جام پور ‘مبینہ پولیس تشدد سے 50 سالہ شخص کی ہلاکت ‘ ورثاء کا احتجاج

جام پور ‘مبینہ پولیس تشدد سے 50 سالہ شخص کی ہلاکت ‘ ورثاء کا احتجاج

جام پور (نامہ نگار )لاہور اور کوٹ چھٹہ پولیس کی جام پور تھانہ کی حدود میں کاروائی ٗ مبینہ تشدد سے 50سالہ حافظ قرآن جاں بحق ٗ ورثاء کا پوسٹمارٹم کے بعد نعش ہسپتال میں رکھ کر شدید احتجاج ٗ لاہور پولیس نے لاہور سے فرار ہونیوالی ایک لڑکی کے سہولت کار کے شبہہ میں گزشتہ رات کوٹ چھٹہ پولیس (بقیہ نمبر14صفحہ7پر )

کے ہمراہ تھانہ صدر جام پور کی حدود خانپور منجوالہ میں ایک گھر میں کاروائی کرتے ہوئے حافظ قرآن محمد بلال احمدانی اور اس کے ایک بھائی کواٹھا لیا جسے پولیس چوکی خانپور منجوالا میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیابعد ازاں تھانہ صدر جام پور کی حدود کے باعث لاہور پولیس کی آمد روانگی تھانہ صد ر جام پور سے کرنے کے لئے حافظ قرآن کو بھی تھانہ صدر جام پور منتقل کیا گیا جہاں رات گئے اس کی حالت غیر ہوگئی تومبینہ طور پر اس کے بھائی کو ایک چٹی دلال کی مداخلت پر چھوڑ دیا گیاجبکہ حافظ بلال کو تشویشناک حالت کے پیش نذر ٹی ایچ کیو ہسپتال جام پور داخل کرایا گیا جہاں پر وہ زندگی کی بازی ہار گیا ۔ حافظ قرآن کی ہلاکت کے بعد پولیس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وقوعہ کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ۔ تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء نے پولیس کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے تک نعش وصول کرنے سے انکار کردیا ۔ اس دوران ایس ایچ تھانہ کوٹ چھٹہ سید اعجاز حسین بخاری ٗ ایس ایچ او محمد پور دیوان حافظ غلام فرید ٗ ایس ایچ او تھانہ داجل قیصر حسنین سمیت سٹی وصدر تھانہ جام پور کے ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پی جام پور آصف رشید بھی ہسپتال پہنچ گئے اور لواحقین سے مذاکرات کئے لیکن لواحقین پولیس کی ایک بھی ماننے سے انکار کیا تو پولیس نے اپنے دیرینہ معاونین ڈاکٹر مختیار احمدانی اور چیئر مین یونین کونسل کوٹ جانوں قمر احمدانی کو لواحقین سے مذاکرات کا ٹاسک دیا جنہوں نے لواحقین کو قائل کیا تاہم خانپور منجوالا چوکی کے انچارج شاہد منظور اے ایس آئی سمیت 14/15اہلکاروں کیخلاف تھانہ صدر جام پور میں مقتول کے سالے غلام عباس کی مدعیت میں زیر دفعہ 452کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا جس کے بعد لواحقین نعش کو تدفین کے لئے لے جانے پر رضا مند ہوگئے ۔ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ لاہور سے بھاگنے والی لڑکی کے آشناء کا موبائل ڈیٹا حاصل کیا گیا تھا جس میں لڑکے کا مقتول حافظ قرآن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ تھا اس طور سہولت کار ہونے کے شبہہ میں مقتول حراست میں لیا گیا تھا ٗ پولیس کسٹڈی میں اسے دل کا دورہ پڑا جسے فوری طورپر ہسپتال داخل کراگیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔دریں اثناء اہلیان علاقہ کے مطابق مقتول ماہر عملیات تھے یوں کافی لوگ اس سے رابطے میں رہتے تھے۔انہوں نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر