی اور ٹیم کے حق میں ہوتا۔اس لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھرپور شرکت کی اور اپنی اپنی ٹیموں کی جانب سے دل و جان سے کھیل پیش کیا مگر کسی ایسے نامور کھلاڑی جو میدان کے شیر سمجھے جاتے ہیں اس لیگ میں وہ کھیل پیش نہ کرسکے جس کی ان سے امید کی جارہی تھی اور انہوں نے شائقین کو بہت مایوس کیا اور مہنگے داموں مختلف ٹیموں کی طرف سے کھیلنے والے یہ کھلاڑی بھی اپنی پرفارمنس سے مطمئن نظر نہیں آئے جس میں سب سے بڑا نام ویسٹ اندیز کے کرکٹر کرس گیل کا ہے جو لیگ کے پہلے ایڈیشن میں لاہور قلنذرز کی ٹیم کی جانب سے کھیل رہے تھے اور لیگز ٹو میں انہوں نے کراچی کنگز کی نمائند گی کی مگر اگر ان کی پہلے ایڈیشن کے مقابلے میں اس مرتبہ کی کارکردگی پر نظر دواڑئی جائے تو اس مرتبہ انہوں نے کسی بھی میچ میں بڑا سکور نہیں کیا اور ایک بڑا نام شائقین اور ٹیم کی امیدوں پر پورا نہ اترسکا اس طرح لاہور قلندرز کے کپتان برینڈن میکولم کی بات کی جائے جو ہمیشہ اپنی ٹیم کی جانب سے دوسری ٹیموں کے لئے خطرہ سمجھے جاتے رہے اس لیگ میں وہ اس پرفارمنس سے محروم رہے اور اسی وجہ سے شائد ان کی ٹیم بھی اس لیگ میں اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ نہیں کر سکی اور بطور کپتان اور بطور بیٹسمین وہ امیدوں پر پورا نہیں اترے بوپارہ، سنگاکارا اور کیون پیٹرسن بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو ناکام رہے اور اس طرح وہ اپنی اپنی ٹیموں کو وہ کھیل پیش نہ کرکے دکھا سکے جو ان سے امید کی جارہی تھی ۔پی ایس ایل نے نہ صرف قومی اور بین الاقوامی کرکٹ شائقین کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا، بلکہ اس کی بدولت کئی نئے مگر بہت باصلاحیت مقامی کھلاڑی بھی دریافت ہوسکے۔ اس سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے محمد نواز اور بسم اللہ خان اور پشاور زلمی کے محمد اصغر سے کتنے لوگ واقف تھے۔ اس سے پہلے ہم نے اسلام آباد کا ذکر کرکٹ کے حوالے سے کہاں سنا تھا۔ دارالحکومت اور فیصل مسجد سے پہچانا جانے والے اسلام آباد کی کرکٹ ٹیم نے ٹورنامنٹ میں صرف انٹری ہی نہیں کی، بلکہ فائنل معرکہ بھی اپنے نام کیا اور ٹورنامنٹ کے پہلے سیزن کا فاتح قرار پایا۔جبکہ پاکستان سپر لیگ 2017 کے راؤنڈ میچوں میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے جہاں ہار جیت کا مارجن بہت کم رہا جس کے باعث سب سے وکٹوں کے لحاظ سے سب سے بڑی فتح 7وکٹوں سے ہوئی۔پہلے نمبرپر9فروری کودفاعی چمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ نے پی ایس ایل کے افتتاحی میچ میں پشاورزلمی کو 2 گیندیں قبل 7 وکٹوں سے شکست دے کر وکٹوں کے لحاظ سے بڑی فتح حاصل کی۔دوسرے نمبرپر10فروری کوپشاورزلمی نے کراچی کنگزکو 9 گیندیں قبل سات وکٹوں سے شکست دی۔ لیگ بہت خوشگوار یادیں لیکر آج ختم ہوجائے گی مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا میچ کے آغاز میں ہی دو کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے نے اس لیگ کو بہت دھچکہ لگایا اور ان کھلاڑیوں کی وجہ سے جس طرح سے اس لیگ کو پوری دنیا میں بدنامی کا سامنا کرنا پڑا وہ اچھی بات نہیں مگر اس کے بعد جس طرح سے اس لیگ کے منتظمین نے خاص طور پر پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے جو انتظامات کئے اس کے بعد یہ لیگ اس بدنامی سے بچی رہی اور اس طرح مجموعی طور پر یہ لیگ بہت اچھی ثابت ہوئی۔ دوسری جانب پاکستان سپر لیگ میں مصباح الحق کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کا سفر تمام ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ وہ عوامی سطح پر اپنے کیریئر کے متعلق اہم اعلان کب کریں گے کیونکہ انہوں نے گزشتہ ماہ اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ وہ پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی اور فارم کی بنیاد پر مستقبل کا تعین کریں گے۔ پی ایس ایل سے اخراج کے بعد مصباح الحق نے اس بات کی نشاندہی کر دی کہ وہ پاکستان پہنچ کرجلد ہی پی سی بی چیف سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔ جب مصباح الحق سے کھلاڑی یا کپتان کی حیثیت سے ویسٹ انڈیز جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ ان سے کیا سننا چاہتے ہیں کہ بارہا کھلاڑی یا کپتان کی حیثیت سے ویسٹ انڈیز جانے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے جبکہ انہیں محض یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مزید کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہونے سے ملک کا سوفٹ امیج متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں پیغام بھی جائے گا کہ پاکستان ہر وہ کام کر سکتا ہے جس کو کرنے کا ارادہ کر لے۔آج کے میچ کے کامیاب انعقاد کے بعد پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے میچز کے لئے بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان لایا جا سکے گا۔جو کھلاڑی تیسرے ایڈیشن کے لئے ڈرافٹ ہوں گے انہیں یہ پتہ ہو گا کہ پاکستان سپر لیگ کی انتظامیہ اپنے فیصلوں پر عمل کرانا جانتی ہے۔پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں 5ٹیمیں شامل ہیں لیکن جس طرح کا رسپانس دیکھنے میں آیا ہے امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے ایڈیشن میں 7سے 8ٹیمیں دیکھنے کو ملیں گیں۔لاہور میں فائنل میچ کے کامیاب انعقاد سے نہ صرف شائقین کرکٹ کی خوشیاں دوبالا ہوں گیں بلکہ پاکستان سپر لیگ کے قومی کھلاڑی جنہوں نے لاہور کے دھماکے کے بعد فائنل میچ کے دبئی میں کرائے جانے ،کرکٹ بورڈ کو ایسا رسک نہ لینے اور دنیا کے ٹاپ کرکٹرز کے پاکستان میں آ کر نہ کھیلنے پر سوالات اٹھائے تھے ان کو ایک مثبت جواب بھی مل جائے گا۔

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں پشاور زلمی ،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،کراچی کنگز،اسلام آباد یونائٹیڈ اور لاہور قلندر کے درمیان دبئی اور شارجہ میں ہونے والے سنسنی خیز مقابلوں نے جہاں پاکستان سپر لیگ کو ایک برانڈ بنا دیا ہے وہیں رواں ایڈیشن میں میدانوں میں پچھلے سال کی نسبت کئی گنا زیادہ زیادہ شائقین کی تعداد بھی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ پی ایس ایل کی کامیابی کا ثبوت ہے۔اب پاکستان سپر لیگ کا سپر فائنل آج لاہور میں ہو رہا ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ فائنل میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد کتنی ہے یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان سپر لیگ نے پاکستانی کرکٹ کو ایک نیا جذبہ دیا ہے۔لاہور میں ہونے والے فائنل کے لئے جتنی جلدی ٹکٹ فروخت ہوئے وہ بھی ایک ریکارڈ ہے ۔شائقین کرکٹ ٹکٹ مہنگے ہونے کے باوجود روپے لئے سارا سارا دن ٹکٹوں کے حصول کے لئے بنکوں کے باہر نظر آئے بلکہ ٹکٹ نہ ملنے پر مایوس ہونے والوں نے کئی جگہوں پر احتجاج بھی کیاکہ وہ اس میچ کو سٹیڈیم میں دیکھنے سے محروم ہو گئے ہیں ۔آج لاہور میں ہونے والے سیکیورٹی انتظامات شاید پاکستان کی تاریخ کے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات میں سے ایک ہیں ۔آج کے سپر فائنل کے کامیاب انعقاد سے دنیا بھر کو معلوم ہو سکے گا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کے عوام کھیلوں سے بے حد پیار کرتے ہیں بلکہ کھیلوں کے دیوانے ہیں ۔آج کے سپر فائنل میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں سے کوئی ایک ٹیم فتح سے ہمکنار ہو گی لیکن اصل میں یہ میچ کرکٹ کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی جیت ہو گا ۔

مزید : ایڈیشن 1