مدارس کے طلباء نے استحکام پاکستان کیلئے قربانیاں دیں،سینیٹر حمد اللہ

مدارس کے طلباء نے استحکام پاکستان کیلئے قربانیاں دیں،سینیٹر حمد اللہ

کلر سیداں(تحصیل رپوٹر)مرکزی رہنما جمعیت علماء اسلام (ف) سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ موجودہ زمانہ فساد کا زمانہ ہے ،علماء کو محب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے والے آج اسے دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔مدارس اور اس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء نے استحکام پاکستان کیلئے قربانیاں دیں۔سیاسی و غیر سیاسی اشرافیہ دولت اور سرمائے کے بل بوتے پر ہم پرمسلط ہے۔نااہل حکمران پاکستان کی سیاست اور معیشت پر قابض ہیں جس کی وجہ سے ملک میں جھوٹ اور منافقت کی سیاست عروج پر ہے۔ہمارا جغرافیہ اور نظریہ غیر ملکی قوتوں کے نشانے پر ہے،ہمیں اسلام اور اپنے مذہب سے دور رکھنے کی ناپاک سازشیں ہو رہی ہیں۔ہم کام کی بجائے نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سہوٹ حیال میں جامعہ مسجد گلشن محمدی میں استحکام مدارس دینیہ پاکستان کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔تقریب کی صدارت مولانا احسان اللہ چکیالوں نے۔تقریب میں امیر جمعیت پنجاب ڈاکٹر قاری عقیق الرحمان،ضلعی امیر مولانا تاج محمد،جنرل سیکرٹری تحصیل کلر سیداں راجہ ضیاء بشیر،مولانا عبدالغفار توحید،ڈاکٹر ضیاء الرحمان،چےئرمین حضرات راجہ ندیم احمد،ماسٹر راجہ پرویز اختر قادری،راجہ صفدر کیانی،راجہ ثقلین،نمبردار راجہ اسد عزیزسمیت علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔سینیٹر حافظ حمد اللہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ،علماء کے پاس بندوق نہیں مبر زبان اور دلیل ضرور ہے مگر اس کے باوجود ہمیں انتہاء پسندی کا درجہ دے کر ہمیں پوری دنیا کیلئے خطرہ قرار دے دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ دینی مدرسہ واحد ایسا ادارہ ہے جہاں ہمیشہ جھوٹ نہ بولنے کا درس دیا جاتا ہے جبکہ پارلیمنٹ میں 62،63 کی باتیں ہوتی ہیں،مدارس کو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے،ملک میں بد امنی کی وجہ مدارس نہیں ہمارے حکمران ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹائی پتلون ،مونچھوں اور ڈنڈے والے طبقوں نے اس ملک پر قبضہ کر رکھا ہے۔انہوں نے محمود الرحمان کمیشن رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تین شخصیات جن میں ایک جنرل بھی شامل ہے ملک کو دو لخت کرنے کے اصل ذمہ دار ہیں مگر اس کے باوجود ملک توڑنے والے کو وفادار قرار دے دیا گیا۔آج غیروں کی جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے جس کے نتیجہ میں 70 ہزار سے زائد مسلمان لقمہ اجل بنے۔را اور انڈیا کو ذمہ دار قرار دینے کے باوجود چھاپے مدرسوں پر مارے جارہے ہیں۔نظریہ پاکستان کی بنیاد پر لاکھوں افراد نے قربانیاں دیں، مصیبت آنے پر ایک بھی سیاست دان ملک میں نظر نہیں آئے گا ،سب اپنی اپنی ٹکٹیں کٹوا کر بیرون ملک فرار ہو جائیں گے۔انہوں نے شیخ رشید کو خودکش سیاست دان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈالروں کے عوض ایمان کا سودا کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے،ملک میں دہشت گردی کا سبب یہی حکمران ہیں۔کراچی میں بد امنی پھیلانے کی چار پارٹیاں ذمہ دار ہیں جنہیں سابق صدر پرویز مشرف کی سر پرستی حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک پاکستان 23 ہزار ارب کا مقروض ہے جبکہ نومولود بچہ ایک لاکھ 15 ہزار روپے کے قرضے کا بوجھ لے کر دنیا میں آتا ہے،سری لنکا،بوٹان،مالدیب اور انڈیا میں خواندگی کی شرح 90 فیصد جبکہ پاکستان میں 6فیصد ہے۔ایک ماہ قبل دو سو ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا 198 واں نمبر تھا کیا اس کے ذمہ دار بھی علمائے کرام اور ہمارے مدارس ہیں۔علماء ملک کو مضبوط کرنے کی جدو جہد کرنے میں مصروف ہیں مگر اسے شدت پسند اور جہادی تنظیموں کیساتھ منسلک کرنا سراسر زیادتی ہے۔روس افغانستا ن میں حملہ کر کے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا تھا،اس کا ہدف کراچی اور گوادر تھا مگر اس کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔امیر جماعت پنجاب صاحبزادہ ڈاکٹر عتیق الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیکی سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے،جہاں برائی کثرت سے ہو وہاں برائی جنم لیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علماء اگر بے علم بھی ہوں تب وہ ملک اور معاشرے کیلئے نقصان کا باعث نہیں بنتے۔علماء اور مدارس گھر گھر نیکی پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچے جب دینی تعلیم حاصل کرنے گھر سے نکلتے ہیں تو فرشتے ان کے پاؤں چومتے ہیں۔بچے کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتے مگر اس کے باوجود ہم نے دہشت گردی کے طعنے برداشت کئے ،ہمیں وظیفہ خور کہا جاتا ہے مگر اس کے باوجود اللہ کی کتاب سے تعلق نہیں چھوڑا۔انہوں نے کہا کہ قیامت والے دن حافظ بچے کو کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے دروازے چڑھتا جا۔قیامت کے دن حافظ کی سفارش کو رد نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سکیولر اور لادینی طبقے کچھ بھی کہیں ہمیں پرواہ نہیں،ہم اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی اور کی کوئی پرواہ نہیں۔ہماری واحد جماعت ہے جو عقیدے کا تحفظ کر رہی ہے۔تقریب کے اختتام پر نو طلباء میں دستار بندی کی گئی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر