صوبہ خیبر پختونخوا کی دلیر پولیس فورس کی سربراہی پر فخر ہے ،ناصر خان درانی

صوبہ خیبر پختونخوا کی دلیر پولیس فورس کی سربراہی پر فخر ہے ،ناصر خان درانی

مانسہرہ ( بیورورپورٹ)آئی جی پی صوبہ خیبر پختونخواہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہی پالیسی رہی ہے کہ وہ خود ہر ضلع میں جا کر دربار کریں ، پولیس کے ملازمین کے مسائل سن کر ان کا فوری حل تلاش کرنے کیلئے CPOمیں باقاعدہ کمیٹی تشکیل دے کر خود نگرانی کی۔ انھوں نے اظہار کیا کہ انھیں فخر ہے کہ وہ ایک دلیر و بہادر فورس کی کمان ملی اور سروس کا اختتام بھی اسی صوبہ سے ہو رہا ہے ۔ مزید بتلایا کہ وہ پنجاب کے آٹھ اضلاع کی کمان کر چکے ہیں اور سب سے زیادہ عرصہ راوالپنڈی میں بطورِ RPOمختلف سیاسی حکومت ہائے PML(Q), PML(N), PPPکے دور میں رہے ہیں۔ انھوں نے کوئی سفارش وغیرہ نہ تو اپنے لئے کی ہے اور نہ ہی سیاسی دباؤ کے پیش نظر کوئی کام کیا ۔ مزید بتلایا کہ انھوں نے خیبر پختونخواہ میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ کنسٹیبل سے لے کر ایڈیشنل IGPتک صوبائی سربراہ پولیس خود ٹرانسفر پوسٹنگ کر سکتا ہے۔ اور کسی بھی پولیس افسر کو سیاسی منت سماجت کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔شروع شروع میں PSOصاحب کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان کا موبائل نمبر تمام فورس کو دیں تا کہ فورس کے مسائل برائے راست مجھ تک پہنچیں اور ان کا حل تلاش کرنے کیلئے کمیٹی نے انتھک محنت کرنے کے بعد حل کیا گیا۔ محکمہ پولیس کی بہتر ٹریننگ کیلئے دو کی بجائے چار سکول قائم کئے گے اور بھرتی کا نظام NTSکو شرائط پر دیا گیا کہ وہ باقاعدہ بھرتی کی آڈیو و ویڈیو بھی فراہم کریں۔ اس طرح دوران بھرتی رشوت، سفارشات کا خاتمہ کیا گیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب محکمہ پولیس میں تعلیم یافتہ بھرتیاں ہو رہی ہیں ۔ اسی طرح سال میں ایک کی بجائے چار پروموشن بورڈ منعقد کرنے کا احتمام کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے تین سال کے اندر اندر 52 SsPپروموٹ ہو چکے ہیں ۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مزید بہتر پالیسی، دلیری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹریننگ ، Skillsکیلئے تربیت دی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس کو جدید آلات سے آراستہ کیا جا رہا ہے ۔ پولیس افسران کو ہدایت کی گی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے طریقے پر اسی طرح عوام کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔ جس کا والی وارث کوئی نہ ہو تو آپ یہی سمجھیں کہ اسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور اس کا انعام بھی اللہ تعالیٰ خود دیں گے۔ جب بھی کوئی ایشو آپ کے سامنے آئے تو اس کے اوپر سوچیں اور اپنے علم اور صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے عمل درآمد کریں ۔جھوٹے مقدمات خاص کر اسلحہ ومنشیات کی ریکوری کے فگرسے اجتناب کیا جائے ۔ اور کسی غریب شہری کے اوپر ڈال کر اس کا مستقبل تباہ نہ کیا جائے۔ موجودہ DRC/PLCsکے ساتھ کام کرنے کے نتیجہ میں کرائم پچھلے آٹھ سالوں سے کم ہے اور اسی طرح جرائم برخلاف مال میں 67%کمی آئی ہے۔ اور اغواء برائے تاوان و دیگر اغوائیگی صوبہ میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرب عصب میں پاک فوج کا قبائیلی علاوہ جات میں قلیدی کردار رہا ہے اور جو دہشت گرد بھاگ کر افغان چلے گے اور کچھ Settled ایریا میں چھپ گے جن کے خلاف کاروائی کی گی اور 1192 Millitentsکونہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ان سے اسلحہ کی برآمدگی کر کے چالان عدالت بھی کیا گیا۔ اسی پالیسی کو آئیندہ بھی جاری رکھا جا کر خیبر پختونخواہ پولیس کا نام روشن رکھا جائے۔ آخر میں پولیس چیف نے ہزارہ ریجن کے پولیس افسران کی اعلیٰ کارکردگی پر تعریفی اسناد سے نوازا۔

مزید : کراچی صفحہ اول