سی پیک کے تحت چین سے 45 بلین کے منصوبے سائن کئے ،مشتاق غنی

سی پیک کے تحت چین سے 45 بلین کے منصوبے سائن کئے ،مشتاق غنی

مانسہرہ (بیورورپورٹ) صوبائی مشیر اطلاعات مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں کرپشن اور چوری کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں تعلیم اور صحت کے محکموں میں بڑی تبدیلی لے کر آئے ہیں ، ہزارہ سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ میں سی پیک کے تحت چین کے ساتھ 45 بلین کے منصوبے سائن کئے ہیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت چین میں روڈ شو کا انعقاد کر رہی ہے،اس صوبے میں مذہبی جماعتوں کی حکومت بھی آئی مگر اسلامی نظام پر مبنی آئین ہم نے بنائے اسکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دیاسرکاری محکموں میں نماز کے دوران وقفہ اور مذہبی تعلیم اور مذہبی ڈائریکشن کے مطابق حکومت چلا رہے ہیں، ڈومیسٹک سُود پر پابندی لگائی،رایئٹ ٹو انفارمیشن اور رائیٹ ٹو سروس ایکٹ ہم لے کر آئے ، صوبائی حکومت نے صوبے سے 15 لاکھ غیر قانونی افغانی مہاجرین کو نکالا ، افغانستان سے ہے35سال کی مہمان نوازی کا افغانستان نے اچھا صلہ دیا ہمارے ازلی دشمن بھارت کو اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کرنے کے لیے دے دی، ا فغانستان میں نیٹو کی ناک کے نیچے پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے بن رہے ہیں عالمی برادری نوٹس لے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مانسہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تحصیل ناظم مانسہرہ خرم خان اور تحریک انصاف ضلع مانسہرہ کے صوبائی صدر بابر سلیم سواتی بھی موجود تھے ۔ مشتاق احمد غنی نے مانسہرہ پریس کلب کے صدر مسعود شوق کو صوبائی حکومت کی طرف سے ساڑھے سات لاکھ روپے کا چیک پیش کیا اور صحافیوں کو انصاف صحت کارڈ میں شامل کرنے اور اگلے مرحلے میں مزید 7ارب سے پورے کے پی کے عوام کو صحت انصاف کارڈ دینے کا اعلان کیا ۔ مشتاق غنی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے کرپشن کا دور دورا تھا۔ نوکریوں کو بولیاں لگتی تھیں ٹینڈر اور ٹرانسفر تک کے بھی پیسے لیے جاتے تھے،سب حکومتیں ایسی ہی گزری ہیں مگر آخری حکومت نے تو کرپشن کی انتہا ہی کر دی تھی رولز آف لاء اور میرٹ تو ان کی ترجیحات ہی نہیں تھیں، ہم نے بھرتیوں کیلئے این ٹی ایس سسٹم متعارف کرایا اور این ٹی ایس اور ایٹا ٹیسٹ کے زریعے شفاف طریقہ سے کے پی میں 45ہزار سے زائد نوکریاں دیں جس میں کوئی سیاسی رشوت ،سفارش یا پارٹی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا خالصتاََ میرٹ پر تمام پارٹیوں اور مکتبہ فکر کے لوگوں کو بلا تفریق انکی قابلیت پر نوکریاں دینا پی ٹی آئی کا کارنامہ ہے۔ پولیس او رمحکمہ مال سمیت تمام محکموں میں اصلاحات لے کر آئے۔ ویلج کونسلوں کے ذریعے اقتدار نچلی سطح پر منتقل کیا اب ایک ویلج کونسل میں ایک کروڑ تک بھی فنڈ دیا جا رہا ہے۔ صوبے میں سود کی لعنت ختم کی۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی نے ریکارڈ 130 بل پاس کیے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون متعارف کروا کر شفافیت کی راہ ہموار کی انہوں نے کہا کہ صوبے میں ڈاکٹروں کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ مقرر کی۔ دو کمروں کے سکول ختم کر کے سکولوں کے پندرہ ہزارہ نئے کمرے بنائے۔ اساتذہ کی 35 ہزارہ نئی آسامیاں پیدا کیں۔جبکہ سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر ہونے کی وجہ سے پچھلے سال 35ہزار اسٹوڈنٹس نے پرائیویٹ اسکول چھوڑ کر سرکاری اسکولوں میں داخلہ لیا ،ہم سے قبل 21لاکھ بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے ہم آگرہ محل تو نہ بنا سکے مگر 15لاکھ بچوں کو فرنیچر فراہم کیا ، بورڈ آف گورنس کے ذریعے ہسپتالوں کو خود مختاری دے رہے ہیں اور اس بات پر یقین ہے کہ ہماری اصلاحات کو دیکھتے ہوئے اگلی بار بھی کے پی میں ہماری ہی حکومت بنے گی کیونکہ ہم نے فرسودہ سسٹم کے خلاف جنگ کی ہے اور غریب کو امپاور کیا ہے، مشتاق احمد غنی نے کہا کہ صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کا ہدف اس سال پورا کر لیں گے جس کی مانیٹرنگ انٹرنیشنل ادارہ WWF کر رہا ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت پورے پاکستان میں صرف 10 کروڑ درخت لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مشرقی پاکستان کی تاریخ دھرانے سے گریز کرے۔ ہر پختون دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ دہشت گرد کی کوئی قوم نہیں ہوتی۔ نفرت اور تعصب کا خاتمہ مل جل کر کیا جائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...