تیل کے نرخوں میں استحکام کیلئے ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے ‘اے پی بی ایف

تیل کے نرخوں میں استحکام کیلئے ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے ‘اے پی بی ایف

لاہور (کامرس رپورٹر)آل پاکستان بزنس فورم نے ایک ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو بار اضافے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ملکی معاشی ترقی کیلئے نیک شگون نہیں ہے ۔آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ماہ میں دوسری بار جبکہ مسلسل چوتھی بار اضافہ کیا گیا ہے ،ان کا کہنا تھاکہ یہ حقیقت ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے،تاہم ملکی سطح پر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرکے قیمتوں کو مستحکم رکھ سکتی ہے ۔ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرکے عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں کمی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچائے گئے اور اب حکومت کو چاہیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے اقدامات کرے، ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں کمی کے وقت ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرکے عوام کو اس کمی کے ثمرات سے محروم رکھا جاتا ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں معمولی اضافے پر بھی یہ بوجھ فوری طور پر عوام کو منتقل کردیا جاتا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پٹرو ل کی قیمت 71روپے29پیسے لٹر سے بڑھا کر 73روپے اور ڈیزل کی قیمت 1روپے 52پیسے اضافے سے 82روپے لٹر کرنے سے عوام پر بوجھ پڑنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی پڑینگے اور صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا ،ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ سے حکومت پر زور دیتے رہیں کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے اور تیل کے درآمدی بل میں کمی کیلئے متبادل ایندھن کو فروغ دیا جائے ،انہوں نے ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعتوں کیلئے180ارب روپے کے پیکیج پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکسٹائل پیکیج پر موثر اور فوری عملدر آمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔

مزید : کامرس