صنعتوں کیلئے بجلی کے مہنگے نرخ ایکسپورٹ کے فروغ میں روکاوٹ ہیں: جاوید بلوانی

صنعتوں کیلئے بجلی کے مہنگے نرخ ایکسپورٹ کے فروغ میں روکاوٹ ہیں: جاوید بلوانی

کراچی(اکنامک رپورٹر) ویلیو ایڈیڈٹیکسٹائل ایکسپورٹرز چیف کوآرڈینیٹرمحمد جاوید بلوانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹس میں فروغ کی خاطر 5زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے اور علیحدہ ٹیریف متعارف کرائے جائیں۔ صنعتوں کیلئے یوٹیلیٹیز کے مہنگے نرخ ایکسپورٹس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے حکومت کو تجویز دی کی 5 زیروریٹیڈ یکسپورٹ انڈسٹریز کیلئے 7روپے فی یونٹ بجلی نرخ،گیس 400روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، پانی 55روپے فی ہزار گیلن نرخ مقرر کئے جائیں۔پاکستان میں صنعتوں کیلئے بجلی اور گیس کے نرخ خطے میں مسابقتی ممالک کے نرخوں کی نسبت بہت ذیادہ ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی صنعتوں کو سخت مسابقتی چیلنجز کا سامنا ہے۔جاوید بلوانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے اورویلیو ایڈیڈایکسپورٹ سیکٹر قومی خزانے کیلئے سب سے ذیادہ ریوینیو اور زر مبادلہ کا اہم زریعہ ہے۔مذکورہ سیکٹر میں مردوں کے ساتھ ساتھ سب سے ذیادہ خواتین لیبر کی کھپت ہے اور شہریوں کے لئے سب سے ذیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی یہ سیکٹر سرفہرست ہے۔انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اسی طرز پر دیگر یوٹیلیٹز اور معاملات کا بھی اثر پڑتا ہے جس میں گیس و پانی کے نرخوں کے علاوہ ، صنعتی خام مال اور لیبر چارجز بھی شامل ہیں۔

جو خطے میں دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں ذیادہ ہیں۔لہٰذا ایکسپورٹس کے فروغ کی خاطر ایکسپورٹس اورئینٹیڈ انڈسٹریز کی پیداواری صلاحیتوں کو مزید موافق بنانے کیلئے اہم کہ کہ حکومت خطے میں دیگر ممالک میں بجلی، گیس اور پانی کے نرخوں کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ایکسپورٹس کی صنعتوں کے لئے تجویز کردہ نرخ مقرر کرئے۔علاوہ ازیں ایکسپورٹس صنعتوں کو ترجیحی صنعتوں کا درجہ دیتے ہوئے صنعتوں کوترجیحی بنیادوں پر یوٹیلیٹز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ علاوہ ازیں ایکسپورٹ سے وابستہ صنعتوں کو بلا تعطل بغیر لوڈشیڈنگ بجلی ، گیس و پانی فراہم کیا جائے۔ انھوں نے حکومت کی فوری توجہ مبذول کرائے ہوئے کہا کہ بجلی، پانی، گیس کے نرخوں کے ساتھ لیبر چارجز میں بھی کمی خطے میں مسابقتی منڈیوں اورعلاقائی ممالک میں رجحانات کے مطابق غور طلب ہیں۔انھوں نے موازنہ پیش کرئے ہوئے بتایا کہ خطے میں بنگلہ دیش میں صنعتوں کیلئے گیس کے نرخ2.46ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو، بھارت میں 4.66ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو، جبکہ پاکستان میں 5.76ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے اور گیس انفرا سٹرکچرسرچارجGIDCکو شامل کیا جائے تو 6.72ڈالر زفی ایم ایم بی ٹی یو کا ٹیرف خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں اور اسی تناسب سے پاکستان کے صنعتی گیس ٹیریف بنگلہ دیش سے 173فیصد اور بھارت سے44فیصد ذیادہ ہیں۔اسی طرح بنگلہ دیش میں بجلی کے نرخ تقریباً0.096ڈالر فی کلو واٹ، بھارت میں0.96ڈالر فی کلو واٹ اور جبکہ پاکستان میں 0.114ڈالر فی کلوواٹ ہیں اور اس طرح پاکستان بجلی کے نرخ بنگلہ دیش اور بھارت کے بجلی کے نرخوں کی نسبت 19فیصد ذیادہ ہیں۔ اگر لیبر چارجز کا جائزہ لیا جائے توکم ازکم لیبر چارجز ماہانہ بنیادوں پر بنگلہ دیش میں 68ڈالرزاور بھار ت میں 115ڈالرز ہیں جبکہ پاکستان میں یہی لیبر چارجز ماہانہ بنیادوں پر 135ڈالرز متعین کئے گئے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ سالانہ تعطیلات بھی صنعتوں کی پیداواری لاگت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایکسپورٹس سے وابستہ صنعتوں کے لئے وفاقی حکومت علیحدہ سالانہ تعطیلات متعین کرے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اضافی تعطیلات کا اطلاق ایکسپورٹس سے وابستہ صنعتوں پر نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت کے تعین کردہ ایکسپورٹس اہداف کی تکمیل کیلئے ناگزیر ہے کہ صنعتوں کی پیداواری صلاحیتوں کو موافق بنانے کیلئے بجلی، گیس ، پانی اور دیگر صنعتوں عوامل کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی کی جائے اور ان کی فراہمی بلا تعطیل یقینی بنائی جائے ۔ علاوہ ازیں اربوں روپے کے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز بھی تاحال حکومت نے ادا نہیں کئے جس کے سبب مالی مسائل الگ ہیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ اسٹیٹ بنک جس طرح اوپن مارکیٹ سے ڈالرز کی خریداری کرتا ہے اسی طرز پرحکومت ایکسپورٹرز کو اجازت دے کہ وہ اپنی export proceedsمیں سے 50فیصد ڈالرز کی اوپن مارکیٹ میں فروخت کر سکیں جس کے سبب اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک ریٹس کا فرق کم ہو جائے گا۔ انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اضافی پیداواری لاگت اور بڑھتے ہوئے liquidity crunchکی وجہ سے ماضی میں 15تا 20فیصد کی شرح سے ترقی کرتی ہوئی ،حالیہ مختلف چیلنجز کا سامنا کرتی ایکسپورٹ انڈسٹری کہیں زوال کا شکار نہ ہوجائے ۔اگر ایسا ہوا تواس کی بحالی ناممکن ہو گی کیونکہ موجودہ حالات میں ایکسپورٹس کی کمی کے ساتھ ساتھ ہوم ریمینٹس میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور امپورٹس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔لہٰذاحکومت نے جنگی بنیادو ں پر اقدامات نہ کئے تو صنعتوں کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت مزید زوال پزیر ہوجائے گی۔ حکومت کے حالیہ اعلان کردہ ایکسپورٹ پیکج پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت نے یارن کی ایکسپورٹ پر ریبٹ د ینے کا علان کیا ہے جو حکومت کی بڑی غلطی ہے۔اس اقدام کا فائدہ بین الاقوامی ویلیو ایڈیڈ صنعتوں کو جو پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹ صنعتوں کے ساتھ مسابقت میں ہیں ہوگا جنھیں اپنے ممالک میں مقامی صنعتوں سے کم قیمت پر یارن دستیاب ہے۔اس امر سے پاکستان ایکسپورٹس سیکٹر کے بین الاقوامی مسابقت والے ممالک کو زیادہ فائدہ ہو گااور پاکستان ایکسپورٹ انڈسٹریز پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انھوں نے اس ضمن میں تجویز دی کہ حکومت یارن کی ان ڈائریکٹ ایکسپورٹ یعنی پاکستان مقامی ایکسپورٹ صنعتوں کو یارن کی فروخت پر ریبٹ دے۔ جس سے پاکستان کی یارن بنانے والی صنعتوں کے ساتھ ایکسپورٹ کرنے والی صنعتوں کی یکساں فوائد حاصل ہوں گے اور پاکستان کا خام مال بھی ملک میں ہی استعمال ہو گا ۔اسی طرح انھوں نے تجویز دی کہ گذشتہ سال کی ایکسپورٹس پر10فیصد اضافے کے بجائے حکومت ایکسپورٹ کی شپمنٹس ٹیکسوں کی مد میں ڈیوٹی ڈرا بیک برائے سال2017-18جاری رکھے۔ انہوں نے5 زیروریٹیڈ ا ایکسپورٹ انڈسٹریزکی پیداواری صلاحیتوں اور سازگار کاروباری مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت سے ٹھوس اقدامات عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا کہ صنعتکاربرادری ٹیکسوں کی بھرمار اور زائد پیداواری لاگت کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے کاروبار و صنعت کو ترقی حاصل ہواور ملک کی معیشت کی عملی معنوں میں استحکام حاصل ہو سکے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...