فوجی عدالتوں پر پیپلز پارٹی کی اے پی سی بے نتیجہ ختم

فوجی عدالتوں پر پیپلز پارٹی کی اے پی سی بے نتیجہ ختم

اسلام آباد(آن لائن۔ آئی این پی)پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی زیر قیادت فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بے نتیجہ ختم ہوگئی ، بیشتر جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی بحالی کی مخالفت کی،سابق صد ر آصف علی زرداری نے کہا ہے اگر یہ عدالتیں قائم کر نا ہی پڑیں تو اس کے لئے نیا قانون بنایا جائے تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، ملزموں کا منصفانہ ٹرائل یقینی بنایا جائے اور اسے سیاسی انتقام کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے،اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کے قیام کی صورت میں قانونی مسودہ فوری تیار کرنے کی ذمہ داری سینیٹر فاروق نائیک کو سونپ دی گئی ہے ۔ اس اے پی سی میں 13سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں اور نمائندوں نے شرکت کی، مسلم لیگ ن مدعو نہیں تھی۔ ، کل جماعتی کانفرنس کے ایجنڈا میں فوجی عدالتوں کی بحالی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، قبائلی علاقوں کے لئے اصلاحات اور پختونوں کی ملک کے مختلف علاقوں میں پروفائلنگز کے معاملات شامل تھے ۔آصف زرداری نے سید خورشید احمد شاہ اور اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ اس قانونی مسودے کی تجاویز دیگر سیاسی پارٹیوں کو مہیا کریں۔ فاٹا اصلاحات کے متعلق آصف علی زرداری نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات سب سے پہلے پیپلزپارٹی نے شروع کی تھیں۔ اصلاحات کے عمل کا راستہ ہموار کیا اور ایف سی آر کی اصلاحات کی بات کی کہ وہاں سیاسی پارٹیاں آزادانہ طور پر کام کر سکیں اور اس کے لئے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کو فاٹا تک توسیع دی۔ ان اصلاحات پر عملدرآمد پانچ سال کی تاخیر حکومت کی غیرسنجیدگی ظاہر کرتی ہے یہ قبائلی علاقوں کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ انہوں نے فاٹا اصلاحات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کی مختلف شقوں پر عملدرآمد نہ کرنے کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کا احتساب کیا جائے۔ کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوجی عدالتوں سے متعلق پیپلزپارٹی کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہ صرف دہشتگرد تنظیموں اور گروپوں کا سرسری ذکر ناکافی ہے اور فوجی عدالتوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے جو شرائط ہیں ان کو بھی بیان کیا۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کے منصفانہ ٹرائل یقینی بنانا شامل ہےْ ملزم کو اس کی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔ ملزم کو اپیل کرنے کا حق ہے اور فوجی عدالتوں میں مبصر کی منظوری ضروری ہے۔ کہ اس بات پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ سکہ بند دہشتگرد کی تعریف کیا ہے اور جن 161افراد کو پھانسی دی گئی تھی ان میں کتنے سکہ بند دہشتگرد تھے۔ ان میں کتنے ملزموں کو مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دی گئی، کتنے لوگوں نے الزام کو ماننے سے انکار کیا اور فیصلے اور شہادتوں کی نقل فراہم کی گئی یا نہیں؟ کتنے لوگوں کو بغیر ثبوت کے صرف اعترافی بیان پر پھانسی دی گئی اور اس بات کو کہاں تک یقینی بنایا گیا کہ اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل نہیں کئے گئے؟ فوجی عدالتیں کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے مسئلے سے ہٹانے کے لئے قائم کی جارہی ہیں یہی یہ وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ فاٹا میں صدر کا حکم اور ایف سی آر برطانوی نظام کا حصہ ہے اور ریفارم کے پیکیج میں اس کالونیل ڈھانچے میں ختم کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ایف سی آر کے متبادل رواج ایکٹ کو ابھی تک سامنے نہیں لایاگیا اور پارٹی نے مطالبہ کیا کہ رواج ایکٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے لیا جائے تاکہ پارلیمنٹ فاٹا میں قانون سازی کر سکے۔ رواج ایکٹ متعارف کرانے اور فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے سے صوبے میں تین قوانین بیک وقت لاگو ہوں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں پارٹی موقف کو دہرایا۔اے پی سی میں شرکت کرنے والے رہنماؤں میں پی ایم ایل(ق) کے چودھری شجاعت حسین، جے یوآئی(ف) کے مولانا فضل الرحمن، قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاؤ، اے این پی کے غلام احمد بلور، جماعت اسلامی کیسراج الحق، فاٹا کے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی، بی این پی عوامی کے اسرار اللہ زہری، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سید شجاعت بخاری اور مجلس وحدت المسلمین کے علامہ راجہ ناصر عباس شامل تھے۔آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ پی پی پی کی ٹیم میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، سینیٹ کے سابق چیئرمین اور قانونی ماہر فاروق نائیک، سینیٹر شیری رحمن، پی پی پی کے سیکریٹر جنرل سید نیر حسین بخاری، سینیٹر سردار علی خان، سینیٹر قیوم سومرو، سابق صدر کی پولیٹیکل سیکریٹری رخسانہ بنگش اور پی پی پی پی کے سیکریٹر جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر شامل تھے ۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف اور بلوچ رہنماؤں نے بائیکاٹ کیا۔ مسلم لیگ ن کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

مزید : صفحہ اول